حدیث

اچھے ہم نشیں اور برے ہم نشیں کی مثال بعینہ ایسی ہی ہے جیسے کہ عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي مُوسَى رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً».

ترجمہ

ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "اچھے ہم نشیں اور برے ہم نشیں کی مثال بعینہ ایسی ہی ہے جیسے کہ عطر فروش اور بھٹی پھونکنے والا۔ عطر فروش یا تو تمہیں عطر تحفے میں دے دے گا یا پھر تم اس سے عطر خرید لو گے یا ( کم از کم )تمہیں اس سے خوش بو تو آئے گی ہی۔ جب کہ بھٹی میں پھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا ڈالے گا یا پھر تمہیں اس سے بدبو آئے گی۔"

تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے دو قسم کے لوگوں کی ایک مثال دی ہے: پہلی قسم : صالح ہم نشیں اور دوست، جو اللہ اور اس کی رضا کے کاموں کی راہ دکھائے اور نیکی کے کاموں میں معین و مددگار ہو۔ اس کی مثال خوشبو بیچنے والے کی طرح ہے۔ وہ یا تو ہدیہ کرے گا یا تم اس سے خرید لوگے یا کم از کم اس کی خوشبو تمھارے مشام جاں کو معطر کرے گی۔ دوسری قسم : برا دوست اور ہم نشیں، جو اللہ کی راہ سے روکے، گناہ کے کاموں میں مدد کرے اور برے برے کام کرے اور اس کى صحبت اور دوستى سے اس کے ہمنشیں اور دوست کو مذمت لا حق ہو۔ ایسے دوست کی مثال اس لوہار کی طرح ہے، جو بھٹی پھونکتا رہتا ہو۔ وہ یا تو اڑتی ہوئی چنگاریوں سے تمھارے کپڑے جلا دے گا یا پھر اس کی بھٹی کی بدبو سے تمہاری طبیعت مکدر ہوتی رہے گی۔

فوائد

  • سامع کو کوئی بات سمجھانے کے لیے مثال پیش کرنا جائز ہے۔
  • نیک اور صالح لوگوں کی ہم نشینی اختیار کرنے اور بگڑے ہوئے اور بدخلق لوگوں سے الگ رہنے کی ترغیب۔
تشریح: العربية

ضَرَبَ صلى الله عليه وسلم المَثل لنوعين من الناس: النوع الأول: الجليس والصديق الصالح الذي يدل على الله وما فيه رضاه، ويعين على الطاعة، فمثله كبائع المسك إما أن يعطيك، وإما أن تشتري منه، وإما أن تجد وتشم منه ريحا طيبة. والنوع الثاني: جليس وصديق السوء؛ الذي يصدُّ عن سبيل الله، ويعين على فعل المعاصي، وترى منه الفعل القبيح، ويطالك الذم لمصاحبة ومجالسة مثله، فمثله كالحداد الذي ينفخ ناره؛ إما أن يحرق ثيابك من شرره المتطاير، أو تجد من قربه ريحًا خبيثة.

  • جواز ضرب الأمثال لتقريب المعنى للسامع.
  • الحث والترغيب على مجالسة أهل الطاعة والصلاح، ومجانبة أهل الفساد وأصحاب الخُلق السيئ.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید