حدیث

”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ۔ مجھ پر درود بھیجو۔ تمہارا بھیجا گیا درود مجھ تک پہنچتا ہے تم چاہے جہاں بھی رہو“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

حسنرواه أبو داود

عربی متن

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا، وَصَلُّوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ».

ترجمہ

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور میری قبر کو میلہ گاہ نہ بناؤ۔ مجھ پر درود بھیجو۔ تمہارا بھیجا گیا درود مجھ تک پہنچتا ہے تم چاہے جہاں بھی رہو“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھروں کو نماز سے خالی رکھنے سے منع کیا ہے کہ وہ قبرستان کی طرح ہو جائیں، جہاں نماز پڑھی نہيں جاتی ہے۔ آپ نے اپنی قبر کی بار بار زیارت کرنے اور وہاں ایک خاص طریقے سے جمع ہونے سے منع کیا ہے، کیوں کہ یہ شرک کا سبب ہے۔ آپ نے روئے زمین کے کسی بھی حصے سے درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے، کیوں کہ آپ پر بھیجا گیا درود و سلام قریب و دور ہر جگہ سے یکساں طور پر پہنچ جاتا ہے۔ لہذا آپ کی قبر کے پاس بار بار جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

فوائد

  • گھروں کو اللہ کی عبادت سے خالی رکھنا منع ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کر کے جانا منع ہے؛ کیوں کہ آپ نے کہیں سے بھی درود بھیجنے کا حکم دیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ آپ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ ہاں، مسجد نبوی کے ارادے اور اس میں نماز پڑھنے کی نیت سے سفر کرنا جائز ہے۔
  • اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر کی زیارت ایک مخصوص طریقے سے اور مخصوص زمانے میں بار بار کر کے اسے میلے کی شکل دینا حرام ہے۔ دیگر قبروں کا بھی یہی حکم ہے۔
  • اللہ کے یہاں اس کے نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ پر درود و سلام بھیجنے کو ہر زمانے میں اور ہر جگہ سے مشروع کیا گیا ہے۔
  • قبروں کے پاس نماز پڑھنا منع ہے، یہ بات صحابہ کو اچھی طرح معلوم تھی، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے گھروں کو قبرستانوں کی طرح بنانے سے منع کیا ہے جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی۔
تشریح: العربية

يَنهى النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن تعطيل البيوت من الصلاة فتكون كالمقابر التي لا يصلى فيها. ونهى عن تَكرار زيارة قبره والاجتماع عنده على وجهٍ معتاد؛ لأن ذلك وسيلةٌ إلى الشرك. وأمر بالصلاة والسلام عليه في أي مكان من الأرض؛ لأن ذلك يبلغه من القريب والبعيد على حدٍّ سواء، فلا حاجة إلى التردد إلى قبره.

  • النهي عن تعطيل البيوت من عبادة الله تعالى.
  • المنع من السفر لزيارة قبر النبي عليه الصلاة والسلام؛ لأنه أمر بالصلاة عليه وأخبر أنها تبلغه، وإنما تُشَدُّ الرحال لقصد المسجد والصلاة فيه.
  • تحريم جعل زيارة قبر النبي صلى الله عليه وسلم عيدًا، بتكرير زيارته على وجه مخصوص في زمن مخصوص، وكذلك زيارة كل قبر.
  • كرامة النبي صلى الله عليه وسلم على ربه، بمشروعية الصلاة والسلام عليه في كل زمان ومكان.
  • حيث أن النهي عن الصلاة عند القبور قد تقرر عند الصحابة؛ لذا نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن تجعل البيوت مثل المقابر لا يُصلى فيها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید