حدیث

میں نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ چمڑے سے بنے ایک سرخ خیمے میں مقیم تھے۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ (آپ ﷺ کے) وضو کا پانی لے کر نکلے، تو کوئی ان سے براہ راست یہ پانی لے رہا تھا اور کوئی اس سے یہ پانی لے رہا تھا جس نے ان سے لیا تھا۔

ماخذ: HadeethEnc.com, اردو v1.36.0

صحیحمتفق علیہ

عربی متن

عن أبي جُحَيْفَةَ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّوَائِيِّ رضي الله عنه قال: «أَتَيتُ النَبِيَّ صلى الله عليه وسلم وهو في قُبَّةٍ لَهُ حَمرَاءَ مِن أَدَمٍ، قال: فَخَرَج بِلاَل بِوَضُوءٍ، فمن نَاضِحٍ ونَائِلٍ، قال: فَخَرَجَ النبِيَّ صلى الله عليه وسلم عليه حُلَّةٌ حَمرَاءُ، كَأَنِّي أَنظُرُ إلى بَيَاضِ سَاقَيهِ، قال: فَتَوَضَّأ وأَذَّن بِلاَل، قال: فَجَعَلَتُ أتَتَبَّعُ فَاهُ هَهُنَا وهَهُنَا، يقول يمِينا وشِمالا: حَيَّ على الصَّلاة؛ حيَّ عَلَى الفَلاَح. ثُمَّ رَكَزَت لَهُ عَنَزَةٌ، فَتَقَدَّمَ وصلى الظُهرَ رَكعَتَين، ثُمَّ لَم يَزلَ يُصِلِّي رَكعَتَين حَتَّى رَجَعَ إِلى المَدِينَة».

ترجمہ

ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ السوائی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں: میں نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ چمڑے سے بنے ایک سرخ خیمےمیں مقیم تھے۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ (آپ ﷺ کے) وضو کا پانی لے کر نکلے، تو کوئی ان سے یہ پانی لے رہا تھا اور کوئی اس سے یہ پانی لے رہا تھا، جس نے ان سے لیا تھا۔ پھر نبیﷺ سرخ جبہ زیب تن فرمائے باہر تشریف لائے۔ میں گویا (اب بھی چشم تصور سے) آپ ﷺ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بلال رضی اللہ عنہ نے وضو کیا اور اذان دی۔ وہ کہتے ہیں: میں ان کے منہ کےساتھ ساتھ اپنے منہ کو ادھر ادھر پھیرنے لگا۔ وہ دائیں بائیں منہ کر کے حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہہ رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ کے لیے (بطور سترہ) ایک چھڑی گاڑ دی گئی۔ آپ ﷺ آگے بڑھے اور ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ مدینہ واپس تشریف لے آنے تک آپ ﷺ دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔

تشریح

نبی ﷺ بالائی مکہ کے ایک کشادہ مقام پر مقیم تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کے باقی ماندہ پانی کو لے کر باہر آئے، تو لوگ اس سے برکت حاصل کرنا شروع کر دیے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے منہ کو دیکھنے لگا۔ وہ ”حی علی الصلوۃ“ اور ”حی علی الفلاح“ کہتے ہوئے دائیں بائیں مڑ رہے تھے؛ تاکہ سب لوگوں کو یہ سنائی دے سکیں، کیوں کہ ان دونوں جملوں میں نماز کے لیے آنے کی ترغیب ہے۔ پھر نبی ﷺ کے لیے ایک چھوٹا سا نیزہ گاڑ دیا گیا؛ تا کہ وہ آپ ﷺ کی نماز کے دوران سترہ کا کام دے۔ پھر آپ ﷺ نے ظہر کی دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ مسافر ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ جب تک مدینہ واپس نہیں آگئے، تب تک چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔

تشریح: العربية

كان النبي صلى الله عليه وسلم نازلًا في الأبطح في أعلى مكة، فخرج بلال بفضل وضوء النبي صلى الله عليه وسلم ، وجعل الناس يتبركون به، وأذن بلال. قال أبو جحيفة: فجعلت أتتبع فم بلال، وهو يلتفت يمينًا وشمالًا عند قوله: "حي على الصلاة حي على الفلاح" ليسمع الناس حيث إن الجملتين حث على المجيء إلى الصلاة، ثم رُكِزَت للنبي صلى الله عليه وسلم رمح قصيرة لتكون سترة له في صلاته، فصلى الظهر ركعتين، ثم لم يزل يصلي الرباعية ركعتين حتى رجع إلى المدينة، لكونه مسافرًا.

  • مشروعية التفات المؤذن يمينا وشمالا عند قوله: (حي على الصلاة، حي على الفلاح) والحكمة في هذا تبليغ الناس ليأتوا إلى الصلاة؛ لأن هاتين الجملتين نداء ومخاطبة للناس، وما عداهما ذكر لله تعالى؛ لذلك خصتا بالالتفات.
  • مشروعية قصر الرباعية إلى ركعتين في السفر.
  • المسافر يقصر وإن كان في بلد تزوج فيه، أو استوطنه سابقًا.
  • مشروعية السترة أمام المصلي ولو في مكة.
  • شدة محبة الصحابة للنبي -صلى الله عليه وسلم- وتبركهم بآثاره، وهذا التبرك خاص به -صلى الله عليه وسلم-.
  • تواضع النبي -صلى الله عليه وسلم- حيث كان مخيمه تلك القبة الصغيرة من الجلود.
  • جواز لبس الحلة الحمراء الغير الخالصة في الحمرة.
  • جواز تشمير الرجل ثوبه عن ساقيه لاسيما في السفر.
  • الساقين ليسا من العورة.
  • مشروعية الأذان في السفر.

موضوعات

غلطی کی اطلاع دیں

مزید