ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ ثَوْبَانَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ، دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ» قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ، ثُمَّ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَأَيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ، يُعِفُّهُمْ أَوْ يَنْفَعُهُمُ اللهُ بِهِ وَيُغْنِيهِمْ.
ترجمہ
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے بہتر دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے، جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپني سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے"۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز اہل و عیال سے کیا ہے۔ پھر ابو قلابہ کہتے ہيں کہ اجر و ثواب میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے، جو چھوٹے چھوٹے بچوں پر اس لیے خرچ کرتا ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں یا اللہ تعالی اس سے ان کو نفع پہنچائے اور بے نیاز کر دے"۔
تشریح
یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خرچ کرنے کی کچھ صورتیں بیان کی ہیں اور بتایا ہے کہ جب خرچ کرنے کے کئی مقامات آپس میں ٹکرانے لگیں، تو جو جتنا زیادہ اہم ہو، آغاز میں اسے اتنی فوقیت دی جانے چاہیے۔ آپ نے بتایا کہ ایک مسلمان کے ذریعے خرچ کیا گیا سب سے زیادہ ثواب والا مال وہ ہے، جسے وہ ان لوگوں پر خرچ کرے، جن کا نفقہ اس پر واجب ہے۔ جیسے بیوی بچے وغیرہ۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے تیار کردہ سواری پر خرچ کیے گئے مال کا۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے اپنے دوستوں اور ساتھیوں پر خرچ کرنے کا، جو اللہ کی راہ میں جنگ کر رہے ہوں۔
فوائد
- فضیلت کے معاملے میں خرچ کرنے کی ترتیب وہی ہے، جو اس حدیث میں مذکور ہے۔ ٹکراؤ کی حالت میں اس ترتیب کا خیال رکھا جائے گا۔
- اہل و عیال پر خرچ کرنا دوسروں پر خرچ کرنے کی مقابلے میں زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔
- اللہ کی راہ میں جہاد پر، جیسے ہتھیاروں اور مجاہدوں کو تیار کرنے میں کیا جانے والا خرچ، خرچ کرنے کی عظیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔
- کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سبیل اللہ (اللہ کی راہ) سے مراد ہر نیکی کا کام ہے جیسے حج وغیرہ ہے۔
تشریح: العربية
بَيَّنَ صلى الله عليه وسلم صورًا في الإنفاق، ورتّبها إذا تزاحمت أوجه الإنفاق حسب الأوجب عليك، فبدأ بالأهم فالأهم؛ فأخبر أن أكثر المال ثوابًا هو الذي ينفقه المسلم على من تَلزمه نفقته؛ من نحو زوجة وولد، ثم الإنفاق على المركوب المُعَدّ للحرب في سبيل الله، ثم الإنفاق على أصحابه ورفقته حال كونهم مجاهدين في سبيل الله.
- ترتيب النفقة في الفضل على الوجه الذي ذُكِر، فيُراعى ذلك عند التزاحم.
- بيان أولوية النفقة على العيال في الفضل على غيرها.
- النفقة على الجهاد في سبيل الله من أعظم النفقات، مثل إعداد الأدوات والرجال للجهاد.
- قيل: المراد بسبيل الله كل طاعة كالحج مثلًا.