حدیث

جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اس کے گناہ کی سزاد دینے سے رکا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس -رضي الله عنه - أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إذا أراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا، وإذا أراد بعبده الشر أمسك عنه بذنبه حتى يُوَافِيَ به يومَ القيامة".

ترجمہ

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اس کے گناہ کی سزاد دینے سے رُکا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔

تشریح

نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ کا اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنے کی علامت یہ ہے کہ وہ اسے اس کے گناہوں پر دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے یہاں تک کہ وہ دنیا میں سے اس حال میں جاتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ ایسا نہیں ہوتا جس کا حساب روزِ قیامت چکایا جانا ہو کیونکہ جس شخص کا فوری حساب کر لیا جاتا ہے اس کا آخرت میں حساب ہلکا ہو جاتا ہے۔ اور بندے کے ساتھ شر کا معاملہ کرنے کی علامت یہ ہے کہ اللہ اسے دنیا میں اس کے گناہوں کا بدلہ نہیں دیتا یہاں تک کہ جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ گناہوں سے لدا پھندا آئے گا اور اس سے پورا پورا حساب لیا جائے اور جس بدلے کا وہ مستحق ہو گا وہ اسے ملے گا۔

تشریح: العربية

يخبر -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أن علامة إرادة الله الخيرَ بعبده معاجلته بالعقوبة على ذنوبه في الدنيا حتى يخرج منها وليس عليه ذنب يوافي به يوم القيامة؛ لأن من حوسب بعمله عاجلاً خفّ حسابه في الآجل، ومن علامة إرادة الشر بالعبد أن لا يجازى بذنوبه في الدنيا حتى يجيء يوم القيامة مستوفر الذنوب وافيها، فيجازى بما يستحقه يوم القيامة.

  • من علامة إرادة الله الخير بعبده معاجلته بالعقوبة على ذنوبه في الدنيا.
  • من علامة إرادة الشر بالعبد أن لا يجازى بذنبه حتى يوافى به يوم القيامة.
  • الخوف من الصحة الدائمة أن تكون علامة شرّ.
  • التنبيه على حسن الظن بالله ورجائه فيما يقضيه عليه من المكروه.
  • أن الإنسان قد يكره الشيء وهو خيرٌ له، وقد يحب الشيء وهو شرّ له.
  • الحث على الصبر على المصائب.
  • إثبات صفة الإرادة لله على وجه يليق بجلاله.
  • أن الخير والشر مقدر من الله تعالى.
  • أن البلاء للمؤمن من علامات الخير ما لم يترتب عليه ترك واجب أو فعل محرم.
  • ينبغي الخوف من دوام النعمة أو الصحة.
  • لا يلزم من عطاء الله رضاؤه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید