ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أنس بن مالك رضي الله عنه مرفوعاً: «أُمِر بِلاَل أن يَشفَع الأَذَان، ويُوتِر الإِقَامَة».
ترجمہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان کےکلمات کو دو دو دفعہ اور اقامت کے کلمات کو ایک ایک دفعہ کہیں۔
تشریح
نبی ﷺ نے اپنے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان کے کلمات کو دوہرا کر کہیں، کیوںکہ یہ غیر موجود لوگوں کو باخبر کرنے کے لیے ہوتی ہے، اس لیے اس کے الفاظ کو دو دو دفعہ کہیں۔ ماسوا شروع والی تکبیر کے؛ کیوں کہ اسے چار دفعہ کہنا ثابت ہے اور سوائے آخر میں بولےجانے والے کلمہ توحید کے؛ کیوں کہ اسے ایک دفعہ کہنا ثابت ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اقامت کو اکہرا کہیں؛ کیوں کہ یہ موجود لوگوں کو متنبہ کرنے کے لیے ہوتی ہے، بایں طور کہ اس کے جملوں کو ایک ایک دفعہ کہیں، سوائے تکبیر اور "قد قامت الصلوۃ" کے؛ کیوں کہ انھیں دو دو دفعہ کہنا ثابت ہے۔
تشریح: العربية
أمر النبي صلى الله عليه وسلم مؤذنه بلالا رضي الله عنه أن يشفع الآذان لأنه لإعلام الغائبين، فيأتي بألفاظه مثنى، وهذا عدا (التكبير) في أوله، فقد ثبت تربيعه و(كلمة التوحيد) في آخره، فقد ثبت إفرادها،كما أمر بلالا أيضا أن يوتر الإقامة، لأنها لتنبيه الحاضرين، وذلك بأن يأتي بجملها مرة مرة، وهذا عدا (التكبير)، و"قد قامت الصلاة" فقد ثبت تثنيتهما فيها.
- الأذان والإقامة فرض كفاية، لدلالة الأمر الصادر من النبي -صلى الله عليه وسلم-؛ فإنَّ الصيغة تقتضي رفع الحديث.
- استحباب شفع الأذان وإيتار الإقامة من غير وجوب لوجود أدلة أخرى على غير هذه الصيغة.
- شدَّة الاهتمام بالأذان على الإقامة؛ لكونه نداء للبعيد.
- المراد بشفع الأذان ماعدا التكبيرات الأربع في أوله، وكلمة التوحيد في آخره، لوجود أدلة أخرى.
- المراد بوتر الإقامة ماعدا التكبيرتين في أولها و [قد قامت الصلاة]، فإنهما مشفوعتان لتخصيصهما بأدلة أخر.
- حكمة شفع الأذان؛ ليتحقق سماع البعيدين الغائبين.
- الحكمة من إِيتَار الإقامة؛ لأنها للحاضرين في الأصل، ولغيرهم بالتبعية.