ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ عَمَّارِ بنِ ياسِرٍ رضي الله عنه قال: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا» ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ، وَظَاهِرَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ.
ترجمہ
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : مجھے اللہ کے رسول ﷺ نے کسی کام سے بھیجا۔ (دورانِ سفر) میں جنبی ہو گیا اور (غسل کے لیے) پانی نہ مل سکا، اس لیے میں زمین پر لوٹنے لگا، جس طرح جانور لوٹتا ہے۔ بعد ازاں جب اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے آپ ﷺ کو اس واقعے کے بارے میں بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : "تمھارے لیے اپنے ہاتھوں سے بس اتنا کر لینا کافی تھا"۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک دفعہ زمین پر مارا، پھر اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ، ہتھیلیوں کی پشت اور اپنے چہرے کا مسح کیا۔
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کسی کام سے ایک سفر میں بھیجا۔ دوران سفر ان کو جماع یا شہوت کے ساتھ نزول منی کی وجہ سے جنابت لاحق ہو گئی اور غسل کے لیے پانی نہ مل سکا۔ اس وقت ان کو معلوم نہيں تھا کہ جنابت کے بعد تیمم کیا جا سکتا ہے۔ صرف اتنا جانتے تھے کہ حدث اصغر کے بعد تیمم کی اجازت ہے۔ لہذا اجتہاد سے کام لیا۔ سمجھا کہ جس طرح حدث اصغر سے پاکی حاصل کرنے کے لیے بعض اعضائے وضو کا مٹی سے مسح کیا جاتا ہے، اسی طرح جنابت کے تیمم لیے پورے بدن پر مٹی لگانا ضروری ہے۔ لہذا مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گئے اور پورے بدن میں مٹی لگائی اور اس کے بعد نماز پڑھی۔ بعد ازاں جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو یہ جاننے کے لیے کہ ان کا عمل درست تھا یا نہيں، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اس واقعے کا ذکر کیا۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں حدث اصغر، جیسے پیشاب اور حدث اکبر، جیسے جنابت دونوں سے پاکی حاصل کرنے کا طریقہ بتا دیا۔ طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کو ایک بار زمین پر مارا جائے اور اس کے بعد اپنے بائيں ہاتھ سے دائيں ہاتھ، دونوں ہتھیلیوں کی پشت اور چہرے کا مسح کیا جائے۔
فوائد
- تیمم سے پہلے پانی کی تلاش ضروری ہے۔
- جنبی شخص کو پانی نہ ملے، تو تیمم کر سکتا ہے۔
- حدث اکبر کا تیمم حدث اصغر ہی کی طرح ہے۔
تشریح: العربية
بَعَثَ النبيُّ صلى الله عليه وسلم عَمّارَ بن ياسر رضي الله عنه في سَفَرٍ لبعض حاجاته، فأصابته جنابة بجماع أو نزول المني بشهوة، فلم يجد الماء ليغتسل منه، وكان لا يعلم حكم التيمم للجنابة، وإنما يعلم حكمَه للحدث الأصغر، فاجتهد وظَنّ أنه كما يَمسح بالتراب الذي على وجه الأرض بعض أعضاء الوضوء عن الحدث الأصغر، فلابد أن يكون التيمم من الجنابة بتعميم البدن بالتراب؛ قياسًا على الماء، فَتَقَلَّبَ في التراب حتى عَمَّم البدنَ وصَلَّى، فلما جاء إلى النبيِّ صلى الله عليه وسلم، ذَكَرَ له ذلك؛ ليرى هل هو على صواب أو لا؟ فَبَيَّنَ له النبيُّ صلى الله عليه وسلم كيفيةَ التَّطَهُّر مِن الحَدَثَين الأصغر كالبول، والأكبر كالجنابة: وهو أن يضرب بيديه على التراب ضربة واحدة، ثم يمسح الشمال على اليمين، وظاهر كفيه ووجهه.
- وجوب طلب الماء قبل التيمم.
- مشروعية التيمم لمن عليه جنابة ولم يجد الماء.
- التيمم للحدث الأكبر، كالتيمم للحدث الأصغر.