ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن مسعودٍ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ، وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ».
ترجمہ
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ”وہ لوگ سب سے برے لوگوں میں سے ہیں، جو قیامت کے وقوع کے وقت باحیات رہيں گے اور جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سب سے برے لوگ کون ہیں؟ آپ نے بتایا کہ سب سے برے لوگ وہ لوگ ہيں، جو اس وقت باحیات رہیں گے، جب قیامت قائم ہوگی۔ اسی طرح سب سے برے لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں، جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے۔ یعنی قبروں کے پاس یا قبروں کی جانب منہ کرکے نماز پڑھیں گے۔
فوائد
- قبروں پر مسجد بنانا حرام ہے، کیوں کہ اس سے شرک کے دروازے کھلتے ہيں۔
- مسجد بنائے بغیر بھی قبروں کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے۔ کیوں کہ مسجد اس جگہ کا نام ہے، جہاں سجدہ کیا جائے، چاہے وہاں کوئی تعمیر نہ بھی ہو۔
- نیک لوگوں کی قبروں کو، وہاں نماز پڑھنے کے ارادے سے مسجد بنانے والا سب سے برے لوگوں میں سے ایک ہے، چاہے اس کا دعوی اللہ کا تقرب حاصل کرنے ہی کا کیوں نہ ہو۔
تشریح: العربية
يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن شِرَار الناس، وأنهم مَن تقومُ الساعةُ عليهم وهم أحياءٌ، والذين يتَّخذون القبور مساجد، يُصَلُّون عندها وإليها.
- تحريم بناء المساجد على القبور؛ لأنه وسيلةٌ إلى الشرك.
- تحريم الصلاة عند القبور ولو بدون بناء؛ لأن المسجد اسم لما يسجد فيه ولو لم يكن فيه بناء.
- مَن اتخذ قبورَ الصالحين مساجدَ للصلاة فيها فهو من شرار الخلق، وإنْ زعم أنَّ قصدَه التقرُّبُ إلى الله تعالى.