حدیث

يا رسول الله! لوگوں کو کیا ہوا کہ انھوں نے احرام کھول دیا ہے، حالاںکہ آپ نے ابھی تک اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا ہے؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو گوندھ رکھا ہے اور اپنی ہدی (قربانی کے جانور) کو قلادہ پہنا رکھا ہے۔ اس لیے میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا (احرام نہیں کھول سکتا) جب تک اپنی ہدی نحر نہ کر لوں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن حَفْصَة زَوْج النَّبِي رضي الله عنها قالت: «يَا رَسُولَ اللَّه، مَا شَأن النَّاس حَلُّوا مِنَ العُمرَة، وَلَم تَحِلَّ أنت مِنْ عُمْرَتِكَ؟ فَقَال: إنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدتُ هَدْيِي، فَلا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ».

ترجمہ

زوجہ رسول ﷺ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: يا رسول الله! لوگوں کو کیا ہوا کہ انھوں نے احرام کھول دیا ہے، حالاں کہ آپ نے ابھی تک اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولاہے؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں نے اپنے سر کے بالوں کو گوندھ رکھا ہے اور اپنی ہدی (قربانی کے جانور) کو قلادہ پہنا رکھا ہے۔ اس لیے میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا (احرام نہیں کھول سکتا)، جب تک اپنی ہدی نحر نہ کر لوں۔

تشریح

نبی ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرہ اور حج کے لیے احرام باندھا، ہدی ساتھ لیا اورسر کے بالوں کو منتشر ہونے سے روکنے کے لیے چپکا لیا؛ کیوں کہ آپ کا احرام لمبا ہونا تھا۔ آپ ﷺ کے کچھ صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ احرام باندھ لیا۔ ان میں سے بعض نے عمرہ کے لیے احرام باندھا؛ اس نیت کے ساتھ کہ وہ اسے کھول کر حج کے لیے نیا احرام باندھیں گے۔ اکثر صحابہ اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہیں لائے تھے۔ تاہم بعض ہدی کا جانور ہم راہ لائے تھے۔ جب وہ مکہ پہنچے اور طواف و سعی کرچکے، تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ہدی کے جانورساتھ نہیں لائے تھے اور حج افراد اور حج قران کی نیت سے آئے تھے، انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو فسخ کرتے ہوئے اسے عمرہ بنا لیں اور احرام کھول لیں۔ تاہم خود نبی کریم ﷺ اور وہ لوگ جو اپنے ساتھ ہدی کا جانور لائے تھے، انھوں نے اپنا احرام باقی رکھا اور حلال نہ ہوئے۔ اس پر آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ لوگوں نے کیوں احرام کھول دیا ہے، حالاں کہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟۔ آپ ﷺ نے جواب دیا: کیوں کہ میں نے اپنے سر کو گوندھ رکھا ہے (یعنی کسی چپکانے والی شے سے بالوں کو جما رکھا ہے) اور اپنی ہدی کے جانور کو بھی قلادہ پہنا کر ساتھ لایا ہوں، اس وجہ سے میں احرام نہیں کھول سکتا، تاوقتے کہ ہدی اپنے مقام پر پہنچ جائے۔ یعنی حج پورا ہونے کا دن جو کہ یوم النحر ہے آ جائے۔

تشریح: العربية

أحرم النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع بالعمرة والحج، وساق الهدي ولبد رأسه بما يمسكه عن الانتشار؛ لأن إحرامه سيطول، وأحرم بعض أصحابه كإحرامه، وبعضهم أحرم بالعمرة متمتعًا بها إلى الحج، وأكثرهم لم يسق الهدي، وبعضهم ساقه، فلما وصلوا إلى مكة وطافوا وسعوا أمر من لم يسق الهدي من المفردين والقارنين أن يفسخوا حجهم ويجعلوها عمرة ويتحللوا، أما هو صلى الله عليه وسلم ومن ساق الهدي منهم فبقوا على إحرامهم ولم يحلوا، فسألته زوجه حفصة رضي الله عنها لماذا حل الناس ولم تحل؟ قال: لأني لبدت رأسي، وقلدت هديي وسقته، وهذا مانع لي من التحلل حتى يبلغ الهدي محله، وهو يوم انقضاء الحج يوم النحر.

  • حرص الصحابة -رضي الله عنهم- على العلم.
  • إذا لم يسق القارن والمفرد الهدي، فيشرع له فسخ حجه إلى عمرة، ويحل منها، ثم يحرم بالحج في وقته ويكون متمتعًا.
  • أكثر الصحابة الذين حجوا مع النبي -صلى الله عليه وسلم- تحللوا بعمرة.
  • كون النبي -صلى الله عليه وسلم- حج قارنًا.
  • مشروعية تلبيد المحرم رأسه إذا كان سيطول زمن إحرامه؛ لئلا تتراكم فيه الأوساخ فيتأذى بذلك.
  • مشروعية سوق الهدي من الأماكن البعيدة، وأنه سنة النبي -صلى الله عليه وسلم-.
  • مشروعية تقليد الهدي، وذلك بأن يوضع في رقابها قلائد من الأشياء التي لم يجر عادة بتقليدها بها، والحكمة في ذلك إعلامها؛ لتحترم فلا يتعرض لها.
  • سوق الهدي من الحل يمنع المحرم من التحلل حتى ينحر هديه يوم النحر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید