حدیث

لوگوں کو اس کا حکم تھا کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ ہو، البتہ حائضہ سے یہ حکم معاف ہو گیا تھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عبَّاس رضي الله عنهما قال: «أُمِرَ الناس أن يكون آخر عَهْدِهِمْ بالبيت، إلا أنه خُفِّفَ عن المرأة الحائض».

ترجمہ

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو اس کا حکم تھا کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ ہو (یعنی طواف وداع کریں) البتہ حائضہ سے یہ حُکم معاف ہو گیا تھا۔

تشریح

بیت اللہ شریف کی اپنی عظمت و کرامت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے سامنے خشوع و عاجزی کی نشانی ہے، سینوں میں اس کا رعب اور دلوں میں اس کا جلال، تعلق اور محبت سمائی ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ کے نبی ﷺ نے حاجی کو سفر سے پہلے حکم دیا کہ اس کا آخری وقت بیت اللہ میں گزرے، یہ طوافِ اخیر ہے جسے طوافِ وداع کہتے ہیں، سوائے حائضہ عورت کے، اس لیے کہ اس کے داخل ہونے سے مسجد میں گندگی ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، چنانچہ اس سے بغیر فدیہ کے طواف ساقط ہوگیا، یہ حدیث صرف حج کے بارے میں ہے عمرے کو یہ (حکم) شامل نہیں۔

تشریح: العربية

لهذا البيت الشريف تعظيم وتكريم؛ فهو رمز لعبادة الله والخضوع والخشوع بين يديه، فكان له في الصدور مهابة، وفِى القلوب إجلال، وتعلق، ومودة. ولذا أمر النبي صلى الله عليه وسلم الحاج قبل السفر أن يكون آخر عهده به، وهذا الطواف الأخير هو طواف الوداع، إلا المرأة الحائض؛ فلكونها تلوث المسجد بدخولها سقط عنها الطواف بلا فداء، وهذا النص في الحج فلا يتناول العمرة.

  • أن طواف الوداع يكون آخر شئون الحاج؛ لأن هذا معنى الوداع، وشراء بعض الأشياء في طريقه إلى السفر، أو انتظار الرفقة، أو نحو ذلك من التأخر اليسير لا يضر.
  • عظم حُرْمة الكعبة.
  • أن الحائض ليس عليها طواف للوداع، ولا دم بتركه.
  • تيسير الشريعة الإسلامية.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید