حدیث

”تم اپنے سے پہلے لوگوں کی ضرور پیروی کروگے، بالشت بقدر بالشت اور ہاتھ بقدر ہاتھ (یعنی مکمل) ۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ، شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَاتَّبَعْتُمُوهُمْ» قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ آلْيَهُودَ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: «فَمَنْ؟».

ترجمہ

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے سے پہلے لوگوں کی ضرور پیروی کروگے، بالشت بقدر بالشت اور ہاتھ بقدر ہاتھ (یعنی مکمل) ۔ اگر وہ کسی سانڈے کے بِل ميں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس ميں گھس جاؤگے“۔ صحابہ كرام نے عرض كيا : یا رسول اللہ! ان سے مراد يہود و نصارىٰ ہيں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : "پھر اور کون؟"

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کے زمانے کے بعد آپ کی امت کے ایک طبقے کا کیا حال ہونے والا ہے۔ یہ طبقہ عقائد، افعال، عادات اور رسوم و رواج میں یہود و نصاری کی ہو بہو نقالی کرنے لگے گا۔ حال یہ ہوگا کہ وہ اگر سانڈہ کے بل میں گھسے ہوں گے، تو یہ بھی ان کے پیچھے پیچھے گھس جائيں گے۔

فوائد

  • یہ حدیث اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سچے نبی ہونے کی ایک نشانی ہے کہ ہوبہو وہی ہوا، جو آپ نے بتایا تھا۔
  • مسلمانوں کو کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے ممانعت۔ مشابہت خواہ ان کے عقائد میں ہو، عبادتوں میں ہو، تہواروں میں ہو یا ان کے خاص لباس وپوشاک میں ہو۔
  • اسلام میں تعلیم کا ایک طریقہ محسوس مثالوں کے ذریعہ غیر محسوس چیزوں کو واضح کرنا بھی ہے۔
  • سانڈہ ایک جانور ہے، جس کا بل بڑا ہی تاریک اور بدبودار ہوتا ہے۔ یہ ایک رینگنے والا جانور ہے، جو صحراؤں میں بہ کثرت پایا جاتا ہے۔ یہاں بطور خاص سانڈے کے بل کا ذکر اس لیے ہوا ہے کہ سانڈے کا بل بہت زیادہ تنگ اور بے ڈھب ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر وہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور ان کی پیروی کرتے ہوئے اس تنگ اور بے ڈھب بل میں گھستے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ہی موافقت کرنے والے ہیں! ہم اللہ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں۔
تشریح: العربية

يُخبِرُ صلى الله عليه وسلم بما يكون عليه حال بعض أمته بعد زمانه، وهي متابعة طريقة اليهود والنصارى في عقائدهم وأفعالهم وعاداتهم وتقاليدهم متابعة دقيقة شديدة شبرًا بشبرٍ، وذراعًا بذراعٍ، حتى لو دخلوا جحر ضب لدخله هؤلاء وراءهم.

  • علمٌ من أعلام نبوَّته حيث أخبر بذلك قبل وقوعه فوقع كما أخبر.
  • النهي عن تشبُّه المسلمين بالكفار، سواء في عقائدهم أو عباداتهم أو أعيادهم أو أزيائهم الخاصة بهم.
  • توضيح الأشياء المعنوية بالأمثلة الحسية من أساليب التعليم في الإسلام.
  • الضب: حيوان جحره شديد الظلمة نَتِنُ الريح، وهو من الزواحف يكثر في الصحاري، ووجه التخصيص بجحر الضب: شدة ضيقه ورداءته، ومع ذلك فإنهم -لاقتفائهم آثارهم واتباعهم طرائقهم- لو دخلوا في مثل هذا الضيق الرديء لوافقوهم! والله المستعان.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید