حدیث

رسول الله ﷺ نے ایک دفعہ بطور ہدی (قربانی کے لیے بیت اللہ شریف کی طرف) بکریاں بھیجی تھیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «أَهدَى رسول الله صلى الله عليه وسلم مَرَّةً غَنَمًا».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول الله ﷺ نے ایک دفعہ بطور ہدی (قربانی کے لیے بیت اللہ شریف کی طرف) بکریاں بھیجی تھیں۔

تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی ہدی کے بارے میں بتا رہی ہیں۔ ہدی سے مراد وہ جانور ہے، جو مکہ کی طرف اللہ کی خوش نودی کے حصول کے لیے بھیجا جاتا ہے؛ تاکہ اسے حرم میں ذبح کیا جائے۔ مکہ مکرمہ کی طرف ہدی کا جانور بھیجنا سنت اور نیکی کا کام ہے۔ نبی ﷺ نے بطور ہدی بھیڑ بکریاں بھی بھیجیں اور اونٹ بھی۔ سنت یہ ہے کہ اللہ کی خوش نودی کی غرض سے ان جانوروں کو حرم میں ذبح کیا جائے اور فقرا اور مساکین حرم میں تقسیم کر دیا جائے۔ وہ ہدی جو حج تمتع یا حج قران یا پھر واجبات میں سے کسی واجب کو ترک کرنے یا پھر کسی حرام کا ارتکاب کرنے لینے کی وجہ سے لازم ہوتی ہے، اسے فدیہ کہا جاتا ہے۔ یہ ہدی واجب ہوتی ہے۔ جب کہ وہ ہدی جس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا ہے، اسے مؤمن اپنے علاقے سے بطور نفل پیش کرتا ہے یا پھر راستے میں اسے خریدتا ہے اور حرم کعبہ تک پہنچا دیتا ہے اور اس سے اس کی نیت اللہ عز و وجل کی خوش نودی ہوتی ہے۔

تشریح: العربية

تخبر عائشة رضي الله عنها عن هدي النبي صلى الله عليه وسلم ، والهدي هو ما يُهدى إلى مكة من بهيمة الأنعام، تقرباً إلى اللَّه عز وجل ، ليذبح في الحرم، والهدي إلى مكة سُنة وقربة، وقد أهدى النبي صلى الله عليه وسلم غنماً، وأهدى إبلاً، فالسُّنة ذبحها في الحرم تقرباً إلى الله عز وجل ، وتوزَّع بين الفقراء والمساكين: مساكين الحرم، أما الهدي الذي يجب بالتمتع، والقران، أو بشيء من ترك الواجبات، أو فعل المحرمات، فيُسمَّى فدية وهو هدي واجب، أما هذا الهدي الذي ذكرت عائشة فهو هدي يتطوع به المؤمن من بلاده، أو يشتريه من الطريق ويهديه إلى هناك هدياً بالغ الكعبة يتقرب به إلى الله عز وجل .

  • جواز إهداء الغنم إلى البيت الشريف.
  • الأكثر من هديه -صلى الله عليه وسلم- إهداء أفضل الهدايا والأموال عند العرب، وهي الإبل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید