ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِن مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ العَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ: «الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا»، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الوَالِدَيْنِ» قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
ترجمہ
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کون سا عمل اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: "وقت پر نماز پڑھنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "والدین کی فرماں برداری کرنا۔" انھوں نے پوچھا کہ پھر کون سا؟ تو آپ نے جواب دیا: "اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔" ان کا کہنا ہے کہ آپ نے مجھے ان کاموں کے بارے میں بتایا۔ اگر میں مزید پوچھتا، تو آپ اور بھی بتاتے۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک کون سا عمل سے سے زیادہ محبوب ہے؟ تو آپ نے جواب دیا : فرض نماز کو شارع کی جانب سے معتین کیے گئے اوقات میں پڑھنا۔ پھر والدین کی فرماں برداری کرنا، بایں طور کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے، ان کے حقوق ادا کیے جائيں اور ان کی نافرمانی سے بچا جائے۔ پھر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا، تاکہ اللہ کے کلمہ کو سربلند کیا جا سکے، اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کیا جا سکے اور اسلامی شعائر کا اظہار ہو سکے۔ جہاد نفس اور مال دونوں سے ہوتا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان اعمال کے بارے میں بتایا۔ اگر میں اس سے آگے پوچھتا، تو آپ آگے بھی بتاتے۔
فوائد
- اعمال کی فضیلت میں اس ناحیے سے کمی بیشی ہوتی ہے کہ کون سا عمل اللہ کو کتنا محبوب ہے۔
- مسلمان کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اعمال کا، ان کی فضیلت کی ترتیب کو مدنظر کو رکھتے حریص رہے۔
- سب سے اچھا عمل کیا ہے، اس سوال کے جواب میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے الگ الگ باتیں اشخاص اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کہی ہيں۔ جس کے لیے جو عمل زیادہ مفید تھا، اس کے لیے اسے سب سے اچھا عمل بتایا۔
تشریح: العربية
سُئلَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم: أيُّ العمل أحب إلى الله؟ فقال: الصلاة المفروضة في وقتِها الذي حَدَّده الشارع، ثم بر الوالدين، بالإحسان إليهما، والقيام بحقهما، وترك عقوقهما، ثم الجهاد في سبيل الله، لإعلاء كلمة الله عز وجل، والدفاع عن دين الإسلام وأهله، وإظهار شعائره، وذلك بالنفس والمال. قال ابن مسعود رضي الله عنه: أخبرني بهذه الأعمال؛ ولو قلت له: ثم أي؟ لزادني.
- تَفَاضُل الأعمال فيما بينها بحسب محبة الله لها.
- حثُّ المسلم على الحرص على الأعمال الأفضل فالأفضل.
- تَتَفاوَتُ إجاباتُ النبيِّ صلى الله عليه وسلم عن أفضل الأعمال بحسب اختلاف الأشخاص وأحوالهم، وما هو أكثر نفعًا لكل واحد منهم.