حدیث

باپ سے محبت کرنے والوں سے صلہ رحمی، بہت بڑی نیکی ہے

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحاسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

عربی متن

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأعرَاب لَقِيهَ بِطَريق مَكَّة، فَسَلَّم عَلَيه عَبد الله بنُ عمر، وَحمَلهُ على حمار كان يركَبُهُ، وَأعطَاه عِمَامَة كَانت على رأسه، قال ابن دينار: فقُلنا له: أَصْلَحَك الله، إنَّهم الأعراب وهُم يَرْضَون بِاليَسِير، فقال عبدُ الله بنَ عُمر: إِنَّ أَبَا هَذَا كَانَ وُدًّا لِعُمر بنِ الخطَّاب رضي الله عنه وإنِّي سَمِعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ أَبَرَّ البِرِّ صِلَةُ الرَّجُل أَهْلَ وُدِّ أَبِيه». وفي رواية عن ابن دينار، عن ابن عمر: أنَّه كان إذَا خَرَج إلى مكة كان له حمار يَتَرَوَّحُ عليه إذا ملَّ رُكُوبَ الرَّاحِلة، وَعِمَامة يَشُدُّ بها رأسه، فَبينَا هو يومًا على ذلك الحمار إِذْ مَرَّ بِهِ أَعْرَابِي، فقال: أَلَسْتَ فُلاَن بنَ فُلاَن؟ قال: بَلَى. فَأَعْطَاهُ الحِمَار، فقال: ارْكَب هَذَا، وَأَعْطَاهُ العِمَامَةَ وَقَالَ: اشْدُدْ بِهَا رَأْسَكَ، فَقَالَ لَهُ بَعض أصحَابِه: غفر الله لك أَعْطَيت هذا الأعرابي حمارا كنت تَرَوَّحُ عليه، وعِمَامَة كُنتَ تشدُّ بها رأسَك؟ فقال: إِنِّي سمِعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «إِنَّ مِنْ أَبَرِّ البِّر أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدَّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ» وَإِنَّ أَبَاه كان صَدِيقًا لِعُمَرَ رضي الله عنه .

ترجمہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو مکہ کے کسی راستے میں ایک اعرابی ملا، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کیا، اپنے گدھے پر سوار کیا، جس پر وہ خود سوار تھے اور اپنا عمامہ اتار کر پہنایا۔ ابن دینار کہتے ہیں کہ ہم نے (عبداللہ بن عمر سے) کہا: اللہ خیر فرمائے! یہ بدو لوگ معمولی دی ہوئی چیز پر راضی ہو جاتے ہیں! تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص کا والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا دوست تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کے دوست واحباب کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے“۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ابن دینار کی ایک روایت میں ہے کہ وہ جب مکے کی طرف روانہ ہوئے، تو ان کے پاس ایک گدھا تھا، جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے، تو اس پر آرام کرتے، پھر اونٹ پر سوار ہوجاتے اور ایک عمامہ تھا، جسے سر پرباندھتے تھے۔ ایک دن وہ اسی گدھے پر تھے کہ ان کے پاس سے ایک اعرابی گزرا، توانھوں نے اس سے کہا: تو فلاں بن فلاں ہے؟ اس نے کہا: ہاں! توانھوں نے اسے گدھا دے دیا اور اس سے کہا کہ اس پر سوار ہوجاؤ، پھر عمامہ دے دیا اور فرمایا: اسے اپنے سر پر باندھ لو۔ ان کے بعض احباب نے کہا: اللہ آپ کی مغفرت فرمائے، اس بدو کو آپ نے گدھا دے دیا، جس پر آپ آرام فرماتے ہیں اور عمامہ بھی، جسے آپ اپنے سر پر باندھتے ہیں؟ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سناہے، آپ فرما رہے تھے: ”سب سے بڑی نیکی آدمی کا اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کے دوست واحباب کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے“۔ اس اعرابی کا باپ عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔

