ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا توضَّأ العبدُ المسلم، أو المؤمن فغسل وَجهَهُ خرج مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نظر إليها بِعَينَيهِ مع الماء، أو مع آخر قَطْرِ الماء، فإذا غسل يديه خرج من يديه كل خطيئة كان بَطَشَتْهَا يداه مع الماء، أو مع آخِرِ قطر الماء، فإذا غسل رجليه خرجت كل خطيئة مَشَتْهَا رِجْلَاه مع الماء أو مع آخر قطر الماء حتى يخرج نَقِيًا من الذنوب».
ترجمہ
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی مومن، یا مسلم وضو کرتے وقت چہرہ دھوتا ہے، تو جیسے ہی چہرہ سے پانی گرتا ہے یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے اپنی آنکھوں سے کیے تھے۔ جب وہ ہاتھ دھوتا ہے، تو جیسے ہی ہاتھوں سے پانی کے قطرے گرتے ہیں یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، تو اس کے وہ گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے ہاتھوں سے کیے تھے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے، تو جیسے ہی اس کے پاؤں سے پانی گرتا ہے یا پانی کا آخری قطرہ گرتا ہے، اس کے وہ تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں، جو اس نے اپنے پاؤں سے کیے تھے، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے“۔
تشریح
شرعی وضو میں چار اعضا کو پاک وصاف کیاجاتاہے۔ چہرہ ، دونوں ہاتھ ، سر اور دونوں پاؤں۔ یہ صفائی حسی بھی ہوتی ہے اور معنوی بھی۔ اس کا حسی ہونا تو ظاہر ہے۔ کیوںکہ اس میں انسان اپنا چہرہ، دونوں ہاتھ، اور دونوں پاوں دھوتا ہے اور سر کا مسح کرتاہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سر کو بھی اسی طرح دھویا جاتا، جیسے بقیہ اعضا کو دھویا جاتاہے، لیکن اللہ تعالی نے سر کے معاملے میں تخفیف فرما دی۔ کیوںکہ سر میں بال ہوتے ہیں اور یہ بدن کا سب سے اوپر والا حصہ ہے۔ چنانچہ اگر سر کو دھویا جاتا، خاص طور پر جب کہ اس میں بال بھی ہوں، تو اس میں لوگوں کے لیے مشقت ہوتی، خصوصا سردی کے دنوں میں ۔ لیکن یہ اللہ عزوجل کی رحمت ہے کہ اس نے سر کے معاملے میں صرف مسح کرنا فرض کیا۔ جب انسان وضو کرتاہے تو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ اعضا وضو کو حسی طور پر صاف کرتاہے ۔ یہ اسلام کی اکملیت پر دلیل ہے کہ اس کے ماننے والوں پر فرض کیا گیا ہے کہ وہ ان اعضا کو صاف کریں جو اکثر ظاہر اور کھلے رہتے ہیں ۔ اور طہارت معنویہ سے مراد ایک مسلمان بندے کا گناہوں سے پاکی حاصل کرنے کا عمل ہے۔ جب وہ اپنے چہرے کو دھوتا ہے، تو وہ سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں، جن کا ارتکاب آنکھوں سے ہوا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں آنکھ کا ذکر _واللہ اعلم_ بطور تمثیل ہے۔ ورنہ ناک سے بھی خطا ہوتی ہے، منہ سے بھی خطا ہوتی ہے؛ انسان ایسی باتیں کر لیتا ہے، جو حرام ہیں، ایسی چیزیں سونگھ لیتا ہے، جنھیں سونگھنے کا اسے حق نہیں ہوتا، لیکن آنکھ کا ذکر بطور خاص اس لیے ہواہے کہ اکثر گناہ آنکھ سے ہی سر زد ہوتے ہیں۔ اور اس حدیث میں گناہوں کی معافی سے مراد صغیرہ گناہوں کی معافی ہے۔ جب کہ کبیرہ گناہوں کی بخشش کے لیے توبہ ضروری ہے۔
تشریح: العربية
الوضوء الشرعي تُطهَّر فيه الأعضاء الأربعة: الوجه، اليدان، والرأس، والرجلان. وهذا التطهير يكون تطهيرًا حسيا، ويكون تطهيرا معنويا، أما كونه تطهيرا حسيا فظاهر؛ لأن الإنسان يغسل وجهه، ويديه، ورجليه، ويمسح الرأس، وكان الرأس بصدد أن يغسل كما تغسل بقية الأعضاء، ولكن الله خفف في الرأس؛ ولأن الرأس يكون فيه الشعر، والرأس هو أعلى البدن، فلو غسل الرأس ولا سيما إذا كان فيه الشعر؛ لكان في هذه مشقة على الناس، ولا سيما في أيام الشتاء، ولكن من رحمة الله عز وجل أن جعل فرض الرأس المسح فقط، فإذا توضأ الإنسان لا شك أنه يطهر أعضاء الوضوء تطهيرا حسيا، وهو يدل على كمال الإسلام؛ حيث فرض على معتنقيه أن يطهروا هذه الأعضاء التي هي غالبا ظاهرة بارزة. أما الطهارة المعنوية، وهي التي ينبغي أن يقصدها المسلم، فهي تطهيره من الذنوب، فإذا غسل وجهه خرجت كل خطايا نظر إليها بعينه، وذكر العين -والله أعلم- إنما هو على سبيل التمثيل، وإلا فالأنف قد يخطئ، والفم قد يخطئ؛ فقد يتكلم الإنسان بكلام حرام، وقد يشم أشياء ليس له حق يشمها، ولكن ذكر العين؛ لأن أكثر ما يكون الخطأ في النظر. وتكفير الذنوب في الحديث يراد بها الصغائر، أما الكبائر فلا بد لها من توبة.
- فضل الوضوء، وأن المواظبة عليه وسيلة للنقاء من الذنوب.
- كل عضو من أعضاء الإنسان يقع في بعض المعاصي، فالعين بالنظر، واليد بالبطش واليد بالسرقة ونحو ذلك، ولذلك الذنوب تتبع كل جارحة اكتسبتها، وتخرج من كل جارحة تاب منها.
- وجوب غسل القدمين وعدم إجزاء مسحهما.
- الوضوء يكفر خطايا هذه الأعضاء التي يجري عليها ماؤه.