حدیث

رسول اللہ ﷺ کی گفتگو کے کلمات الگ الگ ہوتے تھے، جسے ہر سننے والا سمجھ لیتا تھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حَسَنْاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: كَانَ كَلاَمُ رَسُولِ الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- كَلاَمًا فَصلاً يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ يَسْمَعُهُ.

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی گفتگو کے کلمات الگ الگ ہوتے تھے، جسے ہر سننے والا سمجھ لیتا تھا۔

تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی اس حدیث میں بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی گفتگو کے کلمات الگ الگ ہوتے تھے۔ یعنی آپ کی گفتگو جدا جدا ہوتی، بایں طو رکہ حروف و کلمات باہم خلط ملط نہیں ہوتے تھے اور آپ ﷺ کی گفتگو سننے والے کے لیے بالکل واضح اور پیچیدگی و طوالت سے پاک ہوتی تھی۔ آپ ﷺ گفتگو اتنی آہستہ روی سے فرماتے کہ اگر کوئی شمار کرنے والا آپ کی گفتگو کے الفاظ شمار کرنا چاہتا، تو کر سکتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو جوامع الکلم عطا کیے گئے تھےاور آپ ﷺ کی گفتگو بہت ہی مختصر ہوتی تھی۔ جوامع الکلم سے مراد یہ ہے کہ تھوڑے الفاظ میں بہت سارے معانی سمو دیے جائیں۔ اس لیے مناسب ہے کہ انسان کی گفتگو اس طرح سے گڈ مڈ نہ ہو کہ وہ سننے والے کو سمجھ ہی میں نہ آئے؛ کیوں کہ گفتگو کا مقصد مخاطب کو بات سمجھانا ہوتا ہے۔ اس لیے گفتگو تفہیم سے جتنی قریب تر ہو گی، اتنا ہی بہتر اور اچھا ہو گا۔ پھر انسان جب یہ طرز عمل اپنائے، یعنی اپنی گفتگو کو جدا جدا، صاف اور واضح رکھے اور جو شخص نہ سمجھ پائے، اس کے لیے اسے تین دفعہ دوہرائے، تو اسے چاہیے کہ وہ اس دوران یہ بات ذہن میں رکھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کر رہا ہے؛ تا کہ اس کی وجہ سے اسے اجر بھی حاصل ہو جائے اور وہ اپنے مسلمان بھائی کو (اپنی بات) بھی سمجھا دے۔ اسی طرح تمام سنتوں میں اپنے ذہن میں یہی رکھیں کہ آپ ان پر کاربند ہو کر رسول اللہ ﷺ کی پیروی کر رہے ہیں؛ تا کہ اتباع بھی ہو جائے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کو ثواب بھی مل جائے۔

تشریح: العربية

حديث عائشة رضي الله عنها أنها قالت: إنَّ النبي صلى الله عليه وسلم كان كلامه فصلا، معناه أنه كان مفصلا لا يدخل الحروف بعضها على بعض، ولا الكلمات بعضها على بعض، بيِّن ظاهر لكل من سمعه ليس فيه تعقيد ولا تطويل، حتى لو شاء العاد أن يحصيه لأحصاه من شدة تأنيه صلى الله عليه وسلم في الكلام؛ وهذا لأنَّ النبيَّ -صلَّى الله عليه وسلَّم- أُعْطِيَ جوامع الكلم واختصر له الكلام اختصارا، وجوامع الكلم أن تجمع المعاني الكثيرة في اللفظ القليل. وهكذا ينبغي للإنسان أن لا يكون كلامه متداخلا بحيث يخفى على السامع؛ لأن المقصود من الكلام هو إفهام المخاطب، وكلما كان أقرب إلى الإفهام كان أولى وأحسن. ثم إنه ينبغي للإنسان إذا استعمل هذه الطريقة، يعني إذا جعل كلامه فصلا بينا واضحا، وكرَّره ثلاث مرات لمن لم يفهم، ينبغي أن يستشعر في هذا أنه متبع لرسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يحصل له بذلك الأجر وإفهام أخيه المسلم. وهكذا جميع السنن اجعل على بالك أنك متبع فيها لرسول صلى الله عليه وسلم حتى يتحقق لك الاتباع وثوابه.

  • فصاحة النبي -صلى الله عليه وسلم- ومخاطبته للناس بما يفهمون.
  • ينبغي على الداعي إلى الله أن يبذل كل جهده ليصل كلامه إلى كل من أحب سماعه.
  • ينبغي على الداعي إلى الله أن يكون رحيما بالمدعوين في إيصال الحق لهم، وحريصا عليهم، ومهتما بأمرهم أكثر من أمره.
  • ينبغي على المتحدث أن يُفهِم السامعين حديثه حتى لا يخفى منه شيء على بعضهم، فيفهم ضده وعكسه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید