ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «إِنَّ الله تَعَالى يَقُول يَوْمَ القِيَامَة: أَيْنَ المُتَحَابُّونَ بِجَلاَلِي؟ اليَوم أُظِلُّهُم فِي ظِلِّي يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلِّي».
ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انھیں اپنے سایے میں رکھوں گا، جب کہ آج کے دن میرے سایے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا“۔
تشریح
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل محشر کو آوا ز دے گا اور فرمائے گا: ” أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي؟“ کہ (میرے جلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟) وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، اس سے واقف ہونے کے باوجود اللہ تعالی یہ سوال اس لیے کرے گا؛ تاکہ میدان حشر میں ان کے مقام ومرتبے کا اعلان کر دے اور یہ اعلان در اصل خود اللہ تعالی کی عظمت بیان کرنے کا ایک بہانہ ہوگا۔ اس طرح اس کے معنی یہ ہوں گے: کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیوی سے مقاصد سے اوپر اٹھ کر میرے جلال اور عظمت کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے؟ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ” الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي“ آج میں انھیں اپنے سایے میں رکھوں گا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا سایے کی نسبت اپنی طرف کرنا، اضافت تشریفی ہے اور اس سے مراد عرش کا سایہ ہے۔ مسلم کے علاوہ دیگر روایات میں ہے: میرے عرش کے سایے میں۔ ” يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي“ یعنی اس دن رحمٰن کے عرش کے سایے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔
تشریح: العربية
ينادي الله -جل في علاه- يوم القيامة في أهل الموقف فيقول: (أين المتحابون بجلالي؟) والسؤال عنهم مع علمه بمكانهم وغيره من أحوالهم؛ لينادي بفضلهم في ذلك الموقف، ويُصرِّح به؛ لبيان عظمته، والمعنى: أين الذين تحابوا لجلالي وعظمتي لا لغرض سوى ذلك من دنيا أو نحوها، ثم يقول تعالى : (اليوم أظلهم في ظلي) وإضافة الظل إليه تعالى إضافة تشريف، والمراد ظل العرش، وجاء في غير رواية مسلم: "ظل عرشي" (يوم لا ظل إلا ظلي) أي لا يكون في ذلك اليوم ظِلٌّ إلا ظِلُّ عرش الرحمن.
- إثبات صفة الكلام لله تعالى، وأنه يتكلم بمشيئته بصوت وحرف يُسمع.
- الإشادة بمن يفعل الخير، وإبراز مكانتهم في المحافل؛ تشجيعا لغيرهم، هذا إذا لم يترتب على ذلك ضرر.
- فضل الحب في الله.