حدیث

نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان أخوانِ على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وكان أحدُهما يأتي النبي صلى الله عليه وسلم والآخر يَحتَرِف، فَشَكَا الُمحتَرِف أَخَاه للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: «لعَلَّك تُرزَقُ بِهِ».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو“۔

تشریح

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو آپ ﷺ کی مجلس میں آیا کرتا اور علم کے حصول اور آپ ﷺ کے اقوال و افعال سیکھنے کے لیے ہمہ وقت آپ ﷺ کے ساتھ رہتا، جب کہ دوسرا کوئی کام کاج کرتا اور روزی کماتا تھا۔ اس کام کاج کرنے والے نے نبی ﷺ کے حضور اپنے بھائی کی شکایت کی کہ وہ کام نہیں کرتا۔ اس پر آپ ﷺ نےا سے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی دیکھ بھال اور کفالت کرنا تمھارے لیے تمھارے رزق کے حصول میں آسانی کا باعث ہو۔ کیوں کہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے، تب تک اللہ بھی اس کی مدد میں رہتا ہے۔

تشریح: العربية

حدَّث أنس رضي الله عنه فقال: كان أخوان على زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فكان أحدهما يأتي مجلس النبي صلى الله عليه وسلم ويلازمه ليتلقى من معارفه ويأخذ من أقواله وأفعاله، وأمَّا الآخر فيحترف الصناعة ويسعى في الكسب، فشكا المحترف أخاه في ترك الاحتراف إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال صلى الله عليه وسلم مسليًا له: لعل قيامك بأمره سبب لتيسير رزقك؛ لأن الله في عون العبد ما كان العبد في عون أخيه.

  • جواز إظهار الشكوى لولي الأمر.
  • تعظيم أمر الدين أكثر من أمر الدنيا.
  • من انقطع لطلب العلم والتفقه في أحكام الدين؛ لحفظ شريعة الله، فإن الله يهيء له من يقوم بشؤونه ويكفيه حاجاته.
  • الترغيب في مساعدة أهل العلم.
  • يُرزق الإنسان بسبب من يعيلهم.
  • تنبيه على أنَّ العبد يرزق بغيره، كما في الحديث الآخر: «وهل ترزقون - أو قال: تنصرون - إلا بضعفائكم».

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید