حدیث

تم لوٹ جاؤ اپنے ماں باپ کی خدمت میں رہ کر ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: أقبَلَ رجل إلى نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال: أُبَايِعُكَ على الهجرة والجهاد أَبْتَغِي الأجر من الله تعالى قال: «فَهَل لَكَ من وَالِدَيك أحد حيٌّ؟» قال: نعم، بل كلاهما، قال: «فتبتغي الأجر من الله تعالى؟» قال: نعم، قال: «فَارْجِع إلى وَالِدَيك، فَأَحْسِن صُحْبَتَهُمَا». وفي رواية لهما: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فاستأذنه في الجهاد، فقال: «أَحَيٌّ والداك؟»، قال: نعم، قال: «فَفِيهِمَا فجاهد».

ترجمہ

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کے ہاتھ پر ہجرت اور جہاد کے لیے بیعت کرتا ہوں اور اللہ سے اس کا اجر چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں بلکہ دونوں زندہ ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم واقعی ﷲ سے (اپنی ہجرت اور جہاد کا) بدلہ چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ جی ہاں (میں اللہ سے اجر چاہتا ہوں)، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ تم لوٹ جاؤ، اپنے ماں باپ کی خدمت میں رہ کر ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ بخاری ومسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص نے آکر آپ ﷺ سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت چاہی۔ آپ نے پوچھا : کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں ۔آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کی خدمت میں جہاد کرو۔

تشریح

ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اللہ کی راہ میں جہاد اور ہجرت کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے لگا۔ یہ شخص اپنے پیچھے اپنے والدین کو چھوڑ کر آیا تھا ۔ ابوداود کی روایت میں ہے کہ "وہ رو رہے تھے " اس اندیشے کی وجہ سے کہ وہ مارا جائے گا۔ (یہ شخص گویا آپ ﷺ سے اپنے اس فعل کی تصدیق چاہتا تھا)۔ رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ آپ ﷺ نے مزید پوچھا: کیا تم واقعی اللہ تعالی سے اجر چاہتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں ۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: اپنے والدین کے پاس لوٹ جاؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ ابوداود کی روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ان کے پاس لوٹ جاؤ اور انہیں اسی طرح ہنساؤ جس طرح سے تم نے انہیں رلایا ہے ۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسے اس کام کی طرف لوٹا دیا جس کا کرنا اس کے لیے زیادہ لائق اور زیادہ ضروری تھا۔ یعنی والدین کے پاس جا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ اس سے مراد ان کی خدمت ، رضا جوئی اور فرماں برداری میں جد وجہد کرنا ہے ۔ جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کی خدمت میں جہاد کرو۔ اس حدیث میں یہ صراحت ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی اطاعت اور ان کے ساتھ نیکی کا معاملہ کرنا جہاد فی سبیل اللہ سے بہتر عمل ہے ۔ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سب سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: نماز۔ اس نے پوچھا : اس کے بعد کون سا عمل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد۔ وہ کہنے لگا کہ میرے تو والدین ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ اس حدیث کو ابن حبان نے ذکر کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک جہاد فی سبیل اللہ سے افضل ہے ۔ ماسوا اس وقت کے جب جہاد فرض عین ہوجائے کیونکہ فرض ہونے کی وجہ سے اسے والدین کی فرماں برداری پر مقدم رکھا جائے گا۔

تشریح: العربية

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم يخبره برغبته وحبه للجهاد والهجرة في سبيل الله تعالى ، وكان هذا الرجل قد ترك خلفه والداه، وجاء في رواية أبي داود : " يبكيان "، خوفا عليه من الهلاك، فسأله النبي صلى الله عليه وسلم :" هل لك من والديك أحد حيٌّ؟" قال: نعم، بل كلاهما، قال: "فتبتغي الأجر من الله تعالى؟" قال: نعم، قال: "فارجع إلى والديك، فأحسن صُحْبتهما"، وفي رواية أبي داود: "ارجع عليهما فأضحكهما كما أبكيتهما". فرده النبي صلى الله عليه وسلم لما هو أولى وأوجب في حقه، وهو الرجوع إلى والديه وأن يحسن صحبتهما، فإن ذلك من مجاهدة النفس في القيام بخدمتهما وإرضائهما وطاعتهما، كما جاء في رواية البخاري ومسلم: " ففيهما فجاهد". وقد صرح في حديث آخر بأن بر الوالدين وطاعتهما والإحسان إليهم أفضل من الجهاد في سبيل الله كما جاء في رواية عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسأله عن أفضل الأعمال فقال: "الصلاة" قال: ثم مه: قال: "الجهاد" قال: فإن لي والدين، فقال: "برك بوالديك خير" أخرجه ابن حبان، فقد دل هذا الحديث على أن بر الوالدين أفضل من الجهاد، إلا إذا كان الجهاد فرض عين، فإنه يُقدم على طاعتهما؛ لتعينه.

  • وجوب الهجرة والجهاد.
  • بر الوالدين من أوجب الواجبات.
  • لا يجوز الجهاد إلا بإذن الأبوين؛ لأمره -صلى الله عليه وسلم- برجوعه إلى والديه وأخذ إذنهما، كما في رواية أبي داود: "ارجع فاستأذنهما، فإن أذنا لك فجاهد، وإلا فبرهما".
  • تقديم بر الوالدين على فروض الكفاية والتطوع.
  • المستشار مؤتمن؛ فينبغي أن يشير بالنصيحة المحضة.
  • يجوز للمكلف أن يستفصل عن الأفضل من أعمال الطاعة؛ ليعمل به.
  • فضل بر الوالدين، وتعظيم حقهما، وكثرة الثواب على برهما.
  • إذا كان المسلم يستطيع المحافظة على دينه وتقواه مع بر أبويه فهذا حسن، ومن لم يستطع إلا بالفرار بدينه قدم دينه كما صنع السابقون الأولون من المهاجرين.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید