حدیث

عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے آپ ﷺ کو اپنےسینے کے ساتھ سہارا دے رکھا تھا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں ایک تازہ مسواک لیے اسے کر رہے تھے۔ آپ ﷺ مسلسل مسواک کی طرف دیکھ رہے تھے۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عائشة رضي الله عنها قالت: ((دخل عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق رضي الله عنهما على النبي صلى الله عليه وسلم وأنا مُسْنِدَتُه إلى صدري، ومع عبد الرحمن سِواك رَطْب يَسْتَنُّ به، فأَبَدَّه رسول الله صلى الله عليه وسلم بَصَره، فَأَخَذْتُ السِّوَاك فَقَضَمتُه، فَطَيَّبتُه، ثُمَّ دَفَعتُهُ إلى النبي صلى الله عليه وسلم فَاسْتَنَّ به فما رأيتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم استَنَّ اسْتِنَانًا أَحسَنَ منه، فَما عَدَا أن فَرَغَ رسول الله صلى الله عليه وسلم : رَفَع يَدَه -أو إصبعه-، ثم قال: في الرفيق الأعلى -ثلاثا- ثمَّ قَضَى، وكَانت تقول: مَاتَ بَينَ حَاقِنَتِي وَذَاقِنَتِي)).

ترجمہ

عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابى بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے آپ ﷺ کو اپنےسینے کے ساتھ سہارا دے رکھا تھا۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں ایک تازہ مسواک لیے اسے کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے مسلسل مسواک کی طرف دیکھا، تو میں نے مسواک لے کر اسے دانتوں سے چبایا اور اچھی طرح سے قابل استعمال بنا کر نبی ﷺ کی طرف بڑھا دی۔ آپ ﷺ نے وہ مسواک جتنی اچھی طرح سے کی، اس طرح سے میں نے آپ ﷺ کو کبھی مسواک کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مسواک سے فارغ ہوتے ہی آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ یا اپنی انگلی اٹھائی اور فرمایا۔ ”فی الرفیق الاعلیٰ“ (اے اللہ! مجھے رفیق اعلی میں پہنچا)۔ آپ ﷺ نے ایسا تین دفعہ کہا اور پھر وفات پا گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ کا سر مبارک میری ہنسلی اور ٹھوڑی کے مابین تھا۔

تشریح

عائشہ رضی اللہ عنہا ایک قصہ بیان کر رہی ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہےکہ نبی ﷺ مسواک سے کس قدر محبت کرتےتھے۔ عبد الرحمن بن ابى بکر رضی اللہ عنہ جو عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب کہ آپ ﷺ حالت نزع میں تھے۔ ان کے پاس ایک تروتازہ مسواک تھی، جسے وہ اپنے دانتوں پر رگڑ رہے تھے۔ نبی ﷺ نے جب عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کے پاس مسواک دیکھی، تو اپنی بیماری اور حالت نزع کے باوجود آپ ﷺ مسواک کی طرف متوجہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے، کیوںکہ آپ ﷺ کو یہ بہت پسند تھی۔ آپ ﷺ مسلسل اس کی طرف دیکھ رہے تھے، جیسے اسے استعمال کرنے کےخواہش مند ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھانپ کر اپنے بھائی سے مسواک لی، اپنے دانتوں سے اس کا سرا کاٹا اور صاف ستھری کر کے نبی ﷺ کو دے دیا اور آپ ﷺ نے اس سے مسواک کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو اس سے بہتر انداز میں مسواک کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ جب آپ ﷺ (دندان مبارک) صاف کر چکے اور مسواک سے فارغ ہوگئے، تو انگلی اٹھا کر اللہ کی وحدانیت کا اقرار کیا اور اپنے رب کےجوار کو اختیار کرتے ہوئے وفات پاگئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات پر فخر کیا کرتی تھیں کہ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی، تو آپ ﷺ کا سر مبارک ان کے سینے پرتھا اور ان کا اس بات پر فخر کرنا بجا بھی تھا۔

تشریح: العربية

تذكر عائشة رضي الله عنها قصةً تبين لنا مدى محبة النبي صلى الله عليه وسلم للسواك وتعلقه به، وذلك أن عبد الرحمن بن أبى بكر رضي الله عنه -أخا عائشة- دخل على النبي صلى الله عليه وسلم في حال النزع ومعه سواك رطب، يدلك به أسنانه. فلما رأى النبي صلى الله عليه وسلم السواك مع عبد الرحمن، لم يشغله عنه ما هو فيه من المرض والنزع، من محبته له، فمدَّ إليه بصره، كالراغب فيه، ففطنت عائشة رضي الله عنها فأخذت السواك من أخيها، وقصت رأس السواك بأسنانها ونظفته وطيبته، ثم ناولته النبي صلى الله عليه وسلم ، فاستاك به. فما رأت عائشة تسوكًا أحسن من تسوكه. فلما طهر وفرغ من التسوك، رفع إصبعه، يوحد الله تعالى ، ويختار النقلة إلى ربه تعالى ، ثم توفي صلى الله عليه وسلم . فكانت عائشة رضي الله عنها مغتبطة، وحُق لها ذلك، بأنه صلى الله عليه وسلم توفي ورأسه على صدرها.

  • جواز الاستياك بالسواك الرطب.
  • محبة النبي -صلى الله عليه وسلم- للسواك.
  • قوة فطنة عائشة -رضي الله عنها-.
  • العمل بما يفهم من الإشارة والدلالة.
  • إصلاح السواك وتهيئته.
  • جواز الاستياك بسواك الغير بعد تطهيره وتنظيفه.
  • توكيد أمر السواك لكونه -صلى الله عليه وسلم- حرص عليه مع ما هو فيه من تعب المرض.
  • قوة قلب النبي -صلى الله عليه وسلم- ورباطة جأشه حيث لم يذهل عن التسوُّك والدعاء حال الموت.
  • استحباب الاستياك عند الاحتضار.
  • إثبات علو الله -عز وجل- في السماء.
  • فضيلة عائشة -رضي الله عنها- ووفاته -صلى الله عليه وسلم- في حِجرها، وبيتها، ويومها.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید