حدیث

نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ انہیں میں نے کبھی دیکھا بھی نہ تھا، لیکن آپ ﷺ ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاس حدیث کی تمام روایات متفق علیہ ہیں۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: «ما غِرْتُ على أحد من نساء النبي صلى الله عليه وسلم ما غِرْتُ على خديجة رضي الله عنها ، وما رأيتها قط، ولكن كان يُكثر ذِكْرَها، وربما ذبح الشَّاةَ، ثم يُقطعها أَعْضَاءً، ثم يَبْعَثُهَا في صَدَائِقِ خديجة، فربما قلت له: كأن لم يكن في الدنيا إلا خديجة! فيقول: «إنها كانت وكانت وكان لي منها وَلَدٌ». وفي رواية: وإن كان لَيَذْبَحُ الشَّاءَ، فيُهدي في خَلَائِلِهَا منها ما يَسَعُهُنَّ. وفي رواية: كان إذا ذَبَحَ الشَّاةَ، يقول: «أرسلوا بها إلى أصدقاء خديجة». وفي رواية: قالت: اسْتَأْذَنَتْ هالة بنت خويلد أخت خديجة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فعرف استئذان خديجة، فارْتَاحَ لذلك، فقال: «اللهم هالة بنت خويلد».

ترجمہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی، اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی حالانکہ انہیں میں نے انہیں کبھی دیکھا بھی نہ تھا، لیکن آپ ﷺ ان کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ جب کبھی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں کو بھیجتے تھے۔ بسا اوقات میں آپ ﷺ سے کہتی : جیسے دنیا میں خدیجہ رضی اللہ عنہاکے سوا کوئی عورت ہے ہی نہیں! اس پر آپ ﷺ فرماتے کہ وہ ایسی تھیں اور ایسی تھیں اور ان سے میری اولاد ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اگر کبھی بکری ذبح کرتے تو ان سے میل محبت رکھنے والی خواتین کو اس میں سے اتنا ہدیہ بھیجتے جو ان کے لیے کافی ہو جاتا۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ جب کبھی بکری ذبح کرتے تو فرماتے کہ یہ خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں پہنچادو۔ ایک اور روایت میں ہے، عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن، ہالہ بنت خویلد نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت مانگنا یاد آگیا، آپ ﷺخوش ہو اٹھے اور فرمایا ”اللہ! یہ تو ہالہ بنت خویلد ہیں“۔

تشریح

اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام بیویوں میں جتنی غیرت مجھے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آتی تھی، اتنی کسی اور سے نہیں آتی تھی، اور وہ نبی ﷺ کی سب سے پہلی بیوی تھیں، عائشہ رضی اللہ عنھا کے انہیں دیکھنے سے قبل ہی ان کا انتقال ہوچکا تھا، نبی ﷺ کا مدینہ طیبہ میں یہ معمول تھا کہ جب کوئی بکری ذبح فرماتے تو خدیجہ رضی اللہ عنھاکی سہیلیوں کے ہاں اس کے کچھ گوشت کاہدیہ بھیجتے ، عائشہ رضی اللہ عنھا برداشت نہ کرپاتیں اور کہہ دیا کرتیں :اے اللہ کے رسول!ایسا لگتا ہے کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے سوا دنیا میں کوئی اور خاتون ہی نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ یہ فرماتے کہ وہ ایسے کرتی تھیں، یوں کرتی تھیں اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی خوبیاں ذکر فرماتے۔ نیز آپ ﷺ اس محبت، بے پناہ پیار اور انتہائی گہری وابستگی کے راز میں زور پیدا کرتے ہوئے فرماتے کہ "ان سے مجھے اولاد بھی ہے"۔ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہونے والے فرزند، ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا آپ ﷺ کی جملہ چار لڑکیاں اور تین لڑکے،خدیجہ رضی اللہ عنہا ہی سے تھے اور ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو قبطی بادشاہ نے نبی ﷺ کو ہدیہ میں دیا تھا۔ ایک مرتبہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن، ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنہما تشریف لائیں اور گھر میں آنے کی اجازت طلب کی اور ان کے اجازت مانگنے کا انداز، خدیجہ رضی اللہ عنہا کے اجازت مانگنے جیسا تھا کیونکہ ان کی آواز، ان کی بہن جیسی تھی، چنانچہ آپ ﷺ کو اس سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد آگئی تو آپ ﷺ میں خوشی و مسرت کے جذبات امنڈ آئے۔

تشریح: العربية

تقول عائشة رضي الله عنها : ما غِرْت على أحد من نساء النبي صلى الله عليه وسلم مثلما غرت على خديجة رضي الله عنها ، وهي أُولى زوجات النبي صلى الله عليه وسلم ، وقد توفيت قبل أن تراها عائشة، وكان النبي صلى الله عليه وسلم في المدينة إذا ذبح شاة أخذ من لحمها وأهداه إلى صديقات خديجة رضي الله عنها ، ولم تصبر عائشة رضي الله عنها على ذلك، فقالت: يا رسول الله، كأن لم يكن في الدنيا إلا خديجة. فذكر صلى الله عليه وسلم أنها كانت تفعل كذا، وتفعل كذا، وذكر من خصالها رضي الله عنها . وأضاف صلى الله عليه وسلم أيضًا مؤكدًا سرَّ هذا الحب والود والارتباط العميق: "وكان لي منها ولد" وأولاده أربع بنات وثلاثة أولاد كلهم منها إلا ولدًا واحدًا هو إبراهيم رضي الله عنه ، فإنه كان من مارية القبطية التي أهداها إليه ملك القبط. وجاءت مرة هالة بنت خويلد أخت خديجة رضي الله عنهما ، فاستأذنت فكان استأذانها شبيها بصفة استئذان خديجة لشبه صوتها بصوت أختها فتذكر خديجة بذلك، ففرح بذلك وسُر صلى الله عليه وسلم .

  • بيان فضل أم المؤمنين خديجة بنت خويلد -رضي الله عنها-، ومحبة النبي -صلى الله عليه وسلم- لها، ووفاؤه لذكراها؛ لِمَا كان لها من فضل ووفاء.
  • ثبوت الغيرة وأنها غير مستنكرة من النساء الفاضلات.
  • من الخصال المُحَبَّبة في المرأة أن تكون ودودًا ولودًا؛ فلذلك أمر الرسول -صلى الله عليه وسلم- بالزواج منها.
  • كثرة الذكر تدل على كثرة المحبة، ولذلك كان شعار المحبين لله رب العالمين أنهم من الذاكرين الله كثيرًا والذاكرات.
  • ينبغي على المسلم أن يحفظ عهد زوجته وصاحبه ومعاشره ويرعى وُدَّهُ حيًّا وميِّتًا بتذكره والثناء على خصال الخير التي كانت فيه وإكرام معارفه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید