حدیث

میں نےجنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن ابن عباس وعمران بن الحصين رضي الله عنهم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اطَّلَعت في الجنة فرأيتُ أكثرَ أهلِها الفقراءَ، واطَّلعتُ في النار فرأيتُ أكثرَ أهلها النِّساءَ».

ترجمہ

ابن عباس اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ”میں نےجنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں“۔

تشریح

نبی ﷺ اس حدیث میں بیان فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو اس میں زیادہ تر غریب لوگ تھے کیونکہ غریبوں کے پاس ایسی کوئی شے ہوتی ہی نہیں جو انہیں سرکش بنائے۔ یہ لوگ پابندِ دین اور مطیع و فرماں بردار ہوتے ہیں۔ اسی لیے جو شخص آیات میں غور و فکر کرتا ہے اس پر یہ آشکارا ہوتا ہے کہ صاحبِ حیثیت اور امیر لوگ ہی رسولوں کو جھٹلاتے ہیں جب کہ کمزور وناتواں لوگ رسولوں کی پیروی کرتے ہیں اس لیے جنت میں زیادہ تر یہی لوگ ہوں گے۔ حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر غریب کو ہر امیر پر فضیلت حاصل ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جنت میں غریب لوگ امیر لوگوں سے زیادہ ہیں اور اسی بات کی آپ ﷺ نےخبر دی ہے۔ ان کی غربت ان کے جنت میں جانے کا سبب نہیں اگرچہ اس کی وجہ سے ان کے حساب میں کچھ تخفیف ضرور ہو گی۔ اس کے بجائے وہ اپنی راستگی کی وجہ سے جنت میں جائیں گے۔ غریب آدمی اگر راست رو نہ ہو تو اسے کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوتی۔ اسی طرح نبی ﷺ نے بتایا کہ آپ ﷺ نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو اس میں زیادہ تر عورتیں نظر آئیں۔ کیونکہ عورتوں میں ایسی بری عادات ہوتی ہیں جن کا رنگ ان کی طبیعتوں پر حاوی ہو جاتا ہے اور وہ ان میں رچ بس جاتی ہیں۔ شوہر کی ناشکری اور کثرت کے ساتھ لعن طن کرنا انہی بری عادات میں سے ہے۔ اس لیے ان پر ضروری ہے کہ اپنے دین کی حفاظت کریں تاکہ جہنم سے محفوظ رہیں۔

تشریح: العربية

يخبر النبي صلى الله عليه وسلم في الحديث أنه اطَّلَع في الجنة فرأى أكثرَ أهلِها الفقراءَ، وذلك لأن الفقراء ليس عندهم ما يطغيهم، فهم متمسكنون خاضعون، ولهذا من تأمل الآيات؛ وجد أن الذين يكذبون الرسل هم الملأ الأشراف والأغنياء، وأن المستضعفين هم الذين يتبعون الرسل، فلهذا كانوا أكثر أهل الجنة. والحديث لا يوجب فضل كل فقير على كل غني، وإنما معناه الفقراء في الجنة أكثر من الأغنياء فأخبر عن ذلك، وليس الفقر أدخلهم الجنة، وإن كان خفف من حسابهم، إنما دخلوا بصلاحهم معه، فالفقير إذا لم يكن صالحاً لا يفضل. كما أخبر صلى الله عليه وسلم أنه اطَّلَع في النار فرأى أكثرَ أهلِها النساء؛ وذلك لقيامهن بعادات سيئة تغلب على طباعهن، وتتعلق بهن، من ذلك كُفران العشير وكثرة اللعن. فالواجب عليهن أن يحافظن على أمر الدين ليسلمن من النار.

  • أن الفقراء في الجنة أكثر من الأغنياء, والفقير لم يدخل الجنة بسبب فقره, وإنما دخلها بعمله الصالح.
  • التحريض على ترك التوسع في الدنيا والاستزادة من متاعها.
  • تحريض النساء على المحافظة على أمر الدين ليسلمن من النار, والإخبار بأنهن أكثر أهل النار.
  • أن الجنة والنار مخلوقتان موجودتان.
  • أن من أساليب الدعوة: الترهيب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید