حدیث

جو شخص بھی ظلما قتل کر دیا جاتا ہے، اس کے قتل کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے؛ کیوںکہ قتلِ ناحق کی ریت اسی نے ڈالی تھی۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه مرفوعًا: «ليس مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلماً إِلاَّ كَان على ابنِ آدَمَ الأَوَّل كِفْلٌ مِن دمِهَا؛ لِأَنَّه كان أوَّل مَن سَنَّ القَتْلَ».

ترجمہ

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”جو شخص بھی ظلما قتل کر دیا جاتا ہے، اس کے قتل کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے؛ کیوںکہ قتلِ ناحق کی ریت اسی نے ڈالی تھی“۔

تشریح

یہ حدیث اس سبب کو بیان کر رہی ہے، جس کی وجہ سے آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں میں سے ایک پر، اس کے بعد بہائے جانے والے ہرناحق خون کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ آدم علیہ السلام کی اولاد میں یہ سب سے پہلے قاتل اور مقتول تھے۔ چنانچہ قابیل کے بعد جو بھی ناحق خون کیا جاتا ہے، اس کے گناہ کا ایک حصہ قابیل کے کھاتے میں جاتا ہے؛ کیوںکہ اسی نے قتل کی ریت ڈالی تھی اور اس کے بعد آنے والا ہر شخص اسی کی اقتدا کرتا ہے۔

تشریح: العربية

يحكي هذا الحديث سبب تَحمُّل أحد ابني آدم تَبِعَات الدِّماء التي تُهدَر بعده، قيل: قابيل قتل أخاه هابيل حسدا له، فهما أول قاتل ومقتول من ولد آدم؛ فيتحمَّل قابيل نصيبًا من إثم الدماء التي تسفك من بعده؛ لأنه كان أول من سنَّ القتل؛ لأنَّ كل من فعله بعده مُقتدٍ به.

  • حرمة القتل بغير الحق.
  • الترغيب في المحافظة على الأنفس.
  • الترهيب من سن السنة السيئة.
  • أن من كان قدوة في الشر كان له مثل أوزار من اقتدى به، ومن كان قدوة في الخير كان له مثل أجور من اقتدى به.
  • الترهيب من الدعوة إلى الشر بالقول أو الفعل.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید