حدیث

یا رسول اللہ! مال تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ ہم پر پانی برسائے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضيَ اللهُ عنهُ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ المَسْجِدَ يَوْمَ جُمُعَةٍ مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ دَارِ القَضَاءِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الأَمْوَالُ وَانْقَطَعْتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ يُغِيثُنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا» قَالَ أَنَسٌ: وَلا وَاللَّهِ، مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ وَلَا قَزَعَةً، وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ، قَالَ: فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ، فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ، فَلَا وَاللَّهِ، مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سِتًّا، ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ البَابِ فِي الجُمُعَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتِ الأَمْوَالُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا عَنَّا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ» قَالَ: فَأَقْلَعَتْ، وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ، قَالَ شَرِيكٌ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أَهُوَ الرَّجُلُ الأَوَّلُ؟ فَقَالَ: «مَا أَدْرِي».

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں اس دروازے سے داخل ہوا، جو دارالقضا کی طرف تھا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنا منہ کرکے کھڑا ہوا، پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ ہم پر پانی برسائے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا»۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آسمان پر کہیں کسی بادل یا بادل کی ٹکڑی کا نام و نشان تک نہ تھا، اور ہمارے اور سلع (پہاڑ) کے بیچ میں کوئی گھر یا مکان بھی نہیں تھا۔ کہا: اتنے میں اس (پہاڑ) کے پیچھے سے ڈھال کی طرح ایک بادل نمودار ہوا، پھر جب وہ آسمان کے بیچ میں پہنچا تو پھیل گیا اور پھر برسنے لگا۔ اللہ کی قسم! ہم نے چھ دن تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اسی دروازے سے اگلے جمعہ کے دن ایک شخص داخل ہوا، اور رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہوگئے اور راستے بند ہوگئے، اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ اسے ہم سے روک دے۔ کہا: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ»۔ کہا: چنانچہ بارش تھم گئی اور ہم دھوپ میں چلتے ہوئے باہر نکلے۔ شریک نے کہا: میں نے انس بن مالک سے پوچھا: کیا یہ وہی پہلا شخص تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم۔

تشریح

ایک اعرابی جمعہ کے دن نبی ﷺ کی مسجد میں اس مغربی دروازے سے داخل ہوا جو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف تھا، جبکہ نبی ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ اس شخص نے نبی ﷺ کی طرف رخ کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مویشی ہلاک ہو گئے، اور ان جانوروں کے مرنے یا بھوک سے کمزور ہو جانے کے سبب راستے بند ہو گئے ہیں، آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم پر بارش برسائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر ارشاد فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ! ہمیں سیراب فرما۔“ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا بھی نہ تھا، اور ہمارے اور جبلِ سلع، جو مسجد کے مغرب میں واقع ہے اور جہاں سے بادل اٹھتے ہیں، کے درمیان کوئی گھر یا مکان نہیں تھا جو اسے دیکھنے میں حائل ہوتا۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چنانچہ اس کے پیچھے سے ڈھال کی طرح ایک گول بادل نمودار ہوا، جب وہ مدینہ کے آسمان کے وسط میں پہنچا تو پھیل گیا، پھر برسنے لگا۔ اللہ کی قسم! ہم نے بارش کے سبب اگلے جمعہ تک سورج نہیں دیکھا۔ پھر اگلے جمعہ کو وہی شخص اسی دروازے سے داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ کھڑے خطبہ دے رہے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی آپ کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مال تباہ ہوگئے اور راستے بند ہوگئے، آپ اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ ہم سے بارش روک دے۔ راوی کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک اٹھائے اور پھر یہ دعا فرمائی: ’’اے اللہ! بارش کو ہمارے اردگرد پھیر دے اور ہم پر نہ برسا۔ اے اللہ! اسے ٹیلوں اور پہاڑیوں جیسی بلند جگہوں پر، وادیوں میں اور درختوں کے اگنے کی جگہوں پر برسا۔‘‘ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ بارش والا بادل چھٹ گیا، اور ہم دھوپ میں چلنے لگے۔

فوائد

  • رزق کی طلب میں اسباب اختیار کرنا، جیسے دعا کرنا اور زمین پر کوشش کرنا، اللہ تعالیٰ پر توکل کے منافی نہیں۔
  • بارش طلب کرنے کے لیے یہ نبوی دعا پڑھنا مستحب ہے۔
  • بارش سے نقصان ہونے پر استصحاء -یعنی موسم صاف ہونے اور بارش رکنے کی دعا کرنا- جائز ہے، (ایسی حالت میں) بارش کو ٹیلوں، پہاڑیوں اور وادیوں کے نشیب میں باقی رکھنے کی دعا کی جائے؛ کیونکہ یہ جگہیں کاشت کرنے اور جانور چَرانے کے لیے زیادہ موافق ہیں۔
  • ان زندہ اور موجود لوگوں سے دعا کی گزارش کرنا جائز ہے جن کے بارے میں نیکی اور تقوی کا گمان ہو، اور یہی جائز توسل ہے۔ البتہ کسی مخلوق کی جاہ کا وسیلہ لینا جائز نہیں، خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ؛ کیونکہ یہ شرک کے وسائل میں سے ہے۔
  • دعا میں الحاح وتکرار کی مشروعیت۔
  • جمعہ کے دن ضرورت کے وقت خطیب سے بات کرنا جائز ہے۔
  • بارش نازل کرنے اور اسے روک لینے میں اللہ کی ظاہر وباہر قدرت کا ظہور۔
  • نبی ﷺ کی اس حکمت کا بیان کہ آپ نے بارش کو نقصان دہ جگہ سے روکنے کی دعا فرمائی، نہ کہ اس جگہ سے جہاں نقصان نہ ہو۔
  • خطبہ میں بارش کی دعا کرنے کی مشروعیت
  • دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانا؛ کیونکہ اس میں عاجزی اور محتاجی کا معنی پایا جاتا ہے، اور ہاتھوں میں نوازش طلب کرنے کا معنی بھی پایا جاتا ہے، اس موقع پر دونوں ہاتھ اٹھانے پر علماء کا اجماع ہے۔
  • نبی ﷺ کی نبوت پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ بارش لانے اور اسے روکنے کے معاملے میں آپ کی دعا فی الفور قبول ہوئی۔
تشریح: العربية

دخل أعرابيٌّ مسجد النبي صلى الله عليه وسلم يوم جمعة من بابٍ غربي المسجد تجاه بيت عمر بن الخطاب رضي الله عنه، والنبي صلى الله عليه وسلم قائم يخطب، فاستقبل الرجل النبي صلى الله عليه وسلم، وقال: يا رسول الله، هلكت المواشي، وتقطعت السبل بموت البهائم التي تنقل الناس أو ضعفها من الجوع، فادع الله أن يسقينا المطر. فرفع صلى الله عليه وسلم يديه، ثم قال: اللهم اسقنا، اللهم اسقنا، اللهم اسقنا. قال أنس بن مالك رضي الله عنه: والله ما نرى في السماء ولا قطعة من غيم، وما بيننا في المسجد وبين جبل سلع غربي المسجد حيث يأتي من جهته السحاب من بيت ولا دار يحجبهم عن رؤيته. قال أنس رضي الله عنه: فطلعت من ورائه سحابة مستديرة مثل التُّرْس وهو الصَفِيْحة الصغيرة، فلما توسطت سماء المدينة انتشرت، ثم أمطرت، فوالله، ما رأينا الشمس من المطر حتى الجمعة الأخرى، حيث دخل ذلك الرجل من ذلك الباب، وهو صلى الله عليه وسلم قائم يخطب، فاستقبله قائمًا، فقال: يا رسول الله، هلكت الأموال، وانقطعت السبل، فادع الله يمسك المطر عنا. قال: فرفع صلى الله عليه وسلم يديه، ثم قال: اللهم اصرف المطر حوالينا ولا علينا، اللهم على ما ارتفع من الأرض كالتَّلِّ، والجبل الصغير، وبطون الأودية، ومنابت الشجر. قال أنس: فانقطعت السحابة الماطرة، وخرجنا نمشي في الشمس.

  • فعل الأسباب لطلب الرزق، من الدعاء، والضرب في الأرض، لا ينافي التوكل على الله تعالى.
  • استحباب الدعاء بهذا الدعاء النبوي لطلب الغيث.
  • جواز الاستصحاء -طلب الصحو وتوقّف المطر- عند الضرر بالمطر، وخص بقاء المطر على الآكام والظراب وبطون الأودية؛ لأنها أوفق للزراعة والرعي.
  • جواز طلب الدعاء ممَّن يظن فيهم الصلاح والتقى من الأحياء الحاضرين، وهذا التوسل الجائز، أما التوسل بجاه أحد من المخلوقين، حيًّا أو ميتًا، فهذا لا يجوز؛ لأنه من وسائل الشرك.
  • مشروعية الإلحاح في الدعاء وتكراره.
  • جواز تكليم الخطيب يوم الجمعة للحاجة.
  • ظهور قدرة الله الباهرة في إنزال المطر وإمساكه.
  • حكمة النبي صلى الله عليه وسلم بالدعاء بإمساك المطر عما فيه ضرر دون ما لا ضرر فيه.
  • مشروعية الاستسقاء في الخطبة.
  • رفع اليدين في الدعاء؛ لأن فيه معنى الافتقار، وتحرِّي معنى الإعطاء فيهما، وقد أجمع العلماء على رفعهما في هذا الموقف.
  • آية من آيات النبي صلى الله عليه وسلم، الدالة على نبوته، فقد استجيب دعاؤه في الحال، في جلب المطر وفي رفعه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید