حدیث

قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین شخص وہ ہوگا، جو اپنی بیوی سے ملے اور بیوی اس سے ملے اور پھر وہ اس کے راز ظاہر کرتا پھرے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه مرفوعاً: «إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِندَ الله مَنزِلَةً يَومَ القِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفضِي إِلَى المَرْأَةِ وَتُفْضِي إِلَيه، ثُمَّ يَنشُرُ سِرَّهَا».

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین شخص وہ ہوگا، جو اپنی بیوی سے ملے اور بیوی اس سے ملے اور پھر وہ اس کے راز ظاہر کرتا پھرے“۔

تشریح

نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کہ روزِقیامت اللہ کے ہاں مرتبے کے لحاظ سے بدترین شخص وہ ہو گا، جو اس خیانت سے متصف ہو گا، یعنی وہ شخص جو ایسے گھریلو ازدواجی راز کو افشا کرتا ہے، جس سے صرف میاں بیوی ہی آگاہ ہوتے ہیں۔ اس حدیث میں مرد اور اس کی بیوی کے مابین جنسی لطف اندوزی سے متعلقہ امور اور ان کی تفاصیل اور اس دوران بیوی کی طرف سےجو باتیں یا افعال وغیرہ ہوتے ہیں، انھیں بیان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ جہاں تک محض جماع کا تعلق ہے، تو بنا کسی فائدے اور ضرورت کے بس یوں ہی اس کا ذکر کرنا مکروہ ہے؛ کیوں کہ یہ بات مروت کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ یا تو اچھی بات کہے یا پھر چپ رہے“۔ اگر اس کے ذکر کرنے کی ضرورت ہویا پھر ایسا کرنے میں کوئی فائدہ ہو، بایں طور کہ اسے ملامت کیا جا رہا ہو کہ وہ اپنی بیوی سے بے گانگی برتتا ہے یا پھر اس کے خلاف یہ دعوی دائر کر دیا جائے کہ وہ جماع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا ایسی کسی اور غرض کی بنا پر اس کا ذکر کرنے میں کوئی کراہت نہیں؛ کیوں کہ ان صورتوں میں اس کے ذکر کرنے کی مصلحت پائی جا رہی ہے اور سنت بھی اس کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔

تشریح: العربية

أخبر النبي الكريم صلى الله عليه وسلم أن من شر الناس مرتبة عند الله يوم القيامة المتصف بهذه الخيانة، وهو الذي يعمد إلى نشر سر البيت الزوجي، الذي لا يطلع عليه إلا الزوجان، ففي هذا الحديث تحريم إفشاء الرجل ما يجري بينه وبين امرأته من أمور الاستمتاع ووصف تفاصيل ذلك، وما يجري من المرأة فيه من قول أو فعل ونحوه. فأما مجرد ذكر الجماع، فإن لم تكن فيه فائدة، ولا حاجة فمكروه؛ لأنَّه خلاف المروءة، وقد قال صلى الله عليه وسلم : "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرًا أو ليصمت" ، وإن كان إليه حاجة، أو ترتب عليه فائدة، بأن ينكر عليه إعراضه عنها، أو تدعي عليه العجز عن الجماع، أو نحو ذلك، فلا كراهة في ذكره لوجود المصلحة في ذلك وقد دلت عليه السنة.

  • نشر أسرار الجماع كبيرة من كبائر الذنوب للوعيد المذكور فيه.
  • من حقوق الزوجين على بعضهما عدم إفشاء أسرارهما.
  • من حِكَمِ هذا النهي: أن نشر مثل هذه الأسرار الزوجية يؤدي إلى خراب البيوت المطمئنة؛ لما يترتب عليه من تسليط الفجار على العفيفات أو البغايا على المتقين.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید