حدیث

وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا، پھر اس پر چھینٹے مارے اور اسے دھویا نہیں۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحيحمتفق عليه

عربی متن

عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ رَضيَ اللهُ عنها: أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجْرِهِ، فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ، فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ.

ترجمہ

امّ قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ اس نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا، پھر اس پر چھینٹے مارے اور اسے دھویا نہیں۔

تشریح

ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کے پاس اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں، جو اپنی کم سنی کی وجہ سے ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ بچے نے آپ ﷺ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ اس پر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور اسے اپنے کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے دھویا نہیں۔

فوائد

  • اللہ کے نبی ﷺ کے اخلاقِ کریمہ، اور آپ کی بے پناہ تواضع۔
  • حسن سلوک، تواضع اور چھوٹوں کے ساتھ نرمی برتنے، بچوں کی عزت کرکے اور انہیں گود میں بٹھا کر بڑوں کی دل جوئی کرنے، وغیرہ کی ترغیب۔
  • لڑکے کا پیشاب نا پاک ہے خواہ وہ رغبت کے ساتھ کھانا نہ کھاتا ہو۔
  • نبی ﷺ کے اس فعل کو نَضْح (چھڑکاؤ) کہا جاتا ہے، یہ اس دودھ پیتے لڑکے کے ساتھ خاص ہے جو ابھی کھانا نہ کھاتا ہو۔ البتہ لڑکی کے پیشاب کو دھونا واجب ہے، چاہے وہ دودھ پیتی ہی کیوں نہ ہو۔
  • شیرخوار لڑکے کے پاخانے کو دیگر ناپاکیوں کی طرح دھونا لازم ہے۔
  • غسل صرف جسم تک پانی پہنچا دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ غسل کے لیے اس کے علاوہ بھی کچھ کام مشروط ہیں۔
  • بہتر یہ ہے کہ نجاست کی جگہ کو فوراً پاک کر لیا جائے، تاکہ ناپاکی سے جلد طہارت حاصل ہو اور انسان اسے بھول نہ جائے۔
تشریح: العربية

أتتْ أمُّ قيس بنت محصن رضي الله عنها إلى النبي صلى الله عليه وسلم بابن لها لم يبدأ بأكل الطعام من صغر سنه، فأجلسه صلى الله عليه وسلم في حجره، فبال الصبي على ثوبه صلى الله عليه وسلم، فطلب ماء، ورشه على ثوبه ولم يغسله.

  • أخلاق النبي صلى الله عليه وسلم الكريمة، وتواضعه الجم.
  • الندب إلى حسن المعاشرة والتواضع والرفق بالصغار، وجبر قلوب الكبار بإكرام أطفالهم وإجلاسهم في الحجر، ونحو ذلك.
  • نجاسة بول الغلام وإن لم يأكل الطعام لشهوة.
  • فعل النبي صلى الله عليه وسلم يسمى نَضْحًا، وهو خاص بالطفل الصغير الذكر الذي لم يبدأ بأكل الطعام، أما الأنثى فلا بد من غسل بولها حتى ولو كانت صغيرة.
  • عَذِرَةُ الغلام الذي يتقوَّت من لبن أمه لا بُدَّ فيها من الغسل كسائر النجاسات.
  • الغسل لا بد فيه من أمر زائد على إيصال الماء.
  • الأولى المبادرة بتطهير محل النجاسة؛ للمسارعة في التطهر من الخبث؛ ولئلَّا ينسى.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید