ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا». ولمسلم: « أولاهُنَّ بالتُراب».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "جب کتا تم میں سے کسی کے برتن سے (کچھ) پی لے، تو اسے سات مرتبہ دھو لے۔" مسلم کی روایت میں ہے : "پہلی مرتبہ مٹی سے دھویا جائے۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ جب کتا برتن ميں منہ ڈال دے، تو اسے سات بار دھویا جائے۔ سات میں سے پہلی بار مٹی سے دھویا جائے، تاکہ اس کے بعد جب پانی سے دھویا جائے، تو برتن پوری طرح صاف ہو جائے۔ گندگی اور نقصان دہ چيزیں باقی نہ رہیں۔
فوائد
- کتے کی رال نجاست مغلظہ ہے۔
- کسی برتن میں کتے کے منہ ڈال دینے سے وہ برتن اور اس میں موجود پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔
- مٹی سے پاک کرنے اور سات مرتبہ دھونے کا حکم کتے کے منہ ڈالے ہوئے برتن کو صاف کرنے کے لیے ہے۔ اس کے پیشاب، پاخانہ اور اس کے ذریعے دیگر طریقوں سے آلودہ کی گئی چیزوں کو صاف کرنے کے لیے نہيں۔
- برتن کو مٹی سے دھونے کا طریقہ یہ ہے کہ برتن میں پانی ڈال کر اس میں مٹی ملا دی جائے اور اس سے برتن کو دھویا جائے۔
- حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ یہ تمام کتوں کے لیےعام ہے، حتیٰ کہ ان کتوں کے لیے بھی جنہيں شريعت نے پالنے کا اختیار دیا ہے۔ جیسے شکار کے لیے، گھر کی نگہبانی کے لیے اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے پالے جانے والا کتے۔
- صابن اور اس جیسی دوسری چيزیں مٹی کی جگہ نہیں لے سکتیں۔ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے صراحت کے ساتھ مٹی کا ذکر کیا ہے۔
تشریح: العربية
أَمَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بِغسل الإناء سبعَ مرات إذا أَدْخَلَ الكلبُ فيه لسانه، الأولى منهن مَصحوبةٌ بالتراب ليأتي الماءُ بعدها، فتحصل النظافة التامة مِن نجاسته وضرره.
- ريق الكلب نجسٌ نجاسة مُغلَّظة.
- ولوغ الكلب في الإناء، ينجِّسه، وينجِّس الماء الذي فيه.
- التطهير بالتراب والتكرار سبعًا خاصٌّ بالتطهير من ولوغه دون بوله وعذرته وسائر ما لوَّثه الكلب.
- كيفية غسل الإناء بالتراب: أن يجعل في الإناء ماء ويضاف إليه التراب، ثم يغسل الإناء بهذا الخليط.
- ظاهر الحديث أنه عامٌّ في جميع الكلاب، حتى الكلاب التي أذن الشارع باتخاذها، مثل كلاب الصيد والحراسة والماشية.
- الصابون والأشنان لا يقومان مقام التراب؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم نصَّ على التراب.