ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عن عائشة رضي الله عنها قالت: ((كُنْت أَغْسِلُ الْجَنَابَةَ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَيَخْرُجُ إلَى الصَّلاةِ، وَإِنَّ بُقَعَ الْمَاءِ فِي ثَوْبِهِ)). وَفِي رواية: ((لَقَدْ كُنْتُ أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرْكاً، فَيُصَلِّي فِيهِ)).
ترجمہ
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کو دھو ڈالتی تھی۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے؛ حالاںکہ پانی کے دھبے آپ ﷺ کے کپڑے میں موجود ہوتے۔ ایک اور روایت میں ہے: میں رسول الله ﷺ کے کپڑے سے منی کو کھرچ دیتی تھی اور آپ ﷺ اسے پہن کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
تشریح
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کپڑے کو جنابت کی وجہ سے منی لگ جاتی۔ بعض اوقات یہ گیلی ہوتی تو وہ پانی کے ذریعے اسے کپڑے سے صاف کر دیتیں۔ پانی ابھی کپڑے سے سوکھا نہیں ہوتا تھا کہ آپ ﷺ اسی حالت میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ بعض اوقات منی سوکھی ہوتی، اس صورت میں وہ اسے کھرچ کر کپڑے سے اتار دیتیں اور آپ ﷺ اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے۔
تشریح: العربية
تذكر عائشة رضي الله عنها : أنه كان يصيب ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم المني من الجنابة، فتارة يكون رطبا فتغسله من الثوب بالماء، فيخرج إلى الصلاة، والماء لم يجف من الثوب، وتارة أخرى، يكون المني يابسًا، وحينئذ تفركه من ثوبه فركًا، فيصلى فيه.
- فضيلة عائشة -رضي الله عنها- لخدمتها النبي -صلى الله عليه وسلم-.
- طهارة المني، وعدم وجوب غسله من البدن والثياب وغيرها، ويكفي فركه.
- استحباب إزالته عن الثوب والبدن فيغسل رطبًا، ويفرك يابسًا.