حدیث

آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے تو اس کو آزمائش سے دوچار فرماتا ہے۔ پس جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "إن عِظَمَ الجزاءِ مع عِظَمِ البلاءِ، وإن الله تعالى إذا أحب قوما ابتلاهم، فمن رَضِيَ فله الرِضا، ومن سَخِطَ فله السُّخْطُ".

ترجمہ

انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”آزمائش جتنی بڑی ہوتی ہے اسی حساب سے اس کا بدلہ بھی بڑا ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند فرماتا ہے تو اس کو آزمائش سے دوچار کرتا ہے۔ پس جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے“۔

تشریح

اس حدیث میں نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ مومن کو اس کے جان و مال وغیرہ میں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر وہ صبر کرے گا تو اللہ ان مصائب پر اسے ثواب دے گا اور یہ کہ مصیبت جتنی بڑی اور خطرناک ہوتی ہے اس پر اللہ کی طرف سے اتنا ہی بڑا ثواب ملتا ہے۔ پھر نبی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ مصائب کا آنا اللہ تعالیٰ کی مومن کے ساتھ محبت کی علامت ہے اور یہ کہ جو اللہ کی قضا و قدر میں لکھا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہنا ہے لیکن جو شخص صبر و رضا کا مظاہرہ کرتا ہے اسے اللہ تعالی اپنی رضا کے ساتھ نوازے گا اور اسے ثواب دے گا اور جو برہم ہوتا ہے اور اللہ کی قضا و قدر کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس پر برہم ہوتا ہے اور اسے سزا دیتا ہے۔

فوائد

  • مصیبتیں گناہوں کا کفّارہ بن جاتی ہیں، جب تک ان کی وجہ سے کوئی واجب نہ چھوڑا جائے جیسے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے یا کسی حرام کام کا ارتکاب نہ ہو، جیسے گریبان نہ پھاڑا جائے یا گال نہ پیٹا جائے۔
  • اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے اس کی شان کے مطابق صفت محبت کا اثبات۔
  • مؤمن کے لیے آزمائش ایمان کی نشانی ہے۔
  • اللہ کے لیے رضامندی اور ناراضگی جیسے اوصاف کا اس کی شان کے مطابق اثبات۔
  • اللہ کی قضا و قدر سے راضی رہنے کا استحباب۔
  • اللہ کی قضا و قدر سے ناراضگی کا حرام ہونا۔
  • مصائب پر صبر کرنے کی ترغیب۔
  • انسان بسا اوقات کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے، حالاں کہ وہ اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے۔
  • اللہ سبحانہ تعالیٰ کے افعال میں حکمت کا اثبات۔
  • بدلے کا عمل کی جنس سے ہونا۔
تشریح: العربية

يخبرنا النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث أن المؤمن قد يحل به شيء من المصائب في نفسه أو ماله أو غير ذلك، وأن الله سيثيبه على تلك المصائب إذا هو صبر، وأنه كلما عظمت المصيبة وعظم خطرها عظم ثوابها من الله، ثم يبين صلى الله عليه وسلم بأن المصائب من علامات حب الله للمؤمن، وأن قضاء الله وقدره نافذان لا محالة، ولكن من صبر ورضي، فإن الله سيثيبه على ذلك برضاه عنه وكفى به ثوابا، وأن من سخط وكره قضاء الله وقدره، فإن الله يسخط عليه وكفى به عقوبة.

  • أن المصائب مكفرات للذنوب ما لم يترتب عليها ترك واجب كترك الصبر أو فعل محرم كشق الجيوب أو لطم الخدود.
  • إثبات صفة المحبة لله على وجه يليق بجلاله.
  • أن البلاء للمؤمن من علامات الإيمان.
  • إثبات صفة الرضا والسخط لله على وجه يليق بجلاله.
  • استحباب الرضا بقضاء الله وقدره.
  • تحريم السخط من قضاء الله وقدره.
  • الحث على الصبر على المصائب.
  • الإنسان قد يكره الشيء وهو خيرٌ له.
  • إثبات الحكمة لله سبحانه في أفعاله.
  • الجزاء من جنس العمل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید