حدیث

اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب کردی یا اسے جہنم سے آزاد کردیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: جَاءَتنِي مِسْكِينَة تَحمِل ابنَتَين لها، فَأَطْعَمْتُها ثَلاثَ تَمَرَات، فَأَعْطَت كُلَّ وَاحِدَة مِنْهُما تَمْرَة وَرَفَعت إِلَى فِيهَا تَمْرَة لِتَأكُلَها، فَاسْتَطْعَمَتْها ابْنَتَاهَا، فَشَقَّت التَّمْرَة التي كانت تريد أن تَأْكُلَها بينهما، فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا، فَذَكَرت الذي صَنَعَتْ لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «إِنَّ الله قَدْ أَوجَبَ لَهَا بِهَا الجَنَّة، أَو أَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّار».

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بچیاں اٹھا رکھی تھیں۔ میں نے اسے تین کھجوریں کھانے کے لیے دیں۔ اس عورت نے ان میں سے ہر ایک کو ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور کو کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی۔ اسی اثناء میں اس کی دونوں بیٹیوں نے اس سے کھانے کے لیے مانگا۔ وہ کھجور جسے وہ کھانا چاہ رہی تھی اس نے اس کے دو حصے کر کے دونوں کے مابین اسے تقسیم کردیا۔ مجھے اس کے اس عمل نے بہت متاثر کیا۔ میں نے اس کے اس فعل کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب کردی یا اسے جہنم سے آزاد کردیا۔

تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث بڑوں کی چھوٹوں پر شفقت کی ایک نشانِ راہ پیش کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بچیوں کو اٹھا رکھا تھا۔ انہوں نے اس عورت کو تین کھجوریں کھانے کے لیے دیں۔ اس مسکین عورت نے ایک بیٹی کو ایک کھجور دے دی اور دوسری کو دوسری۔ پھر تیسری کو اٹھا کر وہ کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی کہ اسی دوران ان دونوں نے اسے کھانے کے لیے مانگ لیا۔ یعنی یہ دونوں بچیاں اس کھجور کو دیکھ رہی تھیں جسے ان کی ماں نے اٹھایا تھا۔ چنانچہ ماں نے اسے خود نہ کھایا بلکہ اس کے دو حصے کر کے ان دونوں کے مابین تقسیم کر دیا۔ یوں ہر بچی نے ڈیڑھ کھجور کھا لی اور ماں نے کچھ بھی نہ کھایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کو آپ ﷺ کے سامنے ذکر کیا اور عورت نے جو کچھ کیا تھا اسے آپ ﷺ کو بتایا۔ نبی ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ: "اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب کر دی اور اسے دوزخ سے نجات دے دی۔" یعنی چونکہ اس نے اس بہت بڑی رحمدلی کا مظاہرہ کیا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت واجب کر دی۔

تشریح: العربية

يُصَوِّر حديث عائشة رضي الله عنها معلمًا جديدًا من رحمة الكبار بالصغار، حيث قالت: جاءتني مسكينة تحمل ابنتين لها فأطعمتها ثلاث تمرات: أي فأعطتها ثلاث تمرات، فما كان من المرأة المسكينة إلا أن أعطت إحدى البنتين واحدة، والثانيةَ التمرةَ الأخرى، ثم رفعت الثالثة إلى فيها لتأكلها، فاستطعمتاها: يعني أن البنتين نظرتا إلى التمرة التي رفعتها الأم ـ فلم تطعمها الأم بل شقتها بينهما نصفين، فأكلت كل بنت تمرة ونصفا والأم لم تأكل شيئًا. فذكرت عائشة رضي الله عنها ذلك للرسول صلى الله عليه وسلم وأخبرته بما صنعت المرأة، فأخبرها: "أن الله أوجب لها بها الجنة، أو أعتقها بها من النار" يعني: لأنها لما رحمتهما هذه الرحمة العظيمة أوجب الله لها بذلك الجنة.

  • فضل الصدقة التي تدل على صدق المؤمن في إيمانه بربِّه وثقته بوعده وفضله.
  • جواز تصدق المرأة من مال زوجها بإذنه العام والخاص، ويكون للزوجة أجر الإنفاق، وللزوج الأجر كذلك؛ لأنه رضي بالنفقة من ماله.
  • شِدَّة رحمة الأمهات بالأولاد وخشيتهن عليهم الضياع.
  • رفع الإسلام من شأن الجنس الأنثوي الذي كان محل سخط العرب أيام الجاهلية، بل رتَّب الإسلام على حسن تربية البنات والإنفاق عليهن تيسير دخول الجنة والنجاة من النار.
  • أنَّ ملاطفة الصبيان والرحمة بهم من أسباب دخول الجنة والنجاة من النار.
  • فضل الإيثار على النفس، ورحمة الصغار، ومزيد الإحسان والرفق بالبنات وأن ذلك سبب لدخول الجنة والعتق من النار.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید