ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أم الدرداء رضي الله عنها مرفوعاً: « دعوة المرء المسلم لأخيه بظَهْرِ الغيب مستجابة، عند رأسه مَلَك مُوَكَّلٌ كلما دعا لأخيه بخير قال الملك المُوَكَّلُ به: آمين، ولك بمِثْلٍ».
ترجمہ
ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی اپنے بھائی کےحق میں پیٹھ پیچھے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر پر ایک فرشتہ متعین ہوتا ہے اور جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیرکرتا ہے تو اس پر یہ متعین کردہ فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو“۔
تشریح
مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا اللہ کے ہاں مقبول ہوتی ہے۔ جب بندہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اس کے سر پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: آمین، اور تیرے نصیب میں بھی وہی خیر ہو جس کی دعا تو نے اپنے بھائی کے لیے کی ہے۔
تشریح: العربية
دعاء المسلم لأخيه وهو غائب عنه لا يعلم مستجاب مقبول عند الله، فإذا دعا لأخيه وقف ملك من الملائكة عند رأسه يقول آمين ولك مثل هذا الخير الذي دعوت به لأخيك.
- أن الدعاء بظهر الغيب يدل دلالة واضحة على صدق الإيمان.
- فضل الدعاء للإخوة بظهر الغيب.
- تقييد الدعوة بالغيب؛ لأن ذلك أبلغ في الإخلاص وحضور القلب.
- من أسباب الإجابة أن يدعو المسلم لأخيه في الغيب.
- استحباب أن يدعو المسلم لنفسه وأخيه بخيري الدنيا والآخرة.
- بيان بعض أعمال الملائكة، وأن منهم من وكله الله لهذا العمل.