ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه أَنَّ رسُولَ اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم- قَالَ: «لَيسَ المِسْكِين الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَة والتَّمْرَتَان، وَلا اللُّقْمَةُ واللُّقْمَتَان، إِنَّمَا المِسْكِين الَّذِي يَتَعَفَّف».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں، جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے ہی واپس لوٹا دیتے ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا“۔
تشریح
یہ حدیث مسکین کی حقیقت واضح کر رہی ہے کہ مساکین میں سے قابل تعریف، صدقے کا حق دار اور اس کا ضرورت مند وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا۔ گھوم پھر کر مانگنے والے شخص سے آپ ﷺ نے مسکینیت کی نفی کی؛ کیوں کہ اس تک بقدر کفایت سامان وغیرہ پہنچتا رہتا ہے۔ بعض اوقات اسے زکوٰۃ مل جاتی ہے، جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ ضرورت تو اس شخص کی باقی رہتی ہے، جو مانگتا نہیں ہے اور بطور شفقت اسے کوئی کچھ دیتا بھی نہیں ہے۔
تشریح: العربية
يُوضح هذا الحديث حقيقة المسكنة، وأن المسكين الممدوح من المساكين الأحق بالصدقة والأحوج بها هو المتعفف، وإنما نفى صلى الله عليه وسلم المسكنة عن السائل الطوَّاف؛ لأنه تأتيه الكفاية، وقد تأتيه الزكاة فتزول خصاصته، وإنما تدوم الحاجة فيمن لا يسأل ولا يعطف عليه فيعطى.
- ذم المسألة.
- الحض على التعفف، قال تعالى مادحا أهل التعفف: "يحسبهم الجاهل أغنياء من التعفف".
- المَسْكَنة صفة تُمدح إذا لازَمَتها العِفَّة عن السؤال، والصبر على الشِدَّة، والرِضى بما قسم الله.
- مدح الحياء في كل الأحوال والأحيان، وأنه لا يأتي إلا بخير.
- استحباب التحَرِّي لِوضع الصدقة فيمن صفته التعفُّف دون الإلحاح أو التعريف.
- جواز التصدُّق ولو باليسِير: كالتَّمرة أو اللُّقمة؛ فإنَّها وِقاية من النار.