حدیث

لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحرواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمد

عربی متن

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الآيَةَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ}، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ مِنْهُ».

ترجمہ

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا : اے لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہو: "يَا أَيُّها الَّذِين آمَنُوا عَلَيكُم أَنفسَكُم لاَ يَضُرُّكُم مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيتُم۔" (سورہ مائدہ: 105) (اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راهِ راست پر چل رہے ہو، تو جو شخص گمراه رہے، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : "لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔"

تشریح

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ لوگ اس آیت کو پڑھتے ہيں : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105]. (اے ایمان والو! اپنی فکر کرو۔ جب تم راهِ راست پر چل رہے ہو، تو جو شخص گمراه رہے، اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔) اور اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی ذمے داری بس اپنی اصلاح کی فکر کرنا ہے۔ اگر کوئی گمراہ ہو رہا ہے، تو ہوا کرے۔ اس سے اس کا کچھ نہيں بگڑنے والا۔ ان پر اچھے باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کی ذمے داری عائد نہيں ہوتی۔ انھوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کی خام خیالی ہے۔ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : لوگ جب کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھ کر روکنے کی طاقت ہونے کے باجود اسے نہ روکیں، تو اس بات کا امکان بن جاتا ہے کہ اللہ ان سب پر اپنی جانب سے ایک عام عذاب بھیج دے۔ غلط کرنے والے پر بھی اور خاموش رہنے والے پر بھی۔

فوائد

  • خیرخواہی، اچھے کام کا حکم دینا اور برے کام سے روکنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
  • اللہ کے عقاب کا سامنا ظلم کرنے والے ظالم کو بھی کرنا پڑے گا اور طاقت رکھتے ہوئے اس کے خلاف آواز نہ اٹھانے والے خاموش تماشائی کو بھی۔
  • عوام کو نصوص قرآنی کی تعلیم دینے اور سمجھانے کا کام صحیح طریقے سے ہونا چاہیے۔
  • انسان کو اللہ کی کتاب کو سمجھنے پر خاص توجہ دینی چاہیے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ سمجھے کچھ اور اللہ کی مراد کچھ ہو۔
  • انسان بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے فریضے سے کنارہ کش رہ کر ہدایت یاب نہیں ہو سکتا۔
  • اس آیت کی صحیح تفسیر اس طرح ہے : اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے رکھو۔ جب تم نے اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے رکھا، تو بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی طاقت نہ رکھنے کی صورت میں گناہوں میں پڑ کر گمراہ ہونے والوں کی گمراہی تمھارے لیے ضرر رساں نہيں ہوگی۔
تشریح: العربية

يُخبِرُ أبو بكر الصديق رضي الله عنه: أن الناس يقرؤون هذه الآية: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: 105]. ويفهمون منها أنّ على الإنسان السعي في إصلاح نفسه فقط، وأنه لا يضره بعد ذلك ضلال من ضل، وأنهم غير مطالَبين بالأمر بالمعروف والنهي عن المنكر! فأعلمهم أنها ليست كذلك، وأنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن الناس إذا رأوا الظالم فلم يمنعوه من ظلمه، وعندهم القدرة على منعه، يوشك أن يعمَّ الله الجميعَ بعقاب من عنده، الفاعل للمنكر، والساكت عنه.

  • واجب المسلمين التناصح والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.
  • عقاب الله العام يشمل الظالم لظلمه، ويشمل الساكت عن الإنكار إن كان قادرًا على الإنكار.
  • تعليم العامة وإفهامهم النصوص القرآنية على الوجه الصحيح لها.
  • أنه يجب على الإنسان العناية بفهم كتاب الله عز وجل، حتى لا يفهمه على غير ما أراد الله تعالى.
  • الاهتداء لا يتحقق مع ترك الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.
  • التفسير الصواب للآية: الزموا حفظ أنفسكم عن المعاصي، فإذا حفظتم أنفسكم لم يضركم إذا عجزتم عن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر ضلال من ضل بارتكاب المناهي إذا اهتديتم إلى اجتنابها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید