حدیث

اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہی ہوں"۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْعَمَلِ».

ترجمہ

عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالٰی کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں، اور بے شک محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، بے شک عیسٰی علیہ السلام اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کا وہ کلمہ ہیں جو اس نے مریم تک پہنچایا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح ہیں اور جنت اور دوزخ بر حق ہیں، اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا، خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہی ہوں"۔

تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں بتا رہے ہیں کہ جس نے کلمۂ توحید کے معنی و مفہوم کو سمجھتے ہوئے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے، اسے اپنی زبان سے ادا کیا، محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے اللہ کے بندہ اور رسول ہونے کی گواہی دی، عیسی علیہ السلام کے اللہ کے بندہ اور رسول ہونے کا اعتراف کیا، اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اللہ نے ان کو لفظ "کن" سے پیدا کیا ہے اور وہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ارواح میں سے ایک روح ہیں، ان کی ماں کو یہودیوں کی جانب سے لگائے الزامات سے بری قرار دیا، اس بات پر ایمان رکھا کہ جنت اور جہنم دونوں برحق ہيں، اس نے دونوں کے وجود پر یقین رکھا اور ان کو اللہ کی نعمتوں اور عذابوں کی جگہ مانا اور اسی ایمان و یقین کے ساتھ مر گیا، تو اس کا ٹھکانہ جنت ہوگا، اگرچہ اس سے اللہ کی عبادت میں کچھ کوتاہیاں ہوئی ہوں اور کچھ گناہ بھی کیے ہوں۔

فوائد

  • اللہ نے مریم کے بیٹے کو لفظ "کن" سے بغیر باپ کے پیدا کیا۔
  • عیسی علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم دونوں اللہ کے بندے اور رسول تھے۔ دونوں رسول تھے، انہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا اور اللہ کے بندے تھے، اس لیے ان کی عبادت نہيں کی جا سکتی۔
  • توحید کی فضیلت اور یہ کہ اس سے بندے کے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ توحید پر قائم رہنے والے کا ٹھکانہ جنت ہے، چاہے اس سے کچھ گناہ ہی کیوں نہ ہو گئے ہوں۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُنا رسولُ الله صلى الله عليه وسلم أنَّ مَن نَطَقَ بكلمةِ التوحيد عارفًا لمعناها عاملًا بمقتضاها، وشهد بعبودية محمد صلى الله عليه وسلم ورسالته، واعترف بعبودية عيسى ورسالته، وأنَّ الله خلقه بقوله "كن" فكان، وأنه روح من الأرواح التي خلقها الله، وَبَرَّأَ أُمَّهُ مِمّا نَسَبَه إليها اليهود، وآمن بأن الجنة حق، وأن النار حق، معتقدًا وجودهما، وأنهما نعيم الله وعذابه، ومات على ذلك؛ فمصيره إلى الجنة وإن كان مقصِّرًا في الطاعات، وله ذنوب.

  • الله تعالى خَلَقَ عيسى ابن مريم بكلمة (كُنْ) من غير أب.
  • الجمع بين كون عيسى ومحمد صلى الله عليهما وسلم عبدي الله ورسوليه، فهما رسولان لا يكذبان، وعبدان لا يُعْبَدان.
  • فضل التوحيد وتكفيره للذنوب، وأنَّ مصيرَ الموحِّد الجنةُ وإنْ وقع منه بعض الذنوب.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید