حدیث

میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ جب آپ ﷺ مکہ تشریف لاتے، تو پہلے طواف شروع کرتے وقت حجر اسود کو بوسہ دیتے اور سات چکروں میں سے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: « تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الوَدَاع بالعُمرَة إلى الحج وأهدَى، فَسَاقَ مَعَهُ الهَدْيَ مِن ذِي الحُلَيفَة، وَبَدَأَ رَسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَهَلَّ بالعمرة، ثُمَّ أَهَلَّ بالحج، فَتَمَتَّعَ النَّاس مع رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بالعمرة إلَى الحج، فَكَان مِن النَّاس مَنْ أَهْدَى، فَسَاقَ الهَدْيَ مِن ذي الحُلَيفَة، وَمِنهُم مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم قَالَ للنَّاس: مَنْ كَانَ مِنكُم أَهْدَى، فَإِنَّهُ لا يَحِلُّ مِن شَيء حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَن لَم يَكُن أَهْدَى فَلْيَطُفْ بالبَيت وَبالصَّفَا وَالمَروَة، وَلْيُقَصِّر وَلْيَحْلِل، ثُمَّ لِيُهِلَّ بالحج وليُهدِ، فَمَن لم يجد هَدْياً فَلْيَصُم ثَلاثَةَ أَيَّام فِي الحج وَسَبعة إذَا رَجَعَ إلى أَهلِهِ فَطَافَ رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاستَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ مِنْ السَّبْعِ، وَمَشَى أَربَعَة، وَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بالبيت عِند المَقَام رَكعَتَين، ثُمَّ انصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا، وطاف بِالصَّفَا وَالمَروَة سَبعَةَ أَطوَاف، ثُمَّ لَم يَحلِل مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ منه حَتَّى قَضَى حَجَّهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ يوم النَّحرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بالبيت، ثُمَّ حَلَّ مِن كُلِّ شَيء حَرُمَ مِنهُ، وَفَعَلَ مِثل مَا فَعَلَ رَسول اللَّه صلى الله عليه وسلم : مَن أَهدَى وَسَاقَ الهَديَ مِن النَّاسِ». «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ يَقْدَمُ مكَّة إذا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الأَسْوَدَ -أَول ما يَطُوفُ- يَخُبُّ ثَلاثَةَ أَشْوَاطٍ».

ترجمہ

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا اور ذوالحلیفہ کے مقام سے ہدی (قربانی) کا جانور ساتھ لے لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھا پھر اس کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا۔ لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا۔ بعض لوگ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے، چنانچہ وہ ذو الحلیفہ سے انہیں لیکر چلے اور بعض وہ تھے جو قربانی کا جانور اپنے ساتھ نہیں لائے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ (مکہ) پہنچ گئے تو لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے، اس کے لئے کوئی حرام چیزحلال نہیں ہے جب تک کہ وہ حج کو پورا نہ کرلے اور جو شخص قربانی کا جانور ساتھ نہ لایا ہے تو وہ (عمرہ کے لئے) خانہ کعبہ کا طواف کرے، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے اوربال کتروا کر (عمرہ کا) احرام کھول دے (یعنی جو چیزیں حالت احرام میں ممنوع تھیں انہیں مباح کر لے) اور اس کے بعد حج کے لئے دوبارہ احرام باندھے اور قربانی کرے۔ جس شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ ہو وہ ایام حج میں تین روزے رکھے اورسات روزے تب رکھےجب وہ اپنے اہل و عیال میں واپس پہنچ جائے۔ بہر کیف رسول اللہ ﷺ نے مکہ پہنچ کر (عمرہ کے لئے) خانہ کعبہ کا طواف کیا اور سب سے پہلےحجر اسود کو استلام کیا۔ پھر طواف کے سات چکروں میں سے تین چکروں میں رمل فرمایا (یعنی تیز رفتاری سے چلے) اور باقی چار چکروں میں اپنی معمول حالت میں چلے، پھر خانہ کعبہ کے گرد طواف پورے کرنے کے بعد مقام ابراہیمی پر دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد (خانہ کعبہ) سے لوٹ کر صفاء پر آئے اور صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ پھر ان چیزوں میں سے کسی کو اپنے اوپر حلال نہیں فرمایا جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا (یعنی احرام سے باہر نہ آئے) یہاں تک کہ آپ ﷺاپنے حج سے فارغ ہوگئے اور قربانی کے دن اپنی قربانی ذبح کی اور پھر مکہ واپس لوٹ آئے اور طواف افاضہ کیا اور ان چیزوں کو جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا حلال کرلیا اور لوگوں میں سے جو لوگ اپنے ساتھ قربانی لائے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا۔ (ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ) میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ مکہ تشریف لائے تو طواف شروع کرتے وقت پہلے حجر اسود کو استلام کیا اور (طواف کے سات چکروں میں سے) تین چکروں میں رمل کیا۔

تشریح

نبی ﷺ جب اپنے اس حج کے لیے اہل مدینہ کے میقات ذو الحلیفہ کی طرف روانہ ہوئے، جس میں آپ ﷺ نے بیت اللہ، مناسکِ حج اور لوگوں کو الوداع کہا، لوگوں تک اپنا پیغام رسالت پہنچایا اور اس پر انھیں گواہ بنایا، تو آپ ﷺ نے عمرہ اور حج دونوں کی نیت سے احرام باندھا۔ آپ ﷺ حج قران کر رہے تھے۔ حج قران تمتع کہلاتا ہے۔ لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمتع کیا۔ چنانچہ ان میں سے بعض نے تو عمرہ و حج دونوں کی نیت سے احرام باندھا اور بعض نے صرف عمرہ کے لیےاحرام باندھا اور اس سے فارغ ہونے کے بعد دل میں حج کی نیت رکھی، جب کہ کچھ لوگوں نے اکیلے حج کی نیت سے احرام باندھا۔ نبی ﷺ نے لوگوں کو ان تینوں صورتوں میں اختیار دیا تھاکہ وہ جیسے چاہیں، کر لیں۔ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے کچھ صحابہ ذو الحلیفہ ہی سے اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے کر چلے تھے، جب کہ بعض لوگوں نے ہدی کے جانور اپنے ساتھ نہیں لیے تھے۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ہدی کا جانور ساتھ نہیں لائے تھے اور انھوں نے یا تو اکیلے حج کی نیت کر رکھی تھی یا پھر عمرہ و حج دونوں کی نیت کے ساتھ احرام باندھا تھا، ترغیب دلائی کہ وہ حج کی نیت کو فسخ کرتے ہوئے اسے عمرہ بنا دیں۔ جب انھوں نے طواف اور سعی کر لی، تو آپ ﷺ نے انھیں تاکید فرمائی کہ اپنے بال کتروا کر عمرہ کا احرام کھول دیں اور پھر حج کے لیے احرام باندھیں اور قربانی دیں؛ کیوںکہ انھوں نے ایک ہی سفر میں دو عبادتیں کی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جسے قربانی کا جانور دستیاب نہ ہو، وہ دس دن روزے رکھے۔ تین دن ایام حج میں۔ ان کا وقت تب سے شروع ہو جاتا ہے، جب آدمی عمرہ کے لیے احرام باندھتا ہے اور سات اس وقت رکھے، جب اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹ آئے۔ نبی ﷺ جب مکہ تشریف لائے، تو حجر اسود کو استلام کیا اور کعبہ کےگرد سات چکر لگائے۔ تین میں رمل کیا؛ کیوںکہ یہ مکہ آنے کے فورا بعد کیا جانے والا طواف تھا اور چار چکروں کو چل کر پورا کیا۔ پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز ادا کی۔ پھر صفا پر آئے اور اس کے اور مروہ کے مابین سات چکر لگائے؛ دونوں علامتوں کے درمیان آپ ﷺ دوڑتے اور باقی مسافت چل کر طے کرتے۔آپ ﷺ نے تب تک اپنا احرام نہیں کھولا، جب تک اپنا حج پورا کر کے یوم النحر میں قربانی ذبح نہیں کرلیا۔ جب آپ ﷺ اپنے حج، جمرہ عقبہ کی رمی، یوم النحر کو قربانی ذبح کرکے اور اپنے سر کو مونڈ کر فارغ ہو چکے،جسے تحلل اول کہا جاتا ہے، تو اس دن صبح کو بیت اللہ کی طرف لوٹ گئے اور اس کا طواف (یعنی طواف افاضہ) کیا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے لیے ہر اس شے کو حلال کر لیا، جس سے آپ ﷺ (احرام کی وجہ سے) اجتناب کر رہے تھے، حتی کہ بیویوں سے مباشرت بھی۔ آپ ﷺ کے جو صحابہ اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے تھے، انھوں نے بھی ویسے ہی کیا، جیسے آپ ﷺ نے کیا ۔

تشریح: العربية

لما خرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى ذي الحليفة "ميقات أهل المدينة" ليحج حجته التي ودع فيها البيت ومناسك الحج، وودع فيها الناس، وبلغهم برسالته وأشهدهم على ذلك، أحرم صلى الله عليه وسلم بالعمرة والحج، فكان قارنا، والقران تمتع، فتمتع الناس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فبعضهم أحرم بالنسكين جميعا، وبعضهم أحرم بالعمرة، ناويا الحج بعد فراغه منها، وبعضهم أفرد الحج فقط، فقد خيرهم النبي صلى الله عليه وسلم بين الأنساك الثلاثة، وساق صلى الله عليه وسلم وبعض أصحابه الهدي معهم من ذي الحليفة، وبعضهم لم يسقه، فلما اقتربوا من مكة حَضَّ من لم يسق الهدي من المفردين والقارنين إلى فسخ الحج وجعلها عمرة، فلما طافوا وسعوا، أكد عليهم أن يقصروا من شعورهم، ويتحللوا من عمرتهم ثم يحرموا بالحج ويهدوا، لإتيانهم بنسكين بسفر واحد، فمن لم يجد الهدي، فعليه صيام عشرة أيام، ثلاثة في أيام الحج، يدخل وقتها بإحرامه بالعمرة، وسبعة إذا رجع إلى أهله. فلما قدم النبي صلى الله عليه وسلم مكة استلم الركن، وطاف سبعة، خب ثلاثة، لكونه الطواف الذي بعد القدوم، ومشى أربعة، ثم صلى ركعتين عند مقام إبراهيم، ثم أتى إلى الصفا، فطاف بينه وبين المروة سبعا، يسعى بين العلمين، ويمشي فيما عداهما، ثم لم يحل من إحرامه حتى قضى حجه، ونحر هديه يوم النحر، فلمَّا خلص من حجه ورمى جمرة العقبة، ونحر هديه وحلق رأسه يوم النحر، وهذا هو التحلل الأول، أفاض في ضحوته إلى البيت، فطاف به، ثم حل من كل شيء حرم عليه حتى النساء، وفعل مثله من ساق الهدي من أصحابه.

  • كون النبي -صلى الله عليه وسلم- أحرم متمتعا، والمراد بالتمتع هنا القران.
  • مشروعية سوق الهدي من الحل، فهو من فعل النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • جواز أنواع الحج الثلاثة: التمتع، والقران، والإفراد، إذ أقر النبي -صلى الله عليه وسلم- أصحابه -رضي الله عنهم- عليها كلها.
  • مشروعية فسخ الحج إلى العمرة لمن لم يسق الهدي، وتحلله، وبقاء من ساقه على إحرامه حتى ينتهي من حجه يوم النحر، فيحل، ويدخل في هذا: كل متمتع ضاق عليه الوقت، فلم يتمكن من الطواف قبل الوقوف بعرفة فإنه يقلب نسكه إلى القران.
  • أنَّ فسخ الحج لمن لم يسق الهدي، يكون ولو بعد طواف القدوم والسعي، وينقلبان للعمرة.
  • أنَّ على من لم يجد هدي التمتع صيام عشرة أيام، ثلاثة منها في الحج، وسبعة بعد الرجوع إلى أهله، فأما الثلاثة، فلا تصح قبل الإحرام بالعمرة بالإجماع، واتفقوا على مشروعيتها بعد الإحرام بالحج.
  • مشروعية طواف القدوم لغير المتمتع، الذي لم يسق الهدي، وهو سنة.
  • سنية استلام الحجر الأسود في أول الطواف، وفي كل شوط من الأشواط السبعة، إن سهل.
  • الرَمَل في الثلاثة، من طواف القدوم، والمشي في الأربعة الباقية.
  • مشروعية ركعتي الطواف، عند مقام إبراهيم -عليه السلام-.
  • السعي بين الصفا والمروة بعد طواف القدوم سبعا، هو أحد أركان الحج.
  • الموالاة بين الطواف والسعي مستحب.
  • أن التحلل الأول لمن ساق الهدي بالنحروالرمي، والتحلل الأكبر بطواف الحج.
  • طواف الإفاضة هو الركن الأعظم للحج، والسنة والأفضل، أن يكون يوم النحر، بعد الرمي والنحر.
  • التحلل الكامل بعد طواف الإفاضة في كل الأنساك الثلاثة من كل شيء حرم عليه بإحرامه.
  • أن هذه الأفعال من النبي -صلى الله عليه وسلم-، تشريع لأمته؛ لحديث "خذوا عني مناسككم".
  • استحباب الخبب، وهو الرمل، في الأشواط الثلاثة الأول كلها، في طواف القدوم.
  • المشي في الأربعة الباقية منها، ولو فاته بعض الرمل أو كله في الثلاثة الأول؛ لأنها سنة فات محلها، فالأربعة الأخيرة لا رمل فيها.
  • الخبب وهو المشي السريع في الأشواط الثلاثة الأول كلها، هو فعل النبي -صلى الله عليه وسلم- المتأخر والأخذ به هو الأولى.
  • رمل النبي -صلى الله عليه وسلم- بعد زوال سببه، وهو إظهار القوة للمشركين في عمرة القضية سنة 7، لما قال المشركون عن المسلمين: يقدم عليكم قوم قد وهنتهم حمى يثرب، فأمر -صلى الله عليه وسلم- بالرمل، لتذكر تلك الحال التي كانوا عليها؛ فنحن نرمل إحياء لتلك الذكرى.
  • استلام الحجر الأسود في ابتداء كل طواف، وعند محاذاته في كل طوفة لمن سهل عليه ذلك، وتقدم مشروعية تقبيله.
  • مشروعية رفع الصوت بالتلبية.
  • أن القارن يكفيه طواف واحد وسعي واحد لعمرته وحجه جميعا.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید