ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
صحیحاسے ابنِ ابی شیبہ نے اپنی کتاب ”العرش“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے امام ذھبی نے اپنی کتاب ”العلو“ میں روایت کیا ہے۔
عربی متن
عن أبي ذر الغفاري رضي الله عنه مرفوعاً: "ما الكرسي في العرش إلا كحلقة من حديد ألقيت بين ظهري فلاة من الأرض".
ترجمہ
ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(اللہ تعالی کی) کرسی عرش کے مقابلے میں یوں ہے جیسے لوہے کا چھلّا زمین کے کسی وسیع و عریض صحراء میں پڑا ہو“۔
تشریح
نبی ﷺ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بتا رہے ہیں کہ کرسی باوجود اپنی وسعت اور عظمت کے عرش کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے زمین کے کسی وسیع و عریض صحراء میں پڑا لوہے کا ایک چھلّا ہوتا ہے۔ اس سے عرش کے خالق کی عظمت اور اس کی قدرت تامہ کا علم ہوتا ہے۔
تشریح: العربية
يخبر -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- في حديث أبي ذرّ أن الكرسي مع سعته وعظمته بالنسبة للعرش كحلقة حديد وُضعت في صحراء واسعة من الأرض؛ وهذا يدل على عظمة خالقها وقدرته التامة.
- أن الكرسي أكبر من السماوات، وأن العرش أكبر من الكرسي.
- عظمة الله وكمال قدرته.
- أن العرش غيرُ الكرسي.
- الرد على من فسّر الكرسي بالمُلك أو العلم.
- إثبات الكرسي والعرش لله -عز وجل-، وأن كلا منهما جسم مخلوق.
- ضرب الأمثال في التعليم من أساليب الشريعة الإسلامية.