تشریح

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو ان کے پاس ایک گدھا تھا۔ جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے، تو اس پر (کچھ دیر) آرام کرتے پھراونٹ پر سوار ہوجاتے۔ انہی ایام میں ایک دن ایک اعرابی سے ملاقات ہوئی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا کہ تو فلاں بن فلاں ہے؟ اس نے کہا:ہاں! چنانچہ آپ اپنے گدھے سے اتر آئے اور اس سے کہا کہ تم اس پر سوار ہو جاؤ اور اپںے سر پر بندھا ہوا عمامہ اتار کر اس کو دے دیا اور اس سے کہا کہ اس کو اپنے سرپر باندھ لو۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے یامغفرت فرمائے! یہ بدو لوگ ہیں اور بدو تو اس سے کم پر بھی راضی ہو جاتے ہیں!! لوگ یہ کہنا چاہتے تھے کہ آپ نے اپنا گدھا، جس پر آپ سوار ہوتے تھے اور عمامہ جسے سر پر باندھتے تھے، اسے دے کر پیدل چلنا کیسے گوارا کر لیا، جب کہ وہ ایک اعرابی ہے، اس سے کم پر بھی راضی ہوجاتا؟ تو انھوں نے فرمایا: ”سب سے بہتر نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے“۔ یعنی جب انسان کا باپ، ماں یا کوئی قریبی فوت ہو جائے تو، ان سے لگاؤ اور انسیت رکھنے والوں سے حسن سلوک کرے۔ یعنی صرف ان کے دوست کے ساتھ نہیں بلکہ اس دوست کے عزیز و اقارب کے ساتھ بھی۔ اس اعرابی کا باپ عمر کا رضی اللہ عنہ کادوست تھا۔ یعنی عبداللہ کے والد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ اس لیے اپنے والد گرامی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نیک برتاؤ کے سلسلے کو دراز کرتے ہوئے ان کی عزت افزائی کی۔

تشریح: العربية

كان ابن عمر رضي الله عنهما إذا خرج إلى مكة حاجا يكون معه حمار يَتروَّح عليه إذا مل الركوب على الراحلة -أي البعير- فيستريح على هذا الحمار ثم يركب الراحلة. وفي يوم من الأيام لقيه أعرابي فسأله ابن عمر: أنت فلان ابن فلان؟ قال: نعم، فنزل عن الحمار وقال: خذ هذا اركب عليه، وأعطاه عمامة كان قد شد بها رأسه، وقال لهذا الأعرابي: اشدد رأسك بهذا. فقيل لعبد الله بن عمر: أصلحك الله أو غفر الله لك! إنهم الأعراب، والأعراب يرضون بدون ذلك، يعنون: كيف تنزل أنت عن الحمار تمشي على قدميك، وتعطيه عمامتك التي تشد بها رأسك، وهو أعرابي يرضى بأقل من ذلك. فقال: «إِنَّ أَبَرَّ البِرِّ صِلَةُ الرَّجُل أَهْلَ وُدِّ أَبِيه»: يعني أن أبر البر إذا مات أبو الرجل أو أمه أو أحد من أقاربه أن تَبُرَّ أهل وُدِّهِ، يعني ليس صديقه فقط بل حتى أقارب صديقه. وقوله:7و "إِنَّ أبا هذا كان صديقا لعمر" أي: لعمر بن الخطاب أبيه، فلما كان صديقا لأبيه؛ أكرمه برًّا بأبيه عمر رضي الله عنه .

  • من بر الرجل بوالده أن يحب أصحابه بعد موته ويحسن إليهم.
  • تعليم أدب الدعاء المتضمن اللطف في العتاب في قولهم: غفر الله لك، وأصلحك الله، وهذا أدب القرآن المستفاد من قوله تعالى: (عَفَا اللَّهُ عَنْكَ لِمَ أَذِنْتَ لَهُمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ)، التوبة: (43).
  • في وصف أصحاب ابن عمر للأعراب بأنهم يرضون باليسير؛ دلالة على تأثر الإنسان ببيئته؛ فالأعراب أهل كفاف فلذلك يقنعون باليسير.
  • كثرة فضائل عبد الله بن عمر، فمنها شدة وفائه وحبه لأبيه، ووَصْلِ أحبائه بعد موته، واستجابته لسنة رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وإنفاقه من طِيب ماله، وإيثاره غيره على نفسه.
  • امتثال الصحابة -رضي الله عنهم-، ورغبتهم في الخير ومسارعتهم إليه.
  • من تمام بر الوالدين صِلة أصدقائهما بعد موتهما، وصورة ذلك: أنَّه إذا كان لأبيك أو أمك أحد بينهم وبينه وُدٌّ فأكرمه، كذلك إذا كان هناك نسوة صديقات لأمك؛ فأكرم هؤلاء النسوة، وإذا كان رجال أصدقاء لأبيك؛ فأكرم هؤلاء الرجال، فإن هذا من البر بهما، ويحصل بالقليل، فمن لم يجد فبالزيارة أو الكلمة الطيبة.
  • سعة رحمة الله -عز وجل-، حيث إنَّ البِرَّ بابه واسع لا يختص بالوالد والأم فقط؛ بل حتى أصدقاء الوالد وأصدقاء الأم، إذا أحسنت إليهم فإِنَّما بررت والديك فتثاب ثواب البار بوالديه.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید