حدیث

بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانا اور بد شگونی لینا کوئی چیز نہیں۔ البتہ مجھے فال اچھی لگتی ہے"۔ صحابہ کرام نے پوچھا : فال کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اچھی بات“۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ» قَالَ قِيلَ: وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: «الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ».

ترجمہ

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگ جانا اور بد شگونی لینا کوئی چیز نہیں۔ البتہ مجھے فال اچھی لگتی ہے"۔ صحابہ کرام نے پوچھا : فال کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اچھی بات“۔

تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ عہد جاہلیت کے لوگوں کا یہ عقیدہ باطل ہے کہ بیماری اللہ کے فیصلے اور اس کی لکھی تقدیر کے بغیر ہی ایک شخص سے دوسرے شخص کی جانب منتقل ہو جایا کرتی ہے۔ اسی طرح بدشگونی لینا بھی باطل ہے۔ بدشگونی نام ہے کسی مسموع یا مرئی چیز، جیسے پرندوں، جانوروں، معذور لوگوں، اعداد یا دنوں وغیرہ سے بدفالی لینے کا۔ اس حدیث میں بدشگونی کے لیے " الطيرة" لفظ کا استعمال اس لیے ہوا ہے کہ عہد جاہلیت میں بدشگونی کا یہ طریقہ بہت مشہور تھا۔ ہوتا یہ تھا کہ عرب کے لوگ جب سفر یا تجارت وغیرہ کوئی کام شروع کرنا چاہتے، تو پرندہ اڑا کر دیکھتے۔ اگر پرندہ دائیں اڑتا، تو اسے نیک فال سمجھ کر قدم آگے بڑھاتے اور اگر بائيں اڑتا، تو بدشگونی کے عقیدے کے تحت قدم پیچھے واپس کھینچ لیتے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ آپ کو فال اچھی لگتی ہے۔ فال یہ ہے کہ انسان کو کوئی اچھی بات سن کر فرحت و سرور حاصل ہو اور وہ اپنے رب سے حسن ظن قائم کر لے۔

فوائد

  • اللہ پر توکل اور یہ کہ خیر صرف اللہ ہی لاتا ہے اور شر کو صرف صرف وہی دور کرتا ہے۔
  • بدشگونی سے ممانعت۔ بدشگونی یہ ہے کہ انسان کسی چیز سے برا شگون لے اور اس کی وجہ سے عملی اقدام سے رک جائے۔
  • فال منع شدہ بدشگونی میں داخل نہیں ہے۔ یہ دراصل اللہ سے حسن ظن ہے۔
  • ہر چیز اللہ وحدہ لا شریک لہ کى تقدیر کے مطابق ہوتی ہے۔
تشریح: العربية

يُخْبِرُ النبيُّ صلى الله عليه وسلم بأنَّ العدوى التي كان يَعتقدُها أهلَ الجاهلية بأنَّ المَرضَ يَنتقل بنفسه إلى الآخر من دون قَدَرِ الله بأنها باطلة، وأنَّ الطيرة باطلة، وهي التشاؤم من أيِّ شيءٍ مسموعًا كان أو مرئيًّا، من الطيور أو الحيوانات أو أصحاب العَاهَات أو الأرقام أو الأيام أو غير ذلك، وإنما ذَكَرَ الطيرَ لأنه كان المشهور عند الجاهلية، وأصله إطلاق الطير عند الشروع في عملٍ من سفر أو تجارة أو غير ذلك، فإن طار جهة اليمين تفاءل ومضى لما يريد، وإن طار جهة الشمال تشاءم وكَفَّ عمّا يريد. ثم أخبر صلى الله عليه وسلم أنه يُعجبه الفَأْل، وهو ما يَحْدُثُ للإنسانِ من الفرح والسرور من كلمة طيبة يسمعها، وتجعله يحسن الظن بربه.

  • التوكُّل على الله تعالى، وأنه لا يأتي بالخير إلا الله، ولا يدفع الشر إلا الله.
  • النهي عن الطيرة، وهي ما يُتشاءم منه، ويصد عن العمل.
  • الفأل ليس من الطيرة المنهي عنها، بل هو من حُسْنِ الظن بالله تعالى.
  • كل شيء يحصل بتقدير الله عز وجل وحده لا شريك له.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید