ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه رأى رجلا انْتَفَضَ لما سمع حديثا عن النبي صلى الله عليه وسلم في الصفات -استنكارا لذلك– فقال: "ما فَرَقُ هؤلاء؟ يجدون رِقَّةً عند مُحْكَمِهِ، ويَهْلِكُونَ عند مُتَشَابِهِهِ" .
ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روايت ہے کہ: انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ جب اس نے اللہ کی صفات کے بارے میں نبی ﷺ کی ایک حدیث سنی تو - بطور انکار - اس پر جھرجھری طاری ہو گئی۔ تو انہوں نے فرمایا:ان لوگوں کا خوف کیسا ہے؟ محکم (واضح) نصوص سن کر ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے اور جب کوئی متشابہ نصوص سنتے ہیں تو ہلاک ہو جاتے ہیں (یعنی انکار کر بیٹھتے ہیں)۔
تشریح
ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنی مجلس میں عوام الناس میں سے حاضر ہونے والے ایسے لوگوں پر نکیر کر ربے ہیں جو اللہ کی صفات کے بارے میں کوئی حدیث سنتے ہیں تو خوف میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور بطور انکار ان پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ وہ لوگ اس چیز پر واجب ایمان نہیں رکھتے جو رسول ﷺ سے صحیح ثابت ہے اور انہوں نے اس کے معنی کو قرآن سے جان لیا ہے۔ جو کہ برحق ہے جس میں کوئی مومن شک نہیں کر سکتا۔اور بعض اسے اس معنی پر محمول کرتے ہیں جو اللہ کی مراد نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوجا تا ہے۔
تشریح: العربية
ينكر ابن عباس رضي الله عنهما على أناس ممن يحضر مجلسه من عامة الناس يحصل منهم خوفٌ عندما يسمعون شيئا من أحاديث الصفات ويرتعدون استنكارا لذلك، فلم يحصل منهم الإيمان الواجب بما صح عن رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وعرفوا معناه من القرآن وهو حق لا يرتاب فيه مؤمن، وبعضهم يحمله على غير معناه الذي أراده الله فيهلك بذلك.
- أنه لا مانع من ذكر آيات الصفات وأحاديثها بحضرة عوام الناس وخواصهم من باب التعليم.
- أن من رد شيئا من نصوص الصفات أو استنكره بعد صحته فهو من الهالكين.
- الإنكار على من استنكر شيئا من نصوص الصفات.
- وجوب إنكار المنكر.
- وجوب الإيمان بأسماء الله وصفاته.