حدیث

ایک شخص نے اُحُد کے دن آپ ﷺ سے کہا: آپ کیا کہتے ہیں کہ اگر میں مارا گیا تو میں کہاں رہوں گا (میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا)؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے کھجوریں پھینکیں اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال رجل للنبي صلى الله عليه وسلم يومَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إن قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قال: «في الجَنَّةِ» فأَلْقَى تَمراتٍ كُنَّ في يَدِه، ثم قاتل حتى قُتِلَ.

ترجمہ

جابر بن عبد اللہ - رضی اللہ عنہما - سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اُحُد کے دن آپ ﷺ سے کہا: آپ کیا کہتے ہیں اگر میں مارا گیا تو میں کہاں رہوں گا (یعنی میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا)؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے کھجوریں پھینک دیں اور لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔

تشریح

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص -جن کا نام عمیر بن الحمام تھا- نے غزوہ احد کے موقعے پر آپ ﷺ سے پوچھا، اے اللہ کے رسول! ذرا بتلائیے اگر میں لڑتے لڑتے شہید ہو جاؤں یعنی میں مشرکین کے ساتھ جہاد کروں اور اسی میں مارا جاؤں تو میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم جنت میں رہو گے۔ انھوں نے کھجوریں پھینک دی اور کہا۔ اگر میں زندہ رہا تو زندگی لمبی ہوگی کھجوریں پھر کھا لوں گا، آگے بڑھے اور لڑتے رہے، یہاں تک کہ شہید ہوگیے۔

تشریح: العربية

أخبر جابر رضي الله عنه أن رجلًا -قيل: اسمه عُمير بن الحُمَام وقيل: غيره- قال للنبي صلى الله عليه وسلم يوم غزوة أحد: يا رسول الله! أرأيتَ إن قاتلتُ حتى قُتلتُ، يعني جاهدت المشركين وقتلت في هذه الوقعة ما مصيري؟ قال: "أنت في الجنة"، فألقى تمرات كانت معه، وقال: (إنها لحياة طويلة إن بقيت حتى آكل هذه التمرات) ثم تقدم فقاتل حتى قتل رضي الله عنه .

  • يفيد هذا الحديث المسارعة بفعل الخيرات.
  • جزاء من قتل في سبيل الله الجنة.
  • استحباب أن يسأل الإنسان عما لا يعلم.
  • ما كان الصحابة عليه من حب نصر الإسلام، والرغبة في الشهادة ابتغاء مرضاة الله وثوابه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید