ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ حَيَاءً مِنَ العَذْرَاءِ فِي خِدْرِهَا، فَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ عَرَفْنَاهُ فِي وَجْهِهِ.
ترجمہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر شادی شدہ پردہ نشیں عورت سے بھی زیادہ با حیا تھے۔ چنانچہ جب کوئی ایسی چيز دیکھتے، جو ناپسند ہوتی، تو ہم اس ناپسندیدگی کو آپ کے چہرے کی رنگت سے پہچان لیتے تھے۔
تشریح
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر شادی شدہ لڑکی، جو مردوں کے ساتھ نہ رہی ہو اور گھر کی چہاردیواری کے اندر رہتی ہو، سے بھی زیادہ باحیا تھے۔ آپ کے حد درجہ باحیا ہونے کی ایک مثال یہ ہے کہ جب آپ کسی چيز کو ناپسند کرتے، تو کچھ بولتے نہيں تھے۔ بس آپ کا چہرہ بدل جاتا تھا۔ آپ کا چہرہ دیکھ کر صحابہ سمجھ جاتے تھے کہ آپ اس چیز کو ناپسند کر رہے ہیں۔
فوائد
- نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حیا کا بیان۔ یہ حیا بھی دراصل آپ کے اعلی اخلاق و کردار کا حصہ تھی۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم حیا سے اس وقت کام لیتے تھے، جب تک اللہ کی حرمتوں کو پامال نہ کیا جاتا۔ جب اللہ کی حرمتوں کو پامال کیا جاتا، تو آپ کا غصہ سامنے آ جاتا۔ اپنے صحابہ کو حکم دینے اور منع کرنے لگ جاتے۔
- حیا کے زیور سے آراستہ ہونے کی ترغیب۔ کیوں کہ حیا نفس کو اچھے کام کرنے اور برے کام کو چھوڑنے پر ابھارتی ہے۔
تشریح: العربية
يُخْبِرُ أبو سعيد الخدري رضي الله عنه أنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم كان أشدَّ حياء من البنت البِكْر التي لم تتزوج وتعاشر الرجال المُستترة في بيتها، ومن شدة حيائه أنه إذا كَرِهَ شيئًا يتغير وجهه ولا يتكلم، بل يفهم أصحابه كراهيتَه لذلك في وجهه.
- بيان ما اشتمل عليه النبي صلى الله عليه وسلم من الحياء، وهو الخُلُق العظيم.
- حياء النبيِّ صلى الله عليه وسلم ما لم تُنتَهك حرمات الله، فإذا انتهكت؛ فإنه صلى الله عليه وسلم كان يغضب ويأمر أصحابَه وينهاهم.
- الحث على التخلُّق بالحياء؛ لأنه يحمل النفس على فعل الجميل وترك القبيح.