ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحيحمتفق عليه
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ -أَوْ: عَلَى أُمَّتِي- لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دے دیتا"۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اگر آپ کو اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کا خوف نہ ہوتا، تو ان پر ہر نماز کے وقت مسواک کو واجب کر دیتے۔
فوائد
- اپنی امت پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شفقت اور اس بات کا ڈر کہ کہیں انھیں مشقت کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم اصلا وجوب پر دلالت کرتا ہے، جب تک کہ اس کے نفل ہونے کی کوئی دلیل نہ آ جائے۔
- ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا استحباب اور اس کی فضیلت۔
- ابن دقیق العید کہتے ہیں: نماز کے وقت مسواک کو مستحب قرار دیے جانے کے پیچھے حکمت یہ ہے کہ نماز اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی حالت ہے۔ اس لیے عبادت کا مقام ومرتبہ ظاہر کرنے کے لیے اسے کمال اور نظافت کی حالت میں ہونی چاہیے۔
- اس حدیث کے عموم کے اندر روزے دار کا مسواک کرنا بھی داخل ہے، خواہ زوال کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ جیسے ظہر اور عصر کی نماز کے لیے مسواک کرنا۔
تشریح: العربية
أَخْبَرَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم أنه لولا خوف المشقة على المؤمنين من أمته لأَوجب عليهم استعمال السواك مع كل صلاة.
- رفق النبي صلى الله عليه وسلم بأمته، ومخافة المشقة عليهم.
- الأصل في أَمْرِ النبيِّ صلى الله عليه وسلم الوجوب، إلا أنْ يقومَ الدليل على أنه تطوُّع.
- استحباب السواك وفضله عند كل صلاة.
- قال ابن دقيق العيد: الحكمة في استحباب السواك عند القيام إلى الصلاة كونها حالَ تقرُّبٍ إلى الله، فاقتضى أن تكون حالَ كمالٍ ونظافة إظهارًا لِشَرَف العبادة.
- عموم الحديث يشمل السواك للصائم ولو بعد الزوال، كصلاتَي: الظهر والعصر.