حدیث

ابوذر! تم کمزور ہو اور یہ (امارت) امانت ہے، قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہوگی، سوائے اُس شخص کے، جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس نے متعلقہ ذمہ داری جو اُس پر عائد ہوئی تھی اسے (اچھی طرح) ادا کیا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قُلتُ: يَا رسُولَ الله، أَلاَ تَسْتَعْمِلُنِي؟ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ، وَإِنَّهَا يَوْمَ القِيَامَةِ خِزيٌ وَنَدَامَةٌ، إِلاَّ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، وَأَدَّى الَّذِي عَلَيهِ فِيهَا».

ترجمہ

ابو ذر رضی الله عنہ سے روایت ہےکہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے عامل نہیں بنائیں گے؟ آپ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا:”ابوذر! تم کمزور ہو اور یہ (امارت) امانت ہے، قیامت کے دن یہ شرمندگی اور رسوائی کا باعث ہوگی، سوائے اس شخص کے، جس نے اسے حق کے مطابق قبول کیا اور اس نے متعلقہ ذمہ داری جو اس پر عائد ہوئی تھی اسے (اچھی طرح) ادا کیا“۔

تشریح

ابو ذر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے بطورِ خاص انہیں حکومت اور اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے بارے میں نصحیت فرمائی۔ ایسا اس وقت ہوا جب ابو ذر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا کہ آپ ﷺ انہیں کوئی حکومتی ذمہ داری سونپیں۔ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم کمزور ہو“۔ اس بات میں گو کہ کچھ سختی ہے لیکن امانت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان کو اس کے بارے میں بالکل صراحت کے ساتھ بتا دیا جائے کہ وہ کیسا ہے۔ اگر وہ قوی ہے تو قوی اور اگر کمزور ہے تو کمزور۔ اس میں دلیل ہے کہ حکومتی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان قوی اور امین ہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ”یہ امانت ہے“۔ اگر وہ قوی اور امین ہو تو یہ صفات ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ امیر اور حاکم بننے کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اگر قوی تو ہو لیکن امین نہ ہو یا پھر امین ہو لیکن قوی نہ ہو یا پھر کمزور بھی ہو اور امین بھی نہ ہو تو ان تینوں اقسام کی کمزوریوں کے مالک شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ حکمران بنے۔چنانچہ اس بنا پر ہم قوی شخص کو حکمرانی سونپتے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہے۔ لوگوں کو اقتدار اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر قوت نہ ہو خاص طور پراس وقت جب دین بھی کمزور ہو تو اس صورت میں معاملات بگاڑ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ حدیث حکومتی ذمہ داریوں کو لینے سے اجتناب کرنے کے بارے میں ایک بنیاد ہے خاص طور پر اس شخص کے لیے جس میں اس حکومتی ذمہ داری کے تقاضوں کو پورا کرنے کے سلسلے میں کمزوری پائی جائے۔ جہاں تک اُس رسوائی اور ندامت کا تعلق ہے جس کا حدیث میں ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قیامت کے روز رسوائی اور ندامت کے سوا کچھ نہ ہو گی“۔ تو یہ اس شخص کے حق میں ہے جو اس حکومتی ذمہ داری کا اہل نہ ہو۔ یا پھر اہل تو ہو لیکن وہ اس میں انصاف نہ کرے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالی قیامت کے دن ذلیل اور رسوا کر دے گا اور وہ اپنی کوتاہی پر نادم ہو گا۔ جب کہ وہ شخص جو حکومتی ذمہ داری کا اہل ہو اور وہ اس میں انصاف بھی کرے تو یہ وعید اُس پر صادق نہیں آئے گی۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے استثناء کرتے ہوئے فرمایا: ”ماسوا اس شخص کے جس نے اس کا اہل ہونے کی وجہ سے اسے لیا اور اس کے بارے میں اس پر جو ذمہ داری عائد ہوتی تھی اسے پورا کیا“۔ کیونکہ جو اس کا اہل ہو اس کی بہت فضیلت ہے جس کا ذکر بہت سی صحیح احادیث میں آیا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ: ”سات لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ اپنے سایہ میں جگہ دے گا“ (جس میں انصاف کرنے والا حاکم بھی ہے)۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے کہ: ”عدل کرنے والے نور کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے“۔ وغیرہ۔

تشریح: العربية

أخبر أبو ذر أن النبي صلى الله عليه وسلم خصّه بنصيحة في شأن الإمارة وتوليها، وهذا لما سأل رضي الله عنه النبي صلى الله عليه وسلم أنْ يستعمله في الولاية، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم : "إنك ضعيفٌ"، وهذا القول فيه نوع قوة لكن الأمانة تقتضي أن يُصرَّحَ للإنسان بوصفه الذي هو عليه، إن قويًّا فقوي، وإن ضعيفًا فضعيف. ففي هذا دليل على أنه يشترط للإمارة أن يكون الإنسان قويًّا وأن يكون أمينًا؛ لأن الرسول -عليه الصلاة والسلام- قال: "وإنها أمانة"، فإذا كان قويًّا أمينًا فهذه هي الصفات التي يستحق بها أن يكون أميرًا واليًا، فإن كان قويًّا غيرَ أمينٍ، أو أمينًا غيرَ قوي، أو ضعيفًا غيرَ أمينٍ، فهذه الأقسام الثلاثة لا ينبغي أن يكون صاحبها أميرًا. وعليه فإنَّنَا نُؤَمِّر القوي؛ لأنَّ هذا أنفع للناس، فالناس يحتاجون إلى سلطة وإلى قوة، وإذا لم تكن قوة ولا سيما مع ضعف الدين ضاعت الأمور. فهذا الحديث أصل عظيم في اجتناب الولايات، لا سيما لمن كان فيه ضعف عن القيام بوظائف تلك الولاية. وأما الخزي والندامة الواردة في الحديث، في قوله: "وإنها يوم القيامة خزي وندامة" فهو في حق من لم يكن أهلًا لها، أو كان أهلًا ولم يعدل فيها، فيخزيه الله تعالى يوم القيامة، ويفضحه، ويندم على ما فرَّط. وأما من كان أهلًا للولاية وعدل فيها، فلا يشمله الوعيد؛ ولذلك النبي الكريم استثنى فقال صلى الله عليه وسلم : "إلا من أخذها بحقها، وأدى الذي عليه فيها"، ذلك أن من أخذها بحقها له فضل عظيم تظاهرت به الأحاديث الصحيحة؛ كحديث: "سبعة يظلهم الله في ظله"، ذكر منهم "إمام عادل"، وحديث: "إنّ المقسطين على منابر من نور يوم القيامة"، وغير ذلك.

  • من طلب الولاية لا يُوَلَّى؛ فالإسلام لا يعطي الإمارة من سألها وحرص عليها وعمل على طلبها.
  • أحق الناس بالإمارة من امتنع عنها وكرهها، وكان أهلًا لها.
  • الولاية أمانة عظيمة ومسؤولية خطيرة، فعلى من وليها أن يرعاها حق رعايتها، وأن لا يخون عهد الله فيها.
  • فضل من تولى الولاية وكان أهلا لها، سواءً كان إمامًا عادلًا، أو خازنًا أمينًا، أو عاملًا متقنًا.
  • أن العاجز عن القيام بحقوق الإِمارة وتنفيذ أُمورها لا يجوز له أن يدخل فيها، وكذلك العاجز عن إصلاح مال اليتيم لا يتولاه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید