ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَلَا أَنْتَ؟ قَالَ: «وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ».
ترجمہ
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "صحیح راستہ اختیار کرو اور جان ركھو کہ تم میں سے کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پا سکتا"۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: "میں بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالی اپنی رحمت و فضل سے مجھے ڈھانپ لے۔"
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو اس بات کی ترغیب دی کہ عمل کرتے رہیں، افراط و تفریط سے بچتے ہوئے جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہیں، ان کے عمل کا مقصد حق جوئی ہو‘ بایں طور کہ اخلاص الہی اور اتباع سنت کے ساتھ عمل کریں، تاکہ ان کے اعمال قبول ہوں اور نزول رحمت کا سبب بنیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ فقط تم میں سے کسی کا عمل اسے نجات نہيں دلا سکتا۔ بلکہ اللہ کی رحمت شامل حال ہونا ضروری ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اتنے سارے اعمال بھی آپ کو نجات نہيں دلا سکتے؟ جواب دیا: مجھے بھی نہيں، جب تک کہ اللہ اپنے فضل ورحمت کی چادر مجھ پر نہ پھیلا دے۔
فوائد
- نووی کہتے ہيں: حدیٹ کے الفاظ (سدِّدوا وقاربوا) کے معنی یہ ہوئے کہ درستگی کی تلاش میں رہو اور اس پر عمل کرو۔ اگر ایسا نہ کر سکو، تو اس سے قریب رہو۔ سداد کے معنی درستگی کے ہیں۔ یعنی افراط و تفریط کے درمیان کی راہ، نہ غلو کرو اور نہ کوتاہی کی راہ اپناؤ۔
- شیخ ابن باز کہتے ہيں: جس طرح برے اعمال جہنم میں داخل ہونے کا سبب ہیں، اسی طرح اچھے اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ جنت میں داخلہ محض عمل کی بنیاد پر نہيں مل سکتا بلکہ اللہ کا درگزر اور اس کی رحمت ضروری ہے۔ لوگ داخل تو ہوں گے اپنے اعمال کی وجہ سے، لیکن اس داخلے کو اللہ کی رحمت، اس کا عفو و درگزر اور اس کی مغفرت واجب کرے گی۔
- بندے کو اپنے عمل پر غرور اور تکبر نہیں کرنا چاہیے، خواہ وہ جس قدر بھی ہو، کیوں کہ اللہ تعالی کا حق اس کے عمل سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس لیے بندے کو خوف وامید دونوں سے لیس ہونا چاہیے۔
- بندوں کے اوپر تنی ہوئی اللہ کے فضل و احسان کی چادر ان کے اعمال سے کہیں زیادہ کشادہ ہے۔
- نیک اعمال جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں اور جنت سے سرفراز ہونا محض اللہ کے فضل اور رحمت سے ممکن ہے۔
- کرمانی کہتے ہیں: جب سارے لوگ اللہ کی رحمت کی بدولت ہی جنت میں داخلہ پا سکتے ہيں، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر بطور خاص یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ جب آپ کا جنت میں داخل ہونا یقینی ہے اور اس کے باوجود آپ اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، تو دوسرے لوگ بہ درجہ اولی داخل نہيں ہو سکتے۔
- نووی کہتے ہيں: ارشاد باری تعالی: (اپنے ان اعمال کے سبب جنت میں داخل ہو جاؤ جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے۔) [النحل: ۳۲]، (یہ وہ جنت ہے جس کا تم وارث اپنے کیے ہوئے اعمال کے سبب بنائے گئے ہو۔) [ الزخرف : 72] اور اس طرح کی ديگر آیتیں جو یہ بتاتی ہيں کہ اعمال کی بدولت جنت میں داخلہ نصیب ہوگا، ان کے اور ان احادیث کے درمیان تعارض نہيں ہے۔ کیوں کہ ان آیتوں کے معنی بس اتنا ہیں کہ جنت میں داخلہ اعمال کے سبب سے نصیب ہوگا۔ لیکن اعمال کی توفیق، ان کے اندر اخلاص اور ان کی قبولیت اللہ کی رحمت اور فضل و کرم سے نصیب ہوتی ہے۔ یہی ان احادیث کا مقصد ہے۔ لہذا یہ صحیح ہے کہ جنت میں داخلہ اعمال کے سبب ملے گا، لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ اعمال کی توفیق اللہ کی رحمت سے نصیب ہوتی ہے۔
- ابن الجوزی کہتے ہيں: اس سے چار جوابات نکل کر سامنے آتے ہيں: 1- عمل کی توفیق اللہ کی رحمت سے ملتی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ اگر اللہ کی رحمت شامل حال نہ ہو تو نہ ایمان کی دولت نصیب ہو اور نہ اطاعت کی سعادت، جن سے کہ نجات ملتی ہے۔ 2- غلام کے منافع آقا کے ہوا کرتے ہيں۔ لہذا اس کا عمل بھی اس کے آقا کا حق ہے۔ ایسے میں آقا اپنے غلام کو جو بھی انعام دے اسے اس کے فضل و کرم کا ہی نام دیا جائے گا۔ 3- کچھ حدیثوں میں آیا ہے فی نفسہ دخول جنت اللہ کی رحمت سے نصیب ہوگا اور درجات کی تقسیم اعمال کی بنیاد پر ہوگی۔ 4- نیکی کے کام کرنے میں تھوڑا سا وقت لگتا ہے، جب کہ اس کے نتیجے میں ملنے والا ثواب دائمی ہوتا ہے۔ اس لیے ختم ہو جانے والے اعمال کے بدلے میں ملنے والا دائمی انعام فضل وکرم ہی کہلائے گا۔ بدلہ نہيں۔
- رافعی کہتے ہيں: کسی بھی عمل کرنے والے کے لیے مناسب نہيں ہوگا کہ نجات اور درجات کے حصول کے سلسلے میں اپنے عمل پر بھروسہ کر لے۔ کیوں کہ اس کے پاس جو اعمال ہیں، وہ اللہ کی توفیق کی بنا پر ہیں اور اگر وہ گناہوں سے محفوظ رہا ہے، تو اسے محفوظ اللہ نے رکھا ہے۔ اس لیے یہ سب کچھ اللہ کے فضل وکرم اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔
تشریح: العربية
يَحُثُّ النبيُّ صلى الله عليه وسلم الصحابة على أنْ يعملوا، وأنْ يتقوا الله ما استطاعوا، دون غُلُوٍّ ولا تَقصير، وأن يقصِدوا بعملهم الصواب بالإخلاص لله واتّباع السنة لِيُقبَل عملُهم فتكون سببًا لنزول الرحمة عليهم. ثم أَخبرَهم بأنه لن يُنجيَ أحدًا منكم عملُه فقط؛ بل لا بد من رحمة الله. قالوا: حتى أنت يا رسول الله لا ينجيك عملُك مع عِظَمِ قدره؟ فقال: حتى أنا، إلّا أن يَستُرَني اللهُ بفضل رحمته.
- قال النووي: (سدِّدوا وقاربوا): اطلبوا السدادَ، واعملوا به، وإن عَجَزْتُم عنه، فقارِبُوه؛ أي: اقربوا منه، والسداد: الصوابُ، وهو بين الإفراط والتفريط، فلا تَغْلُوا ولا تُقصِّروا.
- قال ابن باز: الأعمال الصالحة هي أسباب دخول الجنة، كما أنّ الأعمال الخبيثة هي أسباب دخول النار، والحديث يُبيِّنُ أنّ دخولَهم الجنة ليس بمجرَّد العمل، بل لا بد من عفو الله ورحمته سبحانه وتعالى، فهم دخلوها بأسباب أعمالهم، ولكن الذي أوجب ذلك رحمته سبحانه، وعفوه ومغفرته.
- العبد لا يَغتر ويُعجَب بعمله مهما بلغ؛ لأنّ حقَّ الله أعظم من عمله، فلا بد للعبد من الخوف والرجاء جميعًا.
- فضل الله ورحمته على عباده أوسع من أعمالهم.
- الأعمال الصالحة سبب لدخول الجنة، والفوز بها إنما هو بفضلِ الله ورحمة منه.
- قال الكرماني: "إذا كان كلُّ الناس لا يدخلون الجنة إلا برحمة الله، فوجْه تخصيص رسول الله صلى الله عليه وسلم بالذِّكْر هو أنه إذا كان مقطوعًا له بأنه يدخل الجنة، ولا يدخلها إلا برحمة الله؛ فغيرُه يكون في ذلك بطريق الأَولى.
- قال النووي: في معنى قوله تعالى: ﴿ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [النحل: 32]، ﴿وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ [الزخرف: 72]، ونحوهما من الآيات الدالة على أن الأعمال يُدخَل بها الجنة، فلا يُعارِض هذه الأحاديثَ، بل معنى الآيات أن دخول الجنة بسبب الأعمال، ثم التوفيق للأعمال، والهداية للإخلاص فيها، وقَبُولها برحمة الله تعالى وفضله، فيصح أنه لم يدخل بمجرَّد العمل، وهو مراد الأحاديث، ويصح أنه دخل بالأعمال؛ أي: بسببها، وهي من الرحمة.
- قال ابن الجوزي: يتحصل عن ذلك أربعة أجوبة؛ الأول: أنَّ التوفيق للعمل من رحمة الله، ولولا رحمة الله السابقة ما حصل الإيمان ولا الطاعة التي يحصل بها النجاة، الثاني: أنّ منافع العبد لسيده فعمله مُستَحَقٌّ لمولاه، فمهما أنعم عليه من الجزاء فهو من فضله، الثالث: جاء في بعض الأحاديث أنّ نفس دخول الجنة برحمة الله، واقتسام الدرجات بالأعمال، الرابع: أنّ أعمال الطاعات كانت في زمن يسير، والثواب لا ينفد فالإنعام الذي لا ينفد في جزاء ما ينفد بالفضل لا بمقابلة الأعمال.
- قال الرافعي: أنّ العامل لا ينبغي أنْ يَتَّكِلَ على عَمَلِهِ في طلب النجاة ونيل الدرجات؛ لأنه إنما عَمل بتوفيق الله وإنما ترك المعصية بعصمة الله فكل ذلك بفضله ورحمته.