ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أم سلمة رضي الله عنها قالت: «جاءت أمُّ سُلَيمٍ امرأةُ أَبِي طَلحة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، إنَّ الله لا يَسْتَحيِي من الحَقِّ، فهل على المرأة من غُسْلٍ إِذَا هِيَ احْتَلَمَت؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : نعم، إِذَا رَأَت المَاء».
ترجمہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو طلحہ کی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! اللہ تعالی حق کو بیان کرنے سے حیا نہیں کرتا۔ آپ یہ بتائیں کہ جب عورت کو احتلام ہو جائے، تو کیا اس پر بھی غسل واجب ہے؟۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، جب وہ پانی دیکھ لے۔
تشریح
ام سلیم انصاریہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے کے لئے آئیں۔ چونکہ ان کے سوال کا تعلق شرم گاہوں سے تھا جن کے ذکر سے عموما حیاء محسوس کی جاتی ہے اس لئے انہوں نے اپنا سوال رکھنے سے پہلے تمہید باندھی تاکہ سننے والوں پر اس کا اثر کچھ کم ہو جائے۔ کہنے لگیں کہ اللہ عز و جل جو بذات خود حق ہیں، ایسی حق بات کے بیان سے نہیں رکتا جسے ذکر کرنے میں حیاء محسوس کی جاتی ہے جب کہ اس کے بیان میں کوئی فائدہ ہو۔ اس مقدمہ کو ذکر کرنے کے بعد جس سے ان کے سوال کی شدت کم ہو گئی، ام سلیم رضی اللہ عنہا اصل موضوع کی طرف آئیں اور پوچھنے لگیں: اگر عورت خواب میں دیکھے کہ وہ مجامعت کر رہی ہے تو کیا اس پر غسل کرنا واجب ہو جاتا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ہاں، اس پر غسل واجب ہو جاتا ہےجب کہ وہ شہوت سے نکلنے والے پانی (مادہ منویہ) کو دیکھ لے۔
تشریح: العربية
جاءت أم سليم الأنصارية رضي الله عنها إلى النبي صلى الله عليه وسلم لتسأله، ولما كان سؤالها مما يتعلق بالفروج، وهي مما يستحيا من ذكره عادة قدمت بين يدي سؤالها تمهيداً لإلقاء سؤالها؛ حتى يخف موقعه على السامعين. فقالت: إن الله عز وجل وهو الحق، لا يمتنع من ذكر الحق الذي يستحيا من ذِكره من أجل الحياء، مادام في ذكره فائدة، فلما ذكرت أم سليم هذه المقدمة التي لطفت بها سؤالها، دخلت في صميم الموضوع، فقالت: هل على المرأة غسل إذا هي تخيلت في المنام أنها تجامع؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم : نعم، عليها الغسل، إذا هي رأت نزول ماء الشهوة.
- جواز استفتاء المرأة بنفسها عن أمر دينها.
- بيان ما عليه الصحابيات من الاهتمام بأمر دينهن والسؤال عنه.
- المرأة يجب عليها الغسل حين تحتلم، إذا أنزلت ورأت الماء.
- المرأة تُنْزِل كما يُنْزِلُ الرجل، ومن ذاك يكون الشبه في الولد، كما أشار إلى هذا بقية الحديث.
- إثبات صفة الحياء لله -جلّ وعلا-، إثباتا يليق بجلاله، على أنه لا يمتنع تعالى من قول الحق لأجل الحياء.
- أن الحياء لا ينبغي أن يمنع من تعلُّم العلم، حتى في المسائل التي يستحيا مهنا.
- من الأدب وحسن المخاطبة، أن يقدم أمام الكلام الذي يستحيا منه مقدمة تناسب المقام، تمهيدا للكلام، لِيَخِفَّ وقعه، ولئلا ينسب صاحبه إلى الجفاء.
- فضيلة أم سليم -رضي الله عنها- بحرصها على الفقه في الدين، وحسن أدبها؛ بتقديم ما يمهد لعذرها.
- نفي صفة الحياء من الحق عن الله -عز وجل-، أي الامتناع عن الحق بسبب الحياء؛ وذلك لكمال عدله ورحمته.