حدیث

میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ ایک تر مسواک کر رہے تھے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسواک کا کنارہ آپ ﷺ کی زبان پر تھا اور آپ مسواک منہ میں لے کر منہ سے اس طرح اع، اع کی آواز نکال رہے تھے، جیسےآپ ﷺ قے کر رہے ہوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: ((أتَيتُ النبي صلى الله عليه وسلم وهو يَسْتَاكُ بِسِوَاك رَطْب، قال: وطَرَفُ السِّوَاك على لسانه، وهو يقول: أُعْ، أُعْ، والسِّوَاك في فِيه، كأنَّه يَتَهَوَّع)).

ترجمہ

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ ایک تر مسواک کر رہے تھے۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسواک کا کنارہ آپ ﷺ کی زبان پر تھا اور آپ مسواک منہ میں لے کر منہ سے اس طرح اع، اع کی آواز نکال رہے تھے، جیسےآپ ﷺ قے کر رہے ہوں۔

تشریح

ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ ﷺ ایک تر مسواک کر رہے تھے؛ کیوں کہ یہ زیادہ اچھے طریقے سے صفائی کرتی ہے اور منہ میں ٹوٹ کر تکلیف نہیں دیتی۔ آپ ﷺ مسواک کو اپنی زبان پر رکھے ہوۓ تھے اور بہت اندر تک مسواک فرما رہے تھے اور یوں لگ رہا تھا، جیسے آپ ﷺ قے کر رہے ہوں۔

تشریح: العربية

يذكر أبو موسى الأشعرى رضي الله عنه : أنه جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، وهو يستاك بسواك رطب؛ لأن إنقاءه أكمل؛ فلا يتفتت في الفم؛ فيؤذى، وقد جعل السواك على لسانه، وبالغ في التسوك، حتى كأنه يتقيأ.

  • مشروعية السواك بالعود الرطب، وأن السواك من العبادات والقربات.
  • جواز التسوك في حضرة الناس.
  • مشروعية أن يستعمل السواك في لسانه، في بعض الأحيان، كما يكون على اللثة والأسنان.
  • مشروعية المبالغة في التسوك؛ لأن في المبالغة كمال الإنقاء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید