ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة أم المؤمنين وعبد الله بن عباس رضي الله عنهما قالا: لَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ بِهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ وَهُوَ كَذَلِكَ: «لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى اليَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ» يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا.
ترجمہ
عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے، دونوں کہتے ہیں: جب اللہ کے رسول ﷺ کی وفات کا وقت آیا، تو آپ اپنی ایک چادر اپنے چہرے پر ڈالنے لگے اور جب اس سے منہ ڈھک جانے کی وجہ سے دم گھٹنے لگتا، تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیتے۔ اسی (بے چینی) کی حالت میں آپ نے فرمایا : ”یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا“۔ (راوی کہتے ہیں کہ) آپ ﷺ اپنی امت کو یہود و نصاریٰ کے عمل سے خبردار کر رہے تھے۔
تشریح
عائشہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم بتا رہے ہیں کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے انتقال کا وقت آیا، تو آپ اپنے چہرے پر کپڑے کا ایک ٹکڑا رکھنے لگے۔ پھر جب موت کی تکلیفوں کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی، تو اسے اپنے چہرے سے ہٹا دیا۔ پھر اسی مشکل حالت میں آپ نے فرمایا : اللہ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر۔ یعنی اللہ ان کو اپنی رحمت سے دور رکھے۔ ایسا اس لیے کہ انھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کے اوپر مسجدیں بنا ڈالیں۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اگر قبروں کے اوپر مسجد تعمیر کرنے کا مسئلہ ایک سنگین مسئلہ نہ ہوتا، تو آپ اس مشکل گھڑی میں اس کا ذکر نہ کرتے۔ اس مسئلے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ہی آپ نے اپنی امت کو یہودیوں اور عیسائیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس طرح کا کام کرنے سے منع کیا ہے۔ اس کام سے منع کرنے کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے شرک کے دروازے کھلتے ہیں۔
فوائد
- نبیوں اور اللہ کے نیک بندوں کی قبروں کو مسجد بنا کر ان کے اندر اللہ کے لیے نماز پڑھنا منع ہے، کیوں کہ یہ شرک کےدروازے اور وسائل ہيں۔
- توحید پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پوری توجہ اور قبروں کی تعظیم سے آپ کا ڈر، کیوں کہ یہ شرک کا دروازہ اور ذریعہ ہے۔
- یہودیوں، عیسائیوں اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قبروں پر عمارت کھڑی کرنے والوں اور ان کو مسجد بنانے والوں پر لعنت کرنا جائز ہے۔
- قبروں پر عمارت بنانا یہودیوں اور عیسائیوں کا طور طریقہ ہے اور حدیث میں اس سے منع کیا گيا ہے۔
- قبروں کو مسجد بنانے کی ایک شکل ان کے پاس اور ان کی جانب منہ کرکے نماز پڑھنا بھی ہے، چاہے تعمیر کھڑی نہ بھی کی جائے۔
تشریح: العربية
تُخبِرُنا عائشةُ أم المؤمنين وابنُ عباس رضي الله عنهما أنه حينما حَضرتْ النبيَّ صلى الله عليه وسلم الوفاةُ جعل يضع قطعةَ قماشٍ على وجهه، فإذا صعُب عليه التَّنفُّس بسبب سكرات الموت أزالها عن وجهه، فقال في تلك الحال الشديدة: لَعَنَ اللهُ اليهود والنصارى، وطَرَدَهم من رحمته؛ وذلك لأنهم اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد؛ وذلك بالبناء عليها أو الصلاة عندها أو إليها. ولولا خطورة الأمر لَمَا ذكره في مثل هذا المقام، لذا نهى النبيُّ صلى الله عليه وسلم أمتَه عن مشابهة ذلك الفعل؛ لأنه من فعل اليهود والنصارى، ولأنه ذريعة موصلة للشرك بالله عز وجل.
- أن هذا من وصاياه الأخيرة مما يدل على أهميتها والعناية بها.
- النهي الأكيد، والتحريم الشديد من اتخاذ القبور مساجد، وقصد الصلاة عندها غير صلاة الجنازة؛ فذلك ذريعة إلى تعظيم الميت والطواف بقبره والتمسح بأركانه والنداء باسمه، وكل ذلك من الشرك ووسائله.
- شدة اهتمام رسول الله صلى الله عليه وسلم واعتنائه بالتوحيد وخوفِه مِن تعظيم القبور؛ لأن ذلك يفضي إلى الشرك.
- أن الله -تعالى- صان نبيه -عليه الصلاة والسلام- عن أن يُعْمَلَ الشرك عند قبره، فألهم أصحابه ومن بعدهم، أن يصونوا قبره من أن يبرز.
- النهي عن التشبه باليهود والنصارى، وأن البناء على القبور من سننهم.
- من اتخاذ القبور مساجد الصلاة عندها وإليها، ولو لم يُبْنَ مسجدٌ.