ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَن عُمَرَ بنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ؛ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا: عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ».
ترجمہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: ”میری تعریف میں ایسے حد سے نہ گزرو، جیسے عیسائی لوگ عیسی ابن مریم (علیہ السلام) کی تعریف میں حد سے گزر گئے۔ میں تو محض اللہ کا بندہ ہوں۔ اس لیے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو“۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنی تعریف میں افراط کے شکار ہونے اور شرعی حد سے آگے بڑھنے، آپ کو اللہ کے اوصاف اور اس کے خاص افعال سے متصف قرار دینے، اللہ کے بارے میں غیب کو جاننے کا دعوی کرنے اور آپ کو اللہ کے ساتھ پکارنے سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ نصرانیوں نے عیسی ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ پھر بتایا کہ آپ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہیں اور اس بات کا حکم دیا کہ ہم آپ کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہیں۔
فوائد
- اس میں تعظیم اور مدح کے بارے میں شرعی حد سے آگے بڑھنے سے منع کیا گیا ہے، کیوں کہ یہ چیز شرک کی جانب لے جاتی ہے۔
- اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جس بات سے آگاہ کیا تھا، وہ اس امت کے اندر واقع ہو ہی گئی ہے۔ چنانچہ ایک گروہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں غلو کا شکار ہو گیا، ایک گروہ اہل بیت کے بارے میں غلو میں پڑ گیا اور ایک گروہ اولیا کے بارے میں غلو میں مبتلا ہو گیا۔ اس طرح یہ سارے لوگ شرک میں مبتلا ہوگئے۔
- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خود کو اللہ کا بندہ بتایا ہے، تاکہ یہ بتا سکیں کہ آپ کی ساری ضرورتیں اللہ پوری کرتا ہے اور آپ کو رب کی کوئی خصوصیت دینا جائز نہيں ہے۔
- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے خود کو اللہ کا رسول بتایا ہے، تاکہ یہ وضاحت ہوسکے کہ آپ کو اللہ کی جانب سے بھیجا گیا ہے، لہذا آپ کی تصدیق کرنا اور آپ کی اتباع کرنا واجب ہے۔
تشریح: العربية
ينهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الإفراط ومجاوزة الحد الشرعي في مدحه ووصفه بأوصاف الله تعالى وأفعاله الخاصة به، أو أنه يعلم الغيب، أو يدعا مع الله، كما فعلت النصارى مع عيسى ابن مريم عليه السلام. ثم بين أنه عبد من عباد لله، وأمر بأن نقول عنه: عبد الله ورسوله.
- التحذير من مُجاوزةِ الحد الشرعي في التعظيم والمدح؛ لأن ذلك يُفضي إلى الشرك.
- ما حذَّر منه النبي صلى الله عليه وسلم قد وقع في هذه الأمة، فغَلَتْ طائفة بالرسول الله صلى الله عليه وسلم، وطائفة في أهل البيت، وطائفة في الأولياء، فوقعوا في الشرك.
- وَصَفَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم نفسَه بأنه عبدُ الله؛ ليبيِّن أنه عبدٌ مَربوبٌ لله لا يجوز أن يُصرفَ له شيءٌ من خصائص الرب.
- وَصَفَ رسولُ الله صلى الله عليه وسلم نفسه بأنه رسولُ الله؛ ليبين أنه رسولٌ مُرسلٌ من عند الله فيجبُ تصديقُه ومتابعتُه.