حدیث

اے ابو ذر! میں تمھیں کمزور سمجھتا ہوں اور مجھے تمھارے لیے بھی وہی بات پسند ہے، جو خود اپنے لیے پسند ہے۔ دو آدمیوں پر کبھی حاکم نہ بننا اور نہ ہی یتیم کے مال کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لینا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم «يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا، وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي، لاَ تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَينِ، وَلاَ تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ».

ترجمہ

ابو ذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ابو ذر! میں تمھیں کمزور سمجھتا ہوں اور مجھے تمہاری لیے بھی وہی بات پسند ہے، جو خود اپنے لیے پسند ہے۔ دو آدمیوں پر کبھی حاکم نہ بننا اور نہ ہی یتیم کے مال کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لینا“۔

تشریح

ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کررہے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میں تمھیں کمزور سمجھتا ہوں اور مجھے تمھارے لیے بھی وہی بات پسند ہے، جو خود اپنے لیے پسند ہے۔ دو آدمیوں پر کبھی حاکم نہ بننا اور نہ ہی یتیم کے مال کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لینا“۔ یہ تین جملے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے فرمائے: اول: آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”میں تمھیں کمزور سمجھتا ہوں“۔ اس نصیحت کو مبنی پر حقیقت صورت حال پر محمول کیا جائے گا۔ کسی آدمی کا کسی دوسرے شخص کو ایسا کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ مثلا تم میں یہ یہ کمزوریاں ہیں؛ بشرطے کہ اس کا یہ کہنا نصیحت کی غرض سے ہو، نہ کہ برا بھلا کہنے اور عار دلانے کےلیے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں تمھیں کمزور سمجھتا ہوں“۔ دوم: آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تمھارے لیے بھی وہی بات پسند ہے، جو خود اپنے لیے پسند ہے“۔ یہ نبی ﷺ کے حسن اخلاق کا ایک مظہر ہے۔ چوں کہ پہلے جملے میں کچھ دل آزاری کا پہلو تھا، اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تمھارے لیے بھی وہی بات پسند ہے، جو خود اپنے لیے پسند ہے“۔ سوم: ”دو آدمیوں پر کبھی حاکم نہ بننا“۔ یعنی دو آدمیوں پر بھی کبھی امیر نہ بننا۔ اس سے زیادہ پر امیر بننے کی ممانعت تو بطریق اولی ہو گی۔ مفہوم یہ ہے کہ نبی ﷺ نے انھیں امیر بننے سے منع کیا؛ کیوں کہ وہ کمزور تھے، جب کہ امارت کے لیےطاقت ور اور امانت دار شخص کی ضرورت ہوتی ہے۔ طاقت ور اس طرح سے کہ وہ صاحب اقتدار ہو اور اس کی بات میں تیز پن ہو۔ بایں طور کہ جو کہے اسے کر گزرے اور لوگوں کے سامنے کمزوری ظاہر نہ ہونے دے؛ کیوں کہ لوگ جب کسی شخص کو کمزور سمجھنا شروع کردیں، تو ان کے ہاں اس کا احترام باقی نہیں رہتا اور بے وقوف لوگ اس پر جری ہو نے لگتے ہیں۔ تاہم اگر وہ طاقت ور ہو، اللہ کی حدود سے تجاوز نہ کرتا ہو اور نہ اللہ کے عطا کردہ اقتدار میں کوئی کوتاہی برتتا ہو، تو یہ شخص ہی حقیقی امیر ہوتا ہے۔ چہارم: ”اور نہ ہی یتیم کے مال کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھانا“۔ یتیم اس بچے کو کہا جاتا ہے، جس کے بالغ ہونے سے پہلے ہی اس کا باپ فوت ہو جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کو یتیم کے مال کی ذمے داری اٹھانے سے منع فرمایا؛ کیوں کہ یتیم کے مال کو دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ ابو ذررضی اللہ عنہ کمزور شخص تھے، جو اس کی کما حقہ دیکھ بھال نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور نہ ہی یتیم کے مال کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھانا“۔ یعنی یتیم کے مال کا نگران نہ بننا، بلکہ یہ ذمے داری کسی اور کے لیے چھوڑ دینا۔ اس میں ابو ذر رضی اللہ عنہ کی تنقیص نہیں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ تو بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے۔ ساتھ ہی آپ بہت زاہد اور تقشف اختیار کرنے والے تھے۔ یہ تو بس ایک میدان میں کمزور تھے؛ امارت اور حکومت کا میدان۔

تشریح: العربية

أخبر أبو ذر رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: "إني أراك ضعيفاً وإني أحب لك ما أحب لنفسي فلا تأمرن على اثنين ولا تولين على مال يتيم" هذه أربع جمل بيَّنها الرسول -عليه الصلاة والسلام- لأبي ذر: الأولى: قال له: "إني أراك ضعيفاً"، وهذا الوصف المطابق للواقع يحمل عليه النصح، فلا حرج على الإنسان إذا قال لشخص مثلا: إن فيك كذا وكذا، من باب النصيحة لا من باب السب والتعيير. الثانية: قال: "وإني أحب لك ما أحبه لنفسي" وهذا من حسن خلق النبي -عليه الصلاة والسلام-، لما كانت الجملة الأولى فيها شيء من الجرح قال: "وإني أحب لك ما أحب لنفسي" يعني: لم أقل لك ذلك إلا أني أحب لك ما أحب لنفسي. الثالثة: "فلا تأمرنَّ على اثنين"، يعني: لا تكن أميرًا على اثنين، وما زاد فهو من باب أولى. والمعنى أن النبي صلى الله عليه وسلم نهاه أن يكون أميرًا؛ لأنه ضعيف، والإمارة تحتاج إلى إنسان قوي أمين، قوي بحيث تكون له سلطة وكلمة حادة؛ وإذا قال فعل، لا يكون ضعيفا أمام الناس؛ لأن الناس إذا استضعفوا الشخص لم يبق له حرمة عندهم، وتجرأ عليه السفهاء، لكن إذا كان قويًّا لا يتجاوز حدود الله عز وجل، ولا يقصر عن السلطة التي جعلها الله له فهذا هو الأمير حقيقة. الرابعة: "ولا تولين مال يتيم" واليتيم هو الذي مات أبوه قبل أن يبلغ، فنهاه الرسول -عليه الصلاة والسلام- أن يتولى على مال اليتيم؛ لأنَّ مال اليتيم يحتاج إلى عناية ويحتاج إلى رعاية، وأبو ذر ضعيف لا يستطيع أن يرعى هذا المال حق رعايته فلهذا قال: "ولا تولين مال يتيم" يعني لا تكن وليا عليه دعه لغيرك. وليس في هذا انتقاصًا لأبي ذر فقد كان يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر بالإضافة للزهد والتقشف، ولكنه ضعف في باب معين وهو باب الولاية والإمارة.

  • تحريم الولاية لمن علم من نفسه الضعف عن القيام بأعبائها.
  • وجوب حفظ مال اليتيم وعدم الأكل منه بغير حق أو تضييعه.
  • حرص الإسلام على المصلحة العامة وأموال اليتامى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید