حدیث

لڑکے کی کہانی، بادشاہ، جادوگر اور راہب کے ساتھ

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن صهيب بن سنان الرومي رضي الله عنه مرفوعا: «كان ملك فيمَن كان قَبلَكم وكان له ساحِر فَلَمَّا كَبِرَ قال للمَلِكِ: إنِّي قد كَبِرْتُ فَابْعَثْ إلى غلامًا أُعَلِّمْهُ السِّحْر؛ فبعث إليه غلامًا يُعَلِّمُهُ، وَكانَ في طرِيقِهِ إِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ، فَقَعدَ إليه وسَمِعَ كَلامَهُ فَأعْجَبَهُ، وكان إذا أتَى السَّاحِرَ، مَرَّ بالرَّاهبِ وَقَعَدَ إليه، فَإذَا أَتَى الساحر ضَرَبَهُ، فَشَكَا ذلِكَ إِلَى الرَّاهِب، فَقَالَ: إِذَا خَشِيتَ الساحر فَقُل: حَبَسَنِي أَهلِي، وَإذَا خَشِيتَ أهلَكَ فَقُل: حَبَسَنِي السَّاحِرُ . فَبَينَما هو عَلَى ذلِك إِذ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَد حَبَسَت النَّاسَ، فَقَال: اليومَ أعلَمُ السَّاحرُ أفضَلُ أم الرَّاهبُ أفضَل؟ فَأخَذَ حَجَرا، فَقَالَ: اللَّهُم إن كَانَ أمرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إليكَ مِن أمرِ السَّاحِرِ فَاقتُل هذه الدّابَّة حَتَّى يَمضِي النَّاسُ، فَرَمَاهَا فَقَتَلَها ومَضَى النَّاسُ، فَأتَى الرَّاهبَ فَأَخبَرَهُ. فَقَالَ لَهُ الرَّاهبُ: أَي بُنَيَّ أَنتَ اليومَ أفضَل منِّي قَد بَلَغَ مِن أَمرِكَ مَا أَرَى، وَإنَّكَ سَتُبْتَلَى، فَإن ابتُلِيتَ فَلاَ تَدُلَّ عَلَيَّ؛ وَكانَ الغُلامُ يُبرِىءُ الأكمَهَ وَالأَبرصَ، ويُداوي النَّاس من سَائِرِ الأَدوَاء، فَسَمِعَ جَليس لِلملِكِ كَانَ قَد عَمِيَ، فأتاه بَهَدَايا كَثيرَة، فَقَالَ: مَا ها هُنَا لَكَ أَجمعُ إن أنتَ شَفَيتَنِي، فقال: إنّي لا أشْفِي أحَدًا إِنَّمَا يَشفِي اللهُ تَعَالَى، فَإن آمَنتَ بالله تَعَالَى دَعَوتُ اللهَ فَشفَاكَ، فَآمَنَ بالله تَعَالَى فَشفَاهُ اللهُ تَعَالَى، فَأَتَى المَلِكَ فَجَلسَ إليهِ كَما كَانَ يَجلِسُ، فَقَالَ لَهُ المَلِكُ: مَن رَدّ عليكَ بَصَرَكَ؟ قَالَ: رَبِّي، قَالَ: وَلَكَ رَب غَيري؟ قَالَ: رَبِّي وَرَبُّكَ اللهُ، فَأَخَذَهُ فَلَم يَزَل يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الغُلامِ، فَجيء بالغُلاَمِ، فَقَالَ لَهُ المَلِك: أيْ بُنَيَّ، قد بَلَغَ مِن سِحرِك مَا تُبْرىء الأكمَهَ وَالأَبْرَصَ وتَفعل وتَفعل؟! فَقَالَ: إنِّي لا أَشفي أحَدًا، إِنَّمَا يَشفِي الله تَعَالَى. فَأَخَذَهُ فَلَم يَزَل يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهبِ؛ فَجِيء بالرَّاهبِ فَقيلَ لَهُ: ارجِع عن دينكَ، فَأَبى، فَدَعَا بِالمنشَار فَوُضِعَ المِنشارُ في مَفْرق رأسه، فَشَقَّهُ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ، ثُمَّ جِيءَ بِجَليسِ المَلِكِ فقيل لَهُ: ارجِع عن دِينِك، فَأَبَى، فَوضِعَ المِنشَارُ في مَفْرِق رَأسِه، فَشَقَّهُ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ، ثُمَّ جِيءَ بالغُلاَمِ فقيلَ لَهُ: ارجِع عَن دِينكَ، فَأَبَى، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَر مِن أصحَابه، فَقَالَ: اذهبوا بِه إِلى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَاصعَدُوا بِهِ الجَبَل، فَإِذَا بَلَغتُم ذِرْوَتَهُ فَإِن رَجَعَ عَن دِينِهِ وَإلاَّ فَاطرَحُوهُ. فَذَهَبُوا بِهِ فَصَعِدُوا بِهِ الجَبَلَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أكْفنيهم بِمَا شِئْتَ، فَرَجَفَ بهِمُ الجَبلُ فَسَقَطُوا، وَجاءَ يَمشي إِلَى المَلِكِ، فَقَالَ لَهُ المَلِكُ: مَا فَعَلَ أصْحَابُكَ؟ فَقَالَ: كَفَانِيهمُ الله تَعَالَى، فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَر مِن أَصحَابِه فَقَالَ: اذهَبُوا بِهِ فاحمِلُوهُ في قُرْقُورٍ وتَوَسَّطُوا بِهِ البَحر، فَإن رَجعَ عَن دِينِه وإِلاَّ فَاقْذِفُوه. فَذَهَبُوا بِهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اكْفِنيهم بمَا شِئتَ، فانكَفَأَت بِهمُ السَّفينةُ فَغَرِقُوا، وَجَاء يمشي إِلَى المَلِكِ. فقال له الملِك: ما فعلَ أصحابك؟ فَقَالَ: كَفَانيهمُ الله تَعَالَى. فَقَالَ لِلمَلِكِ: إنَّكَ لست بقاتلي حتى تفعل ما آمُرُكَ به. قَالَ: ما هو؟ قَالَ: تجمع الناس في صعيد واحد وتَصْلبني على جِذع، ثم خُذ سهمًا من كِنَانَتي، ثم ضَعِ السهم في كَبدِ القوس ثم قل: بسم الله رب الغلام، ثم ارْمِني، فإنَّكَ إِذَا فَعَلت ذلك قَتَلتَني، فَجَمَعَ النَّاسَ في صَعيد واحد، وَصَلَبَهُ عَلَى جِذْع، ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا من كِنَانَتِهِ، ثم وضع السهم في كَبِدِ القوس، ثم قَالَ: بسم الله رب الغلام، ثم رَمَاهُ فَوقَعَ في صُدْغِهِ، فَوَضَعَ يَدَهُ في صُدْغِهِ فمات، فقال الناس: آمَنَّا بِرَبِّ الغُلامِ، فأتي المَلِكُ فقيلَ لَهُ: أَرَأَيْتَ مَا كنت تَحْذَرُ قَد والله نَزَلَ بكَ حَذَرُكَ، قد آمَنَ الناس. فأَمَرَ بِالأُخْدُودِ بأفْواهِ السِّكَكِ فَخُدَّتْ وأُضْرِمَ فيها النِّيرانُ وقال: من لم يَرْجِع عن دينه فأقحموه فيها، أو قيلَ لَهُ: اقتَحِم فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءت امرأة ومعَها صَبيٌّ لها، فتَقَاعَسَت أن تَقَع فيها، فقال لها الغُلام: يا أمه اصبِري فإنَّكِ َعلى الحقِّ».

ترجمہ

صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادو گر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں تو بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لیے جادوگر کے پاس بھیج دیا، جب وہ لڑکا چلا تو اس کے راستے میں ایک راہب تھا تو وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا جو کہ اسے پسند آئیں، پھر جب بھی وہ جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گزرتا تو اس کے پاس بیٹھتا (اور اس کی باتیں سنتا) اور جب وہ لڑکا جادوگر کے پاس آتا تو وہ جادوگر اس لڑکے کو (دیر سے آنے کی وجہ سے) مارتا، تو اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر سے ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے ڈر ہو تو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔ اسی دوران ایک بہت بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا (جب لڑکا اس طرف آیا) تو اس نے کہا: میں آج جاننا چاہتا ہوں کہ جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے؟ اس نے ایک پتھر لیا اور کہا ”الٰہی اگر راہب کا طریقہ تجھے جادوگر کے طریقے سے زیادہ پسند ہو، تو اس جانور کو قتل کر تاکہ لوگ گزر جائیں“۔ پھر لڑکے نے اس جانور کو پتھر سے مارا تو وہ جانور مر گیا اور لوگ گزرنے لگے۔ پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اس سے یہ حال کہا تو وہ بولا کہ بیٹا تو مجھ سے بڑھ گیا ہے، یقیناً تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو عنقریب آزمایا جائے گا۔ پھر اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا۔ اور وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کر دیتا تھا بلکہ ہر ایک بیماری کا علاج بھی کر دیتا تھا۔ بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمہارے لیے ہوجائیں گے، اس لڑکے نے کہا کہ میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفا دے دے۔ پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرما دی۔ پھر وہ آدمی بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا جس طرح کہ وہ پہلے بیٹھا کرتا تھا، بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹا دی؟ اس نے کہا: میرے رب نے۔ اس نے کہا کہ کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی رب بھی ہے؟ اس نے کہا : میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔ پھر بادشاہ اس کو پکڑ کر اسے عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو لڑکے کے بارے میں بتادیا۔ چنانچہ اس لڑکے کو لایا گیا، تو بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ اے بیٹے! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو بھی صحیح کرنے لگ گیا ہے اور ایسے ایسے کرتا ہے؟ لڑکے نے کہا: میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا، بلکہ شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے بادشاہ نے اس کو پکڑا اور مارتا رہا، یہاں تک کہ اس نے راہب کا نام بتلایا۔راہب پکڑ لیا گیا۔ اس سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جا۔ اس کے نہ ماننے پربادشاہ نے آرا منگوا کراس کے سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چیر کر دو ٹکڑے کروا دیا پھر بادشاہ کے ہم نشین کو لایا گیا اور اس سے بھی کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا، بادشاہ نے آرا منگوا کراس کے بھی سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چروا کر دو ٹکڑے کرادیا پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کر دے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو مجھے ان سے کافی ہے جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے، اس پہاڑ پر فورا ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گر گئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ: تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا: اللہ پاک نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کو ایک چھوٹی کشتی میں دریا کے اندر لے جاؤ، اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو خیر، ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دینا۔ وہ لوگ اس کو لے گئے۔ لڑکے نے کہا کہ اے اللہ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے، پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا :تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ تو مجھے اس وقت تک نہ مار سکے گا، جب تک کہ جو طریقہ میں بتلاؤں وہ نہ کرے۔ بادشاہ نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ اس لڑکے نے کہا کہ سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر کو پکڑو پھر اس تیر کو کمان کے وسط میں رکھو اور پھر کہو:اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو پھر بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکا دیا پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا پھر اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھ کر کہا: اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مر گیا تو سب لوگوں نے کہا: ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے! ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے! ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے! بادشاہ آیا اور اس سے کہا گیا کہ جس سے تو ڈرتا تھا وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے۔ بادشاہ نے گلیوں کے دہانوں پر خندق کھودنے کا حکم دیا پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی بادشاہ نے کہا کہ جو شخص اس (لڑکے) کے دین سے نہ پھرے، اسے ان خندقوں میں دھکیل دو، یا اس سے کہا جائے کہ ان خندقوں میں داخل ہو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ عورت آگ میں گرنے سے جھجھکی (پیچھے ہٹی) تو بچے نے کہا کہ اے امی جان! صبر کر کیونکہ تو حق پر ہے۔

تشریح

اس حدیث میں ایک عجیب وغریب قصّے کا بیان ہے اور وہ یہ کہ سابقہ زمانہ میں ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا، بادشاہ نے اس جادوگر کو اپنا خاص مشیر بنا رکھا تھا تاکہ اسے اپنے مقاصد میں استعمال کرے گرچہ وہ دین کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ بادشاہ اپنے ذاتی مقاصد کا خاص دھیان رکھتا تھا اور وہ ظالم بادشاہ تھا جو لوگوں کو اپنی عبادت کے لیے بھی مجبور کرتا تھا۔ یہ جادوگر جب بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں۔ جادوگر نے لڑکے کا انتخاب کیا کیونکہ لڑکا تعلیم حاصل کرنے اہل اور زیادہ مناسب ہوتا ہے اور وہ جب کوئی چیز سیکھتا ہے تو جلدی نہیں بھولتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس لڑکے کے ساتھ اچھائی کا ارادہ کیا، چنانچہ اس لڑکے کا گزر ایک دن ایک راہب کے پاس سے ہوا اور اس نے اس کی باتیں سنیں جو اس کو پسند آئیں، کیونکہ یہ راہب یعنی عبادت گزار اللہ کی عبادت کرتا اور صرف اچھی باتیں بولتا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی عبادت گزار عالم ہو لیکن اس پر رہبانیت کا غلبہ تھا، اسی لیے اس کا نام راہب پڑا۔ چنانچہ یہ لڑکا جب گھر سے نکلتا اور راہب کے پاس بیٹھتا تو جادوگر کے پاس دیر سے پہنچتا تو جادوگر اس لڑکے کو مارتا کہ تو دیر سے کیوں آتا ہے؟ لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی اور مار سے بچنے کا نسخہ دریافت کیا، راہب نے کہا کہ جب تو جادوگر کے پاس جائے اور مار کا ڈر ہو تو کہہ دیا کرنا کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اورجب تو گھر والوں کے پاس جائے اور تاخیر کی وجہ پوچھیں تو کہہ دینا کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا، اس طرح تو دونوں کی ڈانٹ سے محفوظ ہوجائے گا ـــــــ اللہ ہی بہتر جانے ــــــــ راہب نے اس لڑکے کو ایسا کرنے کے لیے کہا جب کہ وہ جھوٹ تھا، شاید اس نے یہ سوچا ہوگا کہ اس میں جو مصلحت پوشیدہ ہے وہ جھوٹ کے نقصان پر غالب ہے، یا پھر اس کا ارادہ توریہ اور معنوی طور پر روکنے کا رہا ہے۔ لڑکے نے ایسا ہی کیا اور اس قابل ہوگیا کہ وہ راہب کے پاس آتا اور اس کی باتیں سنتا اور پھر جادوگر کے پاس جاتا، جب جادوگر اپنے پاس دیر سے آنے پر اس کو سزا دیتا تو کہتا کہ میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب گھر لوٹتا اور راہب کے پاس دیر ہوجاتی تو کہتا ہے کہ جادوگر نے روک لیا تھا۔ ایک دن ایک بہٹ بڑا جانور شیر گزرا اور اس نے لوگوں کا راستہ روک لیا، لڑکا اس طرف آیا تو اس نے کہا میں آج آزمانا چاہوں گا کہ جادوگر میرے لیے افضل ہے یا راہب بہترہے، اورپھر ایک پتھر لیا اور کہنے لگا: اے اللہ! اگر راہب کا معاملہ میرے لیے بہتر ہے تو اس پتھر سے یہ جانور مرجائے، پھر اس کو پتھر سے مارا تو وہ جانور مرگیا اور لوگ گزرنے لگے۔ اور لڑکے نے جان لیا کہ راہب کا معاملہ جادوگر کے بالمقابل اس کے حق میں بہتر ہے۔ پھر لڑکے نے راہب کو اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا: آج تو مجھ سے افضل ہے، یقیناً تیرا رتبہ یہاں تک پہنچا جو میں دیکھتا ہوں اور تو عنقریب آزمایا جائے گا،اور اگر تو آزمایا جائے تو میرا نام نہ بتلانا۔ (اس لڑکے کا حال یہ تھا کہ) وہ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کی ہر بیماری کا علاج بھی کردیتا تھا۔ بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفائف لے کراس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحائف جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ تمہارے لیے ہوجائیں گے، اس لڑکے نے کہا کہ میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے، اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تمہیں شفا دے دے، پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے شفا عطا فرمادی۔پھر اس اندھے آدمی کو لایا گیا جوکہ بادشاہ کا ہم نشین تھا، وہ اللہ پر ایمان لے آیا اور بادشاہ پر ایمان لانے سے انکار کردیا، بادشاہ نے اس سے کہا کہ وہ اپنے دین سے پھر جائے لیکن لڑکے نے انکار کردیا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ (مشکل حالات میں) انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے۔ پھر راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھرجا، راہب نے انکار کردیا۔ اس پر بادشاہ نے آرا منگوا کر اس کے سر کی مانگ پر رکھوایا اور اسے چروا کر دو ٹکڑے کروادیا۔ پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا، وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھرجا۔ اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا: اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ، اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کردے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے دھکیل دینا۔ چنانچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا: اے اللہ! تو میرے لیے اُن کے بالمقابل کافی ہے، جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچالے۔ اس پہاڑ پر فوراً ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گرگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا۔ بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ لڑکے نے کہا: اللہ پاک نے مجھے ان سے بچالیا ہے۔پھر بادشاہ نے اس کو اپنے چند ساتھیوں کے حوالے کیا اور کہا کہ اس کو ایک کشتی میں دریا کے اندر لے جاؤ، اگر اپنے دین سے پھر جائےتو خیر، ورنہ اس کو دریا میں دھکیل دینا۔ وہ لوگ اس کو لے گئے، لڑکے نے کہا کہ اے اللہ! تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے، چنانچہ وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کے پاس پہنچا۔بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے، پھر لڑکے نے بادشاہ سے کہا کہ تو مجھے اس وقت تک نہ مارے سکے گا جب تک کہ جو طریقہ میں بتلاؤں وہ نہ کرے، بادشاہ نے کہا کہ وہ کیا ہے؟ اس لڑکے نے کہا کہ سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر نکالو اور اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھو اور پھر کہو: اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو! چنانچہ بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکادیا، پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا اور اس تیر کو کمان کے بیچ میں رکھ کر کہا کہ اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے، پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا، تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مر گیا، (یہ دیکھ کر) سب لوگوں نے کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پرایمان لائے، ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ آیا اور اس سے کہا گیا کہ: جس سے ڈر رہے تھے وہی ہوا یعنی لوگ ایمان لے آئے۔ چنانچہ بادشاہ نے راستوں کے دروازوں پر خندق کھودنے کا حکم دے دیا۔ پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلادی گئی، بادشاہ نے کہا: جو شخص اس دین سے (یعنی لڑکے کے دین سے) نہ پھرے اسے خندقوں میں دھکیل دو، یا اس سے کہا جائے کہ ان خندقوں میں داخل ہو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی جس کی گود میں اس کا بچہ بھی تھا، وہ عورت (بچے کی وجہ سے) آگ میں کودنے سے پیچھے ہٹی تو بچے نے کہا کہ: اے امی جان صبر کر! اس لیے کہ تو حق پر ہے۔

تشریح: العربية

هذا الحديث فيه قصة عجيبة: وهي أن رجلاً من الملوك فيمن سبق كان عنده ساحر اتخذه الملك مستشارًا؛ من أجل أن يستخدمه في مصالحه ولو على حساب الدين؛ لأن هذا الملك لا يهتم إلا بما فيه مصلحته، وهو ملك مستبد قد عبَّد الناس لنفسه. هذا الساحر لما كبُر قال للملك: إني قد كبرت فابعث إلى غلاما أعلمه السحر. واختار الغلام ؛ لأن الغلام أقبل للتعليم؛ ولأن التعليم للغلام الشاب هو الذي يبقي، ولا ينسى. ولكن الله تعالى قد أراد بهذا الغلام خيراً‍. مرَّ هذا الغلام يوماً من الأيام براهب، فسمع منه فأعجبه كلامه؛ لأن هذا الراهب- يعني العابد- عابد لله عز وجل، لا يتكلم إلا بالخير، وقد يكون راهباً عالماً لكن تغلب عليه العبادة فسمي بما يغلب عليه من الرهبانية، فصار هذا الغلام إذا خرج من أهله جلس عند الراهب فتأخَّر على الساحر، فجعل الساحر يضربه، لماذا تتأخر؟ فشكا الغلام إلى الراهب وطلب أمرًا يتخلص به، قال: إذا ذهبت إلى الساحر وخشيت أن يعاقبك فقل: أخرني أهلي. وإذا ذهبت لأهلك وسألوك فقل: إن الساحر أخَّرني؛ حتى تنجو من هذا ومن هذا. وكان الراهب -والله أعلم- أمره بذلك -مع أنه كذب- لعله رأى أن المصلحة في هذا تزيد على مفسدة الكذب، أو قصد التورية، والحبس المعنوي، ففعل، فصار الغلام يأتي إلى الراهب ويسمع منه، ثم يذهب إلى الساحر، فإذا أراد أن يعاقبه على تأخره قال: إن أهلي أخَّروني، وإذا رجع إلى أهله وتأخر عند الراهب قال: إنَّ الساحر أخَّرني. فمرَّ ذات يوم حيوان عظيم، وهو أسد، قد حبس الناس عن التجاوز، فلا يستطيعون أن يتجاوزوه، فأراد هذا الغلام أن يختبر: هل الراهب خير له أم الساحر، فأخذ حجراً، ودعا الله سبحانه وتعالى إن كان أمر الراهب خير له أن يقتل هذا الحجر الدابة، فرمى بالحجر، فقتل الدابة، فمشى الناس. فعرف الغلام أن أمر الراهب خير من أمر الساحر، فأخبر الراهب بما جرى فقال له الراهب: أنت اليوم خير مني، قد بلغ من أمرك ما أرى وإنك ستبتلي فإن ابتليت فلا تدل علي. وكان الغلام يبرئ الأكمه والأبرص، ويداوي الناس من سائر الأدواء. فسمع جليس للملك كان قد أصابه العمى، فأتاه بهدايا كثيرة فقال: ما هاهنا لك أجمع إن أنت شفيتني فقال: إني لا أشفي أحداً، إنما يشفي الله تعالى، فإن آمنت بالله دعوتُ الله فشفاك، فآمن بالله تعالى فشفاه الله، ثم جئ بالرجل الأعمى الذي كان جليساً عند الملك وآمن بالله، وكفر بالملك، فدعي أن يرجع عن دينه فأبى، وهذا يدل على أن الإنسان عليه أن يصبر. فجيء بالراهب فقيل له: ارجع عن دينك فأبى فدعا بالمنشار فوضع المنشار في مفرق رأسه فشقه به حتى وقع شقاه، ثم جيء بالغلام فقيل له: ارجع عن دينك فأبى، فدفعه إلى نفر من أصحابه فقال: اذهبوا به إلى جبل كذا وكذا فاصعدوا به الجبل، فإذا بلغتم أعلاه فإن رجع عن دينه وإلا فاطرحوه فذهبوا به فصعدوا به الجبل، فقال: اللهم اكفينهم بما شئت، فاهتز بهم الجبل فسقطوا، وجاء يمشي إلى الملك فقال له الملك: ما فعل بك بأصحابك؟ فقال: كفانيهم الله تعالى، فدفعه إلى نفر من اصحابه فقال: اذهبوا به فاحملوه في سفينة وتوسطوا به البحر، فإن رجع عن دينه وإلا فاقذفوه، فذهبوا به فقال: اللهم اكفينهم بما شئت، فانقلبت بهم السفينة فغرقوا، وجاء يمشي إلى الملك فقال له الملك: ما فعل بأصحابك؟ فقال: كفانيهم الله تعالى، فقال للملك: إنك لن تستطيع قتلي حتى تفعل ما آمرك به، قال: ما هو؟ قال: تجمع الناس في مكان واحد وتصلبني على جذع، ثم خذ سهما من وعائي الذي أضع فيه السهام، ثم ضع السهم في وسط القوس، ثم قل: بسم الله رب الغلام، ثم ارمني، فإنك إذا فعلت ذلك قتلتني. فجمع الناس في صعيد واحد، وصلبه على جذع، ثم أخذ سهمًا من وعائه الذي يضع فيها السهام، ثم وضع السهم في وسط القوس، ثم قال: بسم الله رب الغلام، ثم رماه فوقع السهم في صدغه، فوضع يده في صدغه فمات. فقال الناس: آمنا برب الغلام، فأتى الملك فقيل له: أرأيت ما كنت تحذر؟ قد والله نزل بك ما كنت تحذر، قد آمن الناس. فأمر بالأخدود بأبواب الطرق فَشُقَّت، وأُوقِدَت فيها النيران وقال: من لم يرجع عن دينه فاقحِمُوه فيها، أو قيل له: اقتحم، ففعلوا، حتى جاءت امرأة ومعها صبي لها، فتأخرت أن تقع فيها رحمة بصبيها، فقال لها الصبي: يا أماه اصبري فإنك على الحق.

  • إثبات كرامة الأولياء، في قتل الأسد برمية الغلام، وفي إجابة دعاء الغلام مرتين، وفي كلام الرضيع.
  • نصر من توكل على الله -سبحانه-.
  • أن أعمى القلب لا يبصر الحق.
  • بيان شرف الصبر والثبات على الدين.
  • أن الحكمة في التعلم في أول العُمر؛ لأنَّ الشاب في الغالب أسرع حفظاً من الكبير.
  • قُوَّة إيمان هذا الغلام، وأنه لم يتزحزح عن إيمانه ولم يتحول.
  • إكرام الله -عز وجل- الغلام بقبول دعوته.
  • أن الله -عز وجل- يجيب دعوة المضطر إذا دعاه.
  • أن الإنسان يجوز أن يغرر بنفسه في مصلحة عامة للمسلمين، فإن هذا الغلام دل الملك على أمر يقتله به ويهلك به نفسه، وهو ان يأخذ سهماً من كنانته ويضعه في كبد القوس ويقول: باسم الله رب الغلام.
  • جواز الكذب في الحرب ونحوها، وفي إنقاذ النفس من الهلاك.
  • المؤمن يُختَبر في صدق إيمانه والثبات على قول الحق، وإن وصل به الأمر إلى إزهاق نفسه.
  • التضحية في سبيل الدعوة إلى الله وإظهار الحق.
  • أن الله يظهر الحق وينصر أهله، ويهزم الباطل وحزبه.
  • إثبات نبوة نبينا -صلى الله عليه وسلم-؛ لإخباره عن المغيبات التي نسيها التأريخ.
  • استعمال المربي القصص في التوجيه؛ لأن فيه تأثيرا قد لا يكون بالموعظة المباشرة.
  • استعانة الملوك والذين لا يحكمون بشرع الله بالسحرة والعرافين.
  • قلوب العباد بيد الله فيهدي من يشاء ويضل من يشاء، فقد اهتدى الغلام وهو في أحضان الساحر وعناية الملك العاثر.
  • عدم الاغترار بالكرامة ونسبتها إلى الله؛ لأنها من فضل الله -تعالى-.
  • جواز سؤال الله -تعالى- أن يري العبد علامة يعرف بها الصواب ويحصل له اليقين.
  • أهل الإيمان يسخرون كل ما أتاهم الله وتفضل به عليهم لخدمة دينه والدعوة إلى سبيله.
  • بيان لحقيقة الصراع بين الطواغيت والدعاة إلى الله، وسبب ذلك: أن الدعاة يريدون تعبيد العباد لرب العباد وحده، بينما الطواغيت يريدون من الناس أن يتخذونهم أربابا من دون الله -تعالى-.
  • أسباب الهلاك بيد الله، فإن شاء أنفذها وإن شاء قطعها.
  • الإصرار على إيصال الدعوة إلى الله إلى كافة الناس ولو كان ذلك يؤدي إلى الموت في سبيل الله -تعالى-.
  • قد تكرر الكرامة للعبد المؤمن مرة بعد مرة تثبيتًا له على ما هو عليه من الحق، وزجرًا لخصومه ومبغضيه.
  • أهل الكفر لا تنقصهم الحجج والبراهين ليؤمنوا، وإنما سبب كفرهم هو العناد والكبر.
  • الطواغيت والظالمون عندهم الاستعداد لقتل الناس جميعًا ليبقوا على ما هم فيه من نعيم الدنيا.
  • أن الله يعاقب الذين ظلموا من حيث لم يحتسبوا، فقد آمن الناس برب الغلام عندما رأوا ثباته وصدق دعوته وعدم خشيته في الله لومة لائم.
  • هناك من تكلم في المهد غير المسيح -عليه السلام-، وهذا الحديث يشرح قول رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لم يتكلم في المهد إلا ثلاثة..."، وذكرهم، وحصرهم في بني إسرائيل دون غيرهم.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید