حدیث

میں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے، جس نے اپنا اونٹ بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھ دو اور پھر نحر کرو، جیسا کہ محمد ﷺ کی سنت ہے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن زياد بن جبير قال: رَأَيتُ ابنَ عُمَرَ أَتَى عَلَى رجل قد أَنَاخَ بَدَنَتَهُ، فَنَحَرَهَا، فَقَالَ: ابْعَثْهَا قِيَاماً مُقَيَّدَةً، سُنَّةَ مُحَمَّدٍ -صلَّى الله عليه وسلَّم-.

ترجمہ

زیاد بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے، جس نے اپنا اونٹ بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھ دو اور پھر نحر کرو، جیسا کہ محمد ﷺ کی سنت ہے۔

تشریح

اونٹوں کے سوا گائے اور بھیڑ بکریوں میں سنت یہ ہے کہ انھیں بائیں پہلو پر قبلہ رو لٹا کر حلق کی جگہ سے ذبح کیا جائے۔ جب کہ اونٹوں میں سنت یہ ہے کہ انھیں کھڑا کر کے اور اگلا بایاں پاؤں باندھ کر سینے پر سے نحر کیا جائے کیوںکہ اس طریقے سے اس کی روح جلدی نکل جاتی ہے اور اسے کم تکلیف ہوتی ہے۔ اسی لیے جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک ایسے شخص سے گزر ہوا، جو اونٹ کو بٹھا کر نحر کرنا چاہ رہا تھا، تو انھوں نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھ دو (اور پھر نحر کرو)۔ یہی نبی ﷺ کی سنت ہے جنھوں نے اونٹ کو نحر کرنے میں قرآن کے بتائے ہوئے طریقۂ عمل کی پیروی کی کہ: ”فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا“۔(ترجمہ:پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں)۔ ”وَجَبَتْ“ کا معنی ہے: جب وہ گر پڑیں اور کسی شے کا گرنا تب ہی ہوتا ہے، جب وہ پہلے کھڑی ہو۔

تشریح: العربية

السُنَّة في البقر والغنم وغيرهما -ماعدا الإبل- ذبحها من الحلق مضجعة على جانبها الأيسر، ومستقبلة القبلة، وأما الإبل، فالسنة نحرها في لبتها، قائمة معقولة يدها اليسرى؛ لأن في هذا راحة لها، بسرعة إزهاق روحها، ولذا لما مر عبد الله بن عمر رضي الله عنه على رجل يريد نحر بدنة مناخة، قال: ابعثها قياما، مقيدة، فهي سنة النبي صلى الله عليه وسلم الذي نهج أدب القرآن في نحرها بقوله: (فإذا وجبت جنوبها) يعني: سقطت، والسقوط لا يكون إلا من قيام.

  • كراهة ذبحها باركة؛ لأن فيه تطويلا في إزهاق روحها.
  • سنة النبي -صلى الله عليه وسلم- نحر الإبل قائمة مقيدة؛ لأنه من إحسان الذبحة، والرفق بالحيوان، وتشير إلى ذلك الآية الكريمة التي سبق ذكرها.
  • حرص الصحابة -رضي الله عنهم- على الإرشاد إلى السنة.
  • ذكر الدليل عند الإرشاد؛ ليكون أدعى للقبول والطمأنينة.
  • رحمة الله -تعالى- ورأفته بخلقه، حتى في حال إزهاق الروح، وبمثل هذه الأحكام الرحيمة، والحنان العظيم، يعلم أنه دين عطف وشفقة، لا دين وحشية وعنف.
  • جواز ذكر النبي -صلى الله عليه وسلم- باسمه في باب الإخبار لا في النداء.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